سرد جنگ کی بیمار ذہنیت

سرد جنگ کی بیمار ذہنیت

شاید ہی کسی نے سوچاہوکہ ایک وقت ایسا بھی آئے گا جب امریکہ یوں پاکستان کے در پہ آزار ہوگا کہ امریکہ اور بھارت کے رویوں میںحد ِامتیاز قائم کرنا مشکل ہوگا۔چین پاکستان کا ہمسایہ ،سدا بہار دوست ،آڑے وقت میں کام آنے والاسہی مگر اس کے باجود ایک عام پاکستانی کے لئے یہ ان دیکھی دنیا ہی رہی یہی وجہ ہے کہ دونوں ملکوں میں سماجی سطح پر اس قدر گہرے روابط پیدا نہ ہو سکے جس قدر تعلقات بیتے ہوئے ماہ وسال میں امریکہ کے ساتھ فروغ پذیر ہے ۔پاکستان میں اعلیٰ تعلیم سے اچھی ملازمت اور سیاحت سے سفارت کاری تک ہر شخص ’’امریکہ چلو ‘‘ کا خبط کا شکار ہے ۔دونوں ملکوں کے تعلقات کا اتار چڑھائو ہر دور میں جاری رہا مگر گرین کارڈ کے حصول کی خواہش میں کبھی کمی نہیں آئی ۔پاکستان کے جغادری حکمرانوں سے طاقتور سیاست دانوں ،جاگیرداروں ،سرمایہ داروں ،مذہبی سکالرز ،پروفیشنلز اورفنکاروں تک اس کوشش میں رہے کہ امریکی سفیر اور سفارت کار ان پر نظر کرم کریں ۔امریکی این جی اوز تک ان کی رسائی ہو۔وہاں کے تعلیمی اداروں میں ان کا داخلہ ممکن ہو سکے۔اکثر کی یہ خواہش پوری بھی ہوئی اور آج لاکھوں پاکستانی امریکہ کے شہری بن کر اس ملک کی تعمیر وترقی میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔امریکہ نے بھی پاکستان سے کام لیا مگر جم کر دھن اور دولت کے ذریعے اس پر مہربان بھی ہوا ۔امریکہ اس جنگ سے’’ ورلڈ چمپئن ‘‘بن کر اُبھرا تو پاک امریکہ تعلقات کے چھتنار شجرکواندر ہی اندر سے گھن لگنا شروع ہوگیا ۔ہر گزرتے دن کے ساتھ پاکستان خود کو امریکہ سے دور اور بھارت کو قریب ہوتے دیکھ کر خود کو’’ منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے ‘‘کی کیفیت میں پاتا رہا۔پاک امریکہ تعلقات میں بگاڑ کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے اور یہ سلسلہ اس وقت تک رکنے کا امکان نہیں جب تک کہ امریکہ اورپاکستان کے دفاعی تصورات کا تضاد کم نہیں ہوتا اور اس تضاد کا اول وآخر عنوان بھارت ہے۔ان تعلقات کا نوحہ تو امریکی صدر سے لے کر اعلیٰ عہدیداروں اور سفارت کاروں تک ہر کوئی پڑھتا ہے مگر ان تعلقات کا جوابی نوحہ قومی سلامتی کے مشیر جنرل ناصر جنجوعہ نے بھی پڑھاہے ۔جنرل ناصر جنجوعہ نے اسلام آباد میںنیشنل سیکورٹی پالیسی سمینار سے خطاب کرتے ہوئے پاک امریکہ اور پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے بہت چونکا دینے والی باتیں کی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں دہشت گردی امریکہ کی وجہ سے ہے۔امریکہ نے کشمیر پر بھارت سے گٹھ جوڑ کر لیا ہے‘ امریکہ کشمیر پر بھارت کی زبان بول رہا ہے اور سی پیک کی مخالفت پر اُتر آیا ہے۔مشیر قومی سلامتی کا یہ دوٹوک پیرایہ ٔ اظہار پاک امریکہ تعلقات کی آخری ہچکیوں کے مترادف ہے ۔ان تعلقات پر جو کبھی گرم جوش ،گہرے اور طویل المیعاد نہیں رہے اب نزع کا عالم طاری ہے ۔اب جو تھوڑا بہت بھرم ہے وہ پاکستان کی روایتی مصلحت پسندی اور احتیاط سے تعلق رکھتا ہے وگرنہ امریکہ نے ان تعلقات کو ختم کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔امریکی صدر ٹرمپ نے یہ کہہ کر کہ امریکہ بھارت کو خطے میں قائدانہ کردار دینا چاہتا ہے ،ان تعلقات کے تابوت میں اپنی طرف سے آخری کیل ٹھونک دی ہے ۔ٹرمپ نے بھارت کو قائدانہ کردار دینے اور افغانستان کو شراکت دار قراردیا جبکہ پاکستان کے لئے امریکہ کے پاس طعنہ ودشنام کے سوا کچھ نہیں تھا ۔پاکستان کے علاوہ جن دو ملکوں کو امریکہ نے اپنا حریف قرار دیا ان میں چین اور روس جیسے اہم ترین ملک شامل تھے ۔امریکہ نے افغانستان میں اپنے قیام کو طوالت دے کر خطے کے تمام اہم ممالک کے کان کھڑے کر دئیے جس سے چین اور روس کا چونک جانا فطری امرتھا۔
پاکستان کو تو امریکہ کی افغانستان میں موجودگی نے لہو لہو کر ڈالا ۔امریکہ نے افغا نستان میں حاصل ہونے والی تمام سپیس میں بھارت کو شراکت دار بنا دیا اور افغانستان کو پاکستان کا بدترین مخالف ملک بناڈالا ۔امریکہ کی اس پالیسی کی وجہ سے پاکستان اور امریکہ کی پالیسیوں میں گہرا تضاد پیدا ہو گیا اور پاکستان کو مطمئن کئے اور ساتھ رکھے بغیر امریکہ افغانستان میں فتح حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکتا تھا نہ ایسا ہوا۔امریکہ نے ایشیا کی قیادت کی باگیں چین سے چھین کر بھارت کے حوالے کرنے کی جو کوشش کی‘ مصنوعی ، ناپائیدار اور سطحی تھی۔چین اور بھارت کی معیشتوں اور پالیسیوں میں زمین آسمان کا فرق تھا مگر امریکہ نے چین کا مقابلہ کرنے کے لئے بھارت کا قد مصنوعی طور پر اونچا کرنے کی احمقانہ پالیسی اختیار کی ۔اس کا نتیجہ یہ نکلاکہ افغانستان میں فتح حاصل ہوئی نہ پاکستان جیسا تابع مہمل ملک قابو میں رہ سکا ۔اب حالات اس نہج پر پہنچ گئے ہیں کہ پاکستان کی قومی سلامتی کے مشیر امریکہ پر بھارت کی زبان بولنے کا الزام عائد کررہے ہیں اور امریکہ پاکستان کو شمالی کوریا کی طرح حملوں کی دھمکیاں دے رہا ہے مگر پاکستان ابھی آنکھوں کا پانی زندہ رکھتے ہوئے شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان جیسا لب ولہجہ اختیار نہیں کرتا ۔یہ وہ کیفیت ہے جس پر چین کے اعلیٰ سفارتی اہلکار نے بہت صائب تبصرہ کیا ہے کہ امریکہ سر د جنگ کی ذہنیت سے باہر نکلے ۔حقیقت میں امریکہ سرد جنگ کے ایک اور دور کو دعوت دے رہا ہے اور فی الحال اس ذہنیت سے چھٹکارہ پانے کی کوئی صورت نہیں بن رہی ۔ اسی لئے دنیا میں نئے خطرات پیدا ہو رہے ہیں ۔

متعلقہ خبریں