قائد اعظم کی جدوجہد ، اصول اور ہمارے مسائل

قائد اعظم کی جدوجہد ، اصول اور ہمارے مسائل

اعظم کی یوم پیدائش کے موقع پر بعض اہم سوال ہمارے سامنے کھڑے ہیں ، سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ہم نے بانی پاکستان کے افکار و نظریات پر کس حد تک عمل کیا ہے ، قائد اعظم نے ہمارے لئے جو راہ متعین کی تھی اور ہمیں واضح پیغام دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایمان ، تنظیم اور یقین محکم، تو اس پیغام کا ہم نے بحیثیت قوم کیا حشر کیا ، اس پر کس حد تک گامزن رہے ، ظاہر ہے اس حوالے سے ہمارا جواب کسی حوصلہ افزاء صورتحال کی نشاندہی کرتا دکھائی نہیں دیتا ، تعلیمات قائد کو بھلانے میں ہم نے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا ۔ اور بد قسمتی کی انتہا یہ ہے کہ فرمودات قائد اعظم کو ہم نے صرف خاص مواقع پر ایک فیشن کے طور پر قوم کے سامنے لا کران خاص مواقع کو نمٹانے کی حکمت عملی اختیار کر رکھی ہے ۔ بلکہ مزید بد قسمتی یہ بھی ہے کہ ملک میں سیاسی نظام کے قیام پر قائد اعظم کے خیالات کے حوالے سے بھی ہم نے ایسا رویہ اختیار کر رکھا ہے کہ ان کے نظریات واضح ہو کر سامنے نہیں آتے ، اس ضمن میں ان کے گیارہ ستمبر کی ایک تقریر کا حوالہ بھی دیا جاتا ہے جس کے بارے میں دعوے کئے جاتے ہیں کہ اس تقریر کو جان بوجھ کر غائب کر دیا گیا تاکہ ملک میں سیاسی نظام پر ابہام پیدا کیا جائے ، بہر حال ان تمام باتوں سے قطع نظر بر صغیر میں تحریک آزادی پر نظر دوڑائی جائے تو صورتحال بڑی حد تک واضح ہو کر سامنے آجاتی ہے ، اس حوالے سے قائد اعظم کا کردار بھی روشن مینار بن کر دکھائی دیتا ہے جن کے تد بر اور بصیرت نے مسلمانان ہند کو انگریزوں سے غلامی دلانے میں اہم کردار ادا کرتے ہوئے اس تحریک کو منزل کی راہ دکھائی جس نے سراج الدولہ اور ٹیپو سلطان جیسے رہنمائوں کی قیادت میں صدیوں پہلے آغاز کیا تھا ۔ بقول شاعر 

نگہ بلند ، سخن دلنواز ، جاں پر سوز
یہی ہے رخت سفر میرکارواں کے لئے
مفکر پاکستان حضرت علامہ اقبال ؒ نے بستر علالت سے جو خط 11جون 1937ء کو قائد اعظم کو لکھا اس میں علامہ صاحب تحریر کرتے ہیں ’’میں آپ کی مصروفیات سے بخوبی آگاہ ہوں لیکن سمجھتا ہوں کہ ہند وستان میں آپ کی ذات ایسی ہے جس سے قوم کو یہ توقعات وابستہ کرنے کا حق ہے کہ مستقبل میں جو سیلاب آنے کا خدشہ ہے اس وقت صرف آپ ہی ملت کی رہنمائی کر سکتے ہیں ‘‘۔ دراصل حضرت علامہ اقبال ، قائد اعظم کی سیاسی بصیرت نہرو رپورٹ کے سلسلے میں پر کھ چکے تھے ، نہرو رپورٹ ایسے آئین پر مشتمل تھی جس میں جنوبی ایشیاء کے د س کروڑ مسلمانوں کو آزادی سے محروم رکھا گیا تھا ، اس کے مقابلے میں قائد اعظم نے چودہ نکات پیش کئے جو ’’جناح کے چودہ نکات ‘‘ کہلاتے ہیں ، ان نکات پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ تصور پاکستان کی ابتداء اسی سے ہوئی۔ کانگریس ان نکات کو ماننے پر تیار نہیں تھی اور مسلمانوں کو ان کے جائز سیاسی حقوق سے محروم کرنے پر تلی ہوئی تھی۔ لیکن قائد اعظم محمد علی جناح مسلمانوں کے ملی تشخص کا سودا کسی قیمت پر کرنے کے لئے تیار نہ تھے۔ 1940ء کے ایک اجلاس منعقدہ لاہور میں قائد اعظم نے خطاب کرتے ہوئے انگریزوں اور ہندوئوں پر واضح کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ہندو اور مسلمان دو الگ مذہبی فلسفوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے معاشرتی رواج الگ الگ ہیں۔ ان کا ادب الگ ‘ ایک دوسرے کے ساتھ شادی بیاہ کے ناتے نہیں کرتے۔
یہ دو مختلف تہذیبوں سے تعلق رکھتے ہیں اور پھر یہ بات بھی واضح ہے کہ یہ روشنی حاصل کرتے ہیں تو تاریخ کے دو مختلف سر چشموں سے۔ ان کی رزمیہ داستانیں الگ ہیں‘ ہیرو الگ ہیں‘ قابل فخر کارنامے الگ ہیں‘ قوم کی کوئی بھی تعریف کیجئے مسلمان الگ قوم ہیں اس لئے انہیں حق حاصل ہے کہ اپنا الگ قومی وطن بنائیں‘‘۔ اس دلیل کے بعد ہی مسلمانان بر صغیر نے علیحدہ وطن کے حوالے سے قرار داد منظور کی جسے قرار داد پاکستان کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ اس قرار داد نے جہاں بر صغیر کے مسلمانوں کو ایک واضح نصب العین دیا اور انہوں نے اپنے لئے ایک علیحدہ وطن کے قیام کے لئے جدوجہد کا آغاز کیا وہاں کانگریس‘ مہاسبھا بلکہ پوری غیر مسلم اکثریت اور انگریز اس قرار داد کی مخالفت پر تل گئے۔ مخالفین سرمائے کے انبار رکھتے تھے۔ اخبارات پر ان کی اجارہ داری تھی۔ پروپیگنڈے کا سامان تھا جبکہ ان کے مقابلے میں مسلمانان ہند غربت کی چکی میں پس رہے تھے۔ بے سر و سامانی کی کیفیت سے دو چار تھے مگر ان کے پاس قوت ایمانی تھی اور قائد اعظم جیسا عظیم مدبر تھا جس کی سیاسی بصیرت اور بھرپور مدبرانہ قیادت مسلمانوں کے لئے ایک عظیم سرمائے سے کسی طور کم نہ تھی۔ قائداعظم نے قوم کو عزم و حوصلہ دیا‘ مضبوط ارادہ دیا اور خود پامردی سے میدان عمل میں ڈٹ گئے جبکہ قوم نے ان کے عزم و حوصلے سے روشنی حاصل کرکے ثابت قدمی سے آزادی کے لئے جدوجہد شروع کی۔ کمیونل ایوارڈ ہو یا قرار داد پاکستان‘ کرپس مشن کی تجاویز ہوں یا ہندوستان چھوڑ دو کی تحریک‘ وزارتی مشن کی تجاویز ہوں یا 3جون 1947ء کا لارڈ مائونٹ بیٹن والا پلان‘ شملہ کانفرنس ہو یا گول میز کانفرنس‘ ہر جگہ قائد اعظم کی سیاسی بصیرت کامیاب ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ بالآخر انگریز اور کانگریس دونوں کو قیام پاکستان کے مطالبے کو تسلیم کرنا پڑا۔ پاکستان بن گیا تو قائد اعظم نے کہا‘ پاکستان بن گیا‘ اب روئے زمین کی کوئی طاقت اسے ختم نہیں کر سکتی۔ تاہم جن مسائل کا آج ہمیں سامنا ہے ان سے عہدہ برآہونے کے لئے ہمیں ایک بار پھر قائداعظم کے اصولوں‘ ایمان‘ یقین محکم اور تنظیم کو اپنانا پڑے گا۔ انہی پر عمل پیرا ہو کر ہم ترقی کی منزل حاصل کرسکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں