اب ایسے مسیحا کہاں؟

اب ایسے مسیحا کہاں؟

ڈاکٹر اور طبیب کو مسیحا اور حکیم بھی کہتے ہیں ۔ طبیب ، حکیم اور مسیحا عربی زبان کے الفاظ ہیں اور بہت بلیغ اور گہرے معنوں کے حامل ہیں ۔ طبیب اور حکیم اردو، پشتو اور بعض دیگر زبانوں میں بھی ڈاکٹر کے مترادف کے طور پر استعمال ہوتے رہے ہیں ، لیکن یہ ذرا پرانے وقتوں کی بات ہے لیکن جب سے طب اور طبابت مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل کر یورپ کے ساتھ مہارت اور سپیشلائز یشن کے سبب منسلک ہوگئے تب سے طبیب اور حکیم ، ڈاکٹر کہلا نے لگے ۔۔اور طب سے متعلق علوم بھی ایلوپیتھی اور ہو میو پیتھی اور کئی ایک دیگر شاخوںمیں تقسیم ہوگئے ۔صنعتی ترقی کے باعث اس اہم شعبے میں مغرب کا پلڑا بھاری ہوتا چلا گیا ، یہاں تک کہ وطن عزیز کے قیام کے بعد یہاں سے طب کی تعلیم کے حصول کے لئے حکومتی تعاون و خواہش پر مغرب چلے گئے اور وہاں سے طب کی ڈگری اور مہارت حاصل کر کے واپس آئے۔ڈاکٹروں کے لئے ’’مسیحا ‘‘کا لفظ اس لئے استعمال ہونے لگا کہ جس طرح حضرت عیسیٰ ؑ کو اللہ تعالیٰ نے یہ معجزہ عطا فرمایا تھا کہ مردے کو ہاتھ لگا کرفرماتیکہ ’’قُم باذن اللہ ،اللہ کے حکم سے اُٹھو ‘‘۔ تو میت میں جان پڑ جاتی ۔ دکھی انسانیت کی خدمت حقیقت میں گویا مسیحائی ہی ہے ۔ حضرت عیسیٰ ؑ کو مسیح (علیہ اسلام ) اس لئے کہا جاتا ہے کہ مسیح کے معنی ہاتھ لگا نا ہے اور آپ ؑ مریض کو ہاتھ لگاتے تو شفایاب ہو جاتے ۔ اس لحاظ سے یہ کتنا بڑا اعزاز ہے کہ ہمارے ڈاکٹروں کو عوام نے ان کی خدمت انسانیت کے بدلے میں ’’مسیحا‘‘ کا خطاب دیا۔ اور حق بات یہ ہے کہ جس زمانے میں ہمارے ڈاکٹروں کو یہ خطاب عطا ہوا وہ واقعی مسیحا تھے۔ لیکن پھر‘ برا ہو مادہ پرستی اور سرمایہ پرستی کا کہ ہر شے پیسے کے حساب نام پاتی گئی اور پیسے ہی میں تلتی چلی گئی۔ ڈاکٹر حضرات بھی اسی رو میں بہہ گئے اور پھروہ حال ہوا کہ اللہ دے بندہ لے۔ میڈیکل کاپیشہ اور تعلیم ٹکسال کی صورت اختیار کر گیا۔ 1980ء کے عشرے سے لے کر آج تک بحیثیت مجموعی ہمارے معاشرے کے ہر شعبے کی چولیں ڈھیلی پڑ گئی ہیں۔ لیکن طب اور دوائوں کے شعبوں کی کہانی بہت گورکھ‘ دلچسپ‘ عبرت انگیز اور خطرناک ہے۔ لہٰذا اس پر تفصیلی بحث کسی اور نشست کے لئے اٹھا لیتے ہیں۔ آج عوام الناس ڈبگری گارڈن اور پشاور کے تین بڑے سرکاری ہسپتالوں کے ڈاکٹروں کا ذکر آنے پر اف اف کرتے ہیں اور بجا طور پر کرتے ہیں۔ لیکن جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ ہر شعبے‘ علاقے‘ ملک اور دنیا کے مختلف خطوں میں اگر اچھے لوگ بالکل ہی نا پید ہوجائیں تو قیامت آجائے گی۔ قیامت کاالتواء دنیا میں اچھے لوگوں کی موجودگی کے طفیل ہے ورنہ برے لوگوں کے ہاتھوں انسانوں پر قیامت صغریٰ تو برپاہوتی رہتی ہے ۔شعبہ طب سے وابستہ بھی ہر علاقے اور ہسپتال میں اچھے ڈاکٹر موجود ہیں جن کی بدولت یہ نظام چل رہا ہے لیکن بعض واقعی مسیحا کہلانے کے مستحق ہیں۔ گزشتہ دنوں ایک تسلسل کے ساتھ میری ملاقات ایسے ہی مسیحائوں سے ہوئی۔ ایک دن میں نے پشاور کے سب سے بڑے ہسپتال کے منتظم اعلیٰ ڈاکٹر روح المقیم کو ہسپتال کی لابی میں سٹریچر پر پڑے دو مریضوں کو خود سٹریچر کھینچتے ہوئے دیکھا تو خوشگوار حیرت ہوئی۔

چند دن بعد کے ٹی ایچ میں ڈاکٹر زرین سرجن کے ساتھ اپنے صاحبزادے کی بیماری کے حوالے سے مشورہ کے لئے ایک ڈاکٹر دوست کی وساطت سے آپریشن تھیٹر کے سرجن آفس پہنچا۔اس دوران ایک سرجن تشریف لائے۔ روشن چہرہ اور پیشانی کے حامل سرجن سے میری شناسائی نہ تھی۔ تعارف کے بعد پتہ چلا کہ شعبہ سرجری کے ہیڈ سرجن مشتاق ہیں۔ اتنے بڑے ڈاکٹر نے جس خوش اخلاقیسے میرے ساتھ میرے سوال پر ہسپتال سے متعلق مثبت معلومات شیئر کیں وہ بہت خوش کن تھیں لیکن ان کی شخصیت کے جس پہلو نے گرویدہ بنایا وہ ان کی انکساری اور تواضع تھی۔سرجن زرین نے جس مستعدی سے صاحبزا دے کی رپورٹ دیکھی اور ان کا معائنہ کیا اور جس خلوص‘ مروت اور رواداری کے ساتھ ہمیں تسلی دی اور رخصت کیا۔ بس ان سب کے لئے ایک احساس تشکر کے علاوہ دل سے بے اختیار یہ الفاظ نکلے کہ اللہ کرے ہمارے سب ڈاکٹر ایسے ہی مسیحا بن جائیں۔اسی طرح ایک اور ملاقات ہوئی تو خوشگوار حیرت میں اضافہ ہونے کے ساتھ اللہ کاشکر ادا کیا کہ وطن عزیز میں قحط الرجال کے باوجود ’’ ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں‘‘ لوگوں کی آنکھوں کے سامنے جب اندھیرا دبیز ہونے لگتا ہے تو ماہرین امراض چشم کے پاس بھاگ کر جاتے ہیں۔ مجھے 1974ء میں آنکھوں کی سخت الرجی ہوئی تھی تو مقامی طور پر کافی علاج کے بعد کسی نے محترم ڈاکٹر محمد دائود خان داوڑ کا نام بتایا تھا۔ ایک ڈراپ لکھوا کر علاج کرایا توآج تک دوبارہ و بیماری نہیں دیکھی۔ پورے تریالیس سال بعد ان کے سامنے بیٹھا تو روشن چہرے اور ماتھے پر جھریوں کے علاوہ کچھ بھی تو نہیں بدلا تھا۔

اداریہ