مشرقیات

مشرقیات

طارق بن زیادؒ دشمن کے قریب پہنچے تو انہوں نے اپنی فوج کے سامنے رب تعالیٰ کی حمد و ثنا کرتے ہوئے مسلمانوں کو جہاد اور شہادت کی ترغیب دلائی اور کہا:
اے لوگو! اب راہ فرار کہاں ہے؟ سمندر تمہارے پیچھے ہے اور دشمن تمہارے آگے۔ خدا کی قسم! تمہارے لئے صدق و صبر کے سوا اور کوئی چارہ نہیں۔ جان لو! تم اس جزیرہ نما میں اس قدر بے وقعت ہو کہ کم ظرف لوگوں کے دستر خوان پر یتیم بھی اتنے بے وقعت نہیں ہوتے۔
تمہارے دشمن اپنے لشکر‘ اسلحے اور وافر خوراک کے ساتھ تمہارے مقابلے میں نکلا ہے۔ ادھر تمہارے پاس کچھ نہیں سوائے اپنی تلواروں کے۔ یہاں اگر تمہاری اجنبیت کے دن لمبے ہوگئے تو تمہارے لئے خوراک بس وہی ہے جو تم اپنے دشمن کے ہاتھوں سے چھین لو۔ اگر تم یہاں کوئی معرکہ نہ مار سکے تو تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی اور تمہاری جرأت کے بجائے تمہارے دلوں پر دشمن کا رعب بیٹھ جائے گا۔ اس سرکش قوم کی کامیابی کے نتیجے میں تمہیں جس ذلت و رسوائی سے دو چار ہونا پڑے گا اس سے اپنے آپ کو بچائو۔میں تمہیں ایسے کسی خطرے میں ڈال نہیں رہا جس میں کودنے سے خود گریز کروں۔
اس جزیرہ نما میں خدا کاکلمہ بلند کرنے اور اس کے دین کو فروغ دینے پر خدا کی طرف سے ثواب تمہارے لئے مقدر ہوچکا ہے۔ یہاں کے غنائم خلیفہ اور مسلمانوں کے علاوہ خاص تمہارے لئے ہوں گے۔ رب تعالیٰ نے کامیابی تمہاری قسمت میں لکھ دی ہے اس پر دونوں جہانوں میں تمہارا ذکر ہوگا۔یاد رکھو! میں تمہیں جس چیز کی دعوت دیتا ہوں اس پر پہلے خود لبیک کہہ رہا ہوں۔ میں میدان جنگ میں اس قوم کے سرکش راڈرک پر خود حملہ آور ہوں گا اور حق تعالیٰ نے چاہا تو اسے قتل کر ڈالوں گا۔ تم سب میرے ساتھ ہی حملہ کردینا۔ اگر اس کی ہلاکت کے بعد میں مارا جائوں تو تمہیں کسی اور ذی فہم قائد کی ضرورت نہیں رہے گی اور اگر میں اس تک پہنچنے سے پہلے ہلاک ہو جائوں تو میرے عزم کی پیروی کرتے ہوئے جنگ جاری رکھنا اور سب مل کر اس پر ہلہ بول دینا۔ اس کے قتل کے بعد اس جزیرہ نما فتح کا کام پایہ تکمیل تک پہنچانا۔ راڈرک کے بعد اس کی قوم مطیع ہو جائے گی۔
(بحوالہ:دفیات الاعیان‘ ج5‘ ص321)
حضرت قتادہؒ فرماتے ہیں‘ جب ابلیس کو آسمان سے بھگایا گیا تو اس نے بار گاہ الٰہی میں عرض کیا: اے ربا! مجھے آپ نے ملعون تو کردیا‘ میرا علم کیا ہوگا؟ فرمایا: جادو۔ کہا میرا قرآن کون سا ہوگا؟ فرمایا: شعر۔ کہا میری کتاب کون سی ہوگی؟ فرمایا: لوگوں کے جسموں پر گودنے (ٹیٹو) کے نشانات۔ کہا میرا کھانا کیا ہوگا؟ فرمایا: ہر مردار اور جس حلال جانور پر خدا کا نام نہ لیا جائے۔ کہا پینا کیا ہوگا؟ فرمایا: شراب۔ کہا رہنا کہاں گا؟ فرمایا: غسل خانوں ( گندگی کی جگہوں) میں۔ کہا: نشست گاہیں کیا ہوں گی؟ فرمایا: بازار۔ کہا: میرا موذن کون ہوگا؟ فرمایا:موسیقی۔ کہا: میرا جال کیا ہوگا‘ فرمایا: عورتیں۔ (ابن ابی الدنیا)

اداریہ