Daily Mashriq


بلدیاتی انتخابات کے نتائج اور مضمرات

بلدیاتی انتخابات کے نتائج اور مضمرات

اگرچہ خیبر پختونخوا میں حکمران جماعت تحریک انصاف بعض جگہوں سے نشستیں نہ جیت سکی لیکن اسے اپ سٹ سے تعبیر نہیں کیا جاسکتا بلکہ اسے معمول کی انتخابی ہار جیت کا حصہ ہی قرار دیا جانا حقیقت پسندانہ امر ہوگا، ووٹروں کی انتخابی عمل میں عدم دلچسپی کی دیگر وجوہات کے علاوہ ایک بڑی وجہ حکومتی اقدامات سے نالاں ہونے سے تعبیر کرنے کی گنجائش ضرور ہے۔ ہمارے نمائندے کے مطابق خیبر پختونخوا میںہونے والے ضمنی بلدیاتی انتخابات میں ووٹرز کی عدم دلچسپی دیکھنے میں آئی ہے۔ اُمیدواروں کی جانب سے ووٹرز کو پولنگ سٹیشنز تک لانے اور لے جانے کیلئے اگرچہ گاڑیوں کا انتظام بھی کیا گیا تھا تاہم اس کے باوجود اُمیدوار ووٹرز کو پولنگ سٹیشنز تک لانے میں کامیاب نہ ہوسکے۔نئے بلدیاتی نظام کی بازگشت اور موجودہ بلدیاتی نظام کے اختتام میں محض 8ماہ رہ جانے کے باعث ضمنی بلدیاتی انتخابات میں اُمیدواروں اور پارٹی ورکرز کی دلچسپی معمول سے کم ہونا فطری امر ضرور ہے لیکن انتخابات میں حصہ لیا جائے تو پھر مقابلے کی کیفیت خودبخود پیدا ہوجاتی ہے، جس میں سردمہری اور عدم دلچسپی کی گنجائش نہیں۔ صورتحال کے تناظر میں ایسا لگتا ہے کہ ضمنی بلدیاتی انتخابات میں اُمیدواروں نے صرف پارٹی نمائدگی ملتے ہی حصہ لیا جس کے باعث الیکشن مہم زور وشور سے نہیں چلائی گئی۔ سیاسی ماہرین کے مطابق موجودہ سال کا بجٹ پہلے ہی پیش کیا جا چکا ہے اس لئے اُمیدوار صرف پارٹی کی نمائندگی کیلئے ہی میدان میں اُترے ۔بلدیاتی انتخابات میں گہما گہمی اور جوش وخروش کی زیادہ گنجائش اس بنا پر ہوتی ہے کہ زیریں سطح کے ان انتخابات میں ووٹروں اور حامیوں کو متحرک کرنے کا عنصر عام انتخابات کی بہ نسبت زیادہ ہوتا ہے دیگر پارٹیوں کی بہ نسبت حکمران جماعت تحریک انصاف کے کیمپوں میں کھلاڑیوں کاجنون نظر نہ آنا اس امر پر دال ہے کہ جنون کو اب قرار آنے لگا ہے۔ تحریک انصاف کا گڑھ سمجھے جانے والے صوبائی دارالحکومت میں جنون کا ماند پڑ جانا، بنوں اور چارسدہ میں تحریک انصاف کو شکست ضلعی سطح پر کسی تبدیلی کا باعث تو نہیں لیکن بہرحال حکمران جماعت کی شکست اس لئے معنی ضرور رکھتی ہے کہ خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلی کے ضمنی انتخابات میں تحریک انصاف کی خالی نشستوں پر بھی اس کے امیدواروں کو شکست ہوچکی ہے۔ اس تمام صورتحال کا آئندہ کے بلدیاتی انتخابات پر اثرانداز ہونا فطری امر ہوگا۔ حکمران جماعت کو ضمنی انتخابات میں صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر شکست اور بلدیاتی انتخابات میں ان کے کارکنوں کی عدم دلچسپی کے اسباب وعلل کا تفصیل سے جائزہ لیکر آئندہ کی حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔صوبے میں پہلی مرتبہ تمام تر ضمنی بلدیاتی انتخابات پولیس کی نگرانی میں ہونے اور پرامن طور پر انتخابات کا انعقاد صوبے میں امن وامان کی صورتحال میں بہتری آنے کا واضح ثبوت ہے، جو جہاں ایک طرف باعث اطمینان ہے وہاں دوسری جانب اسے پولیس کے بہتر انتظامات سے بھی تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ضمنی بلدیاتی انتخابات کے دوران پولنگ سٹیشن کے اندر موبائل فون لے جانے پر عائد پابندی کے باوجود خلاف ورزی اور پولنگ سٹیشن کے اندر اپنی پسند کے اُمیدوار کو ووٹ دیکر اس کی تصویر موبائل میں محفوظ کر کے تصویر کو سوشل میڈیا پر ڈال دینا انتخابی قوانین اور پابندیوں پر عدم عمل درآمد کا ثبوت ہے جس کا الیکشن کمیشن کو نوٹس لینا چاہئے۔بلدیاتی انتخابات کے نتائج بہر حال حکمران جماعت کیلئے صورتحال کیلئے تیار رہنے کا عندیہ ضرور ہیںکہ آئندہ بلدیاتی انتخابات کے نتائج سے اُن کو عدم اطمینان کا سامنا نا ممکن نہیں ۔

ہوائی فائرنگ کی روک تھام میں پولیس کی ناکامی

پشاور میں ہونے والی ضمنی بلدیاتی انتخابات مکمل ہونے کے بعد سیاسی جماعتوں کے ورکرز کی ہوائی فائرنگ پولیس کی سراسر ناکامی کا ثبوت ہے جس کی گنجائش نہیں ہونی چاہئے تھی۔ پشاور سمیت بعض مقامات پر ہوائی فائرنگ کے موقع پر قریب ہی پولیس کی بھاری نفری کی موجودگی کے باوجود سیاسی کارکنوں کو روکا نہیں گیا اور وہ کھلے عام فائرنگ کرتے اور اسلحہ لہراتے رہے جس کی قطعی طور پر گنجائش نہیں ہونی چاہئے تھی۔ پولیس کو سیاسی کارکنوں کی جماعتی وابستگی سے بالاتر ہو کر ان کیخلاف بلاامتیاز کارروائی کر کے قانون سب کیلئے برابر ہونے کا تاثر دینا جہاں ضروری تھا وہاں واضح پیغام جاتا کہ ہوائی فائرنگ کرکے معصوم انسانی جانوں سے کھیلنے والوں کو کسی بھی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ قانون کی نظر میں سب برابر ہیں اور پولیس ہوائی فائرنگ کی سختی سے روک تھام میں کوئی کوتاہی نہیں کرے گی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر کسی مصلحت کے تحت پولیس نے اب تک کارروائی نہیں کی یا پھر ممکنہ طور پر ان کارکنوں کا تعلق حکمران جماعت سے ہونے پر پولیس نے صرف نظر سے کام لیا تو وزیراعلیٰ کو اس کا نوٹس لینا چاہئے اور ان تمام کارکنوں اور افراد کیخلاف مقدمہ درج کرلینا چاہئے جنہوں نے اس فعل عبث کا ارتکاب کیا ہو تاکہ قانون کی بالادستی پر حرف نہ آئے۔

متعلقہ خبریں