Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

نیب کے زیر تفتیش سرگودھا یونیورسٹی کے پروفیسر محمد جاوید کی روح پرواز کر گئی اور جسم ہتھکڑیوں میں جکڑا رہ گیا۔ یقیناً یہ ملزم اب فرار نہیں ہوسکتا۔ موجودہ حکومت اساتذہ کی گاڑیوں پر سٹیکر لگا کر ان کو راستے میں سیلوٹ مارنے کا بندوبست کرانے کی خواہاں ہے وہ اپنی جگہ، کسی زیرتفتیش شخص یا شخصیت کی موت کو تو پوری حکومت مل کر بھی نہیں روک سکتی لیکن اس بے بسی پر جتنا ماتم کیا جائے کم ہوگا کہ ایک پروفیسر کی لاش بھی پابجولاں ہے۔ اس سے پہلے وی سی اور اساتذہ کو پابجولاں عدالت لانے کی غلطی ہو چکی ہے جس پر سول سوسائٹی اور عدالت بھی ناراضگی کا اظہار کر چکی ہیں۔ پروفیسر جاوید کن کی تحویل میں تھے وہ کون لوگ تھے جن کو انسانیت چھوکر بھی نہیں گزری تھی۔ کیا ان کے بوڑھے ماں باپ نہیں تھے، کیا کوئی معمر عزیز رشتہ دار نہیں تھا۔ آخر وہ شرف انسانی سے محروم کیسے تھے۔ کیا وہ کبھی سکول ومدرسہ نہیں گئے، آخر وہ کون لوگ تھے اور انہوں نے ایسی بے حسی کا مظاہرہ کیوں کیا کہ ایک معزز انسان اور یونیورسٹی کے پروفیسر کی ہتھکڑی لگی لاش کی تصویر آگئی۔ حکومتی ترجمان کو ان عناصر کیخلاف سخت کارروائی کا اعلان کرنے اور کم ازکم تحقیقات ہی کا عندیہ دینے کی بجائے اپنے سیاسی مخالفین اور سابق حکمرانوں پر اس مبنی بر ندامت موقع کا استعمال حیران کن ہے۔ شاید یہی وہ رویہ ہے جس کے باعث ہمارے معاشرے میں عدم برداشت اور جہالت پروان چڑھ رہا ہے۔ پروفیسر محمد جاوید کیساتھ جو کچھ ہو چکا اس کے بعد پیشہ معلمی کی طرف ہمارے قابل اور ذہین نوجوان شاید ہی آنے کا سوچیں لیکن کیا کیا جائے غم روزگار اور غم دوراں انسان سے کیا کچھ کروانے پر مجبور کر تی ہے۔ خواہ اس کا انجام ہتھکڑیوں میں موت ہی کیوں نہ ہو۔ اشفاق احمد مرحوم کا وہ واقعہ تو سبھی کے علم میں ہوگا جس کا وہ بار بار مختلف جگہوں پر تذکرہ کرتے رہے ہیں کہ وہ کسی بیرونی ملک کی یونیورسٹی میں پڑھا رہے تھے کہ ایک دن ان کا چالان ہوگیا۔ موصوف نے چالان جمع نہ کیا تو عدالت سے سمن آگیا۔ عدالت پیش ہوئے تو جج نے پوچھا کہ آپ نے چالان جمع کرنے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔ اشفاق احمد مرحوم نے بتایا کہ وہ اپنے وطن سے دور یہاں آکر ایک یونیورسٹی میں معلم ہیں۔ جج نے جیسے ہی یہ سنا تو یہ کہہ کر اُٹھ کھڑا ہواTeacher in a court۔ یہ ہے عزت واحترام ایک پروفیسر کا، ایک معلم کا جہاں علم اور تدریس کی قدر ہے۔ ایک ہمارے ہاں جہاں موت کے بعد بھی صرف الزام پر میت کی ہتھکڑیاں نہیں کھولی جاتیں جب شور مچتا ہے تو گرفتاریاں ہوتی ہیں۔ اس پورے معاشرے کو گرفتار کر کے جیل میں ڈالو تو کافی نہیں ان گرفتار شدگان کا کیا وہ تو جلد ہی چھوٹ جائیں گے اور قصہ پارینہ بن جائے گا اور پھر بیانات آئیں گے کہ فلاں کیساتھ یہ سلوک، فلاں کیساتھ یہ سلوک۔ بیان بازو یہ تو بتاؤ قانون کی حاکمیت ان بااثر ملزموں کی ذمہ داری ہے کہ حکمرانوں کی۔ منصف ہو تو پھر حشر اُٹھا کیوں نہیں دیتے۔

متعلقہ خبریں