Daily Mashriq

اسلام آباد نیشنل یونیورسٹی کا افتتاح

اسلام آباد نیشنل یونیورسٹی کا افتتاح

وزیر اعظم عمران خان نے انتخابی مہم کا ایک اور وعدہ پورا کرتے ہوئے وزیر اعظم ہاؤس کو اسلام آباد نیشنل یونیورسٹی بنانے کا آغاز کر دیا ہے۔ انتخابی مہم کے دوران انہوں نے کہا تھا کہ وزیر اعظم ہاؤس کو سٹیٹ آف دی آرٹ یونیورسٹی بنا دیا جائے گا۔ اسلام آبا د نیشنل یونیورسٹی کی افتتاح کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم ہاؤس کو یونیورسٹی میں بدلنے کا مقصد حکومت اور عوام کے درمیان فاصلہ کم کرنا ہے۔ وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت شفقت محمود نے بتایا کہ سابقہ وزیر اعظم ہاؤس میں اعلیٰ مطالعات اور تحقیق کا ایک انسٹی ٹیوٹ قائم کیا جائے گا جسے بعد میں یونیورسٹی بنا دیا جائے گا۔ انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ اسلام آباد نیشنل یونیورسٹی میں کن علوم و فنون کا مطالعہ اور تحقیق کو فروغ دیا جائے گا ۔ ملک میں زراعت ‘ انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ‘ دفاع‘ طب اور کاروبار کی یونیورسٹیاں موجود ہیں ۔ ان کے علاوہ ملک میں پچاس سے زیادہ یونیورسٹیاں کام کر رہی ہیں جہاں سے ہر سال ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کی سطح کے کئی ہزار طلبہ فارغ التحصیل ہو کر نکلتے ہیں ۔ لیکن ان میں سے شاید ایک یا دو یونیورسٹیاں ہی ایسی ہیں جن کا دنیا کی یونیورسٹیوں کی رینکنگ کی فہرست میں نام ہے وہ بھی کہیں بہت نیچے جا کر۔ وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت نے یہ نہیں بتایا کہ اسلام آباد نیشنل یونیورسٹی میں کن شعبوں میں ایسی تحقیقی ہو گی جو دیگر یونیورسٹیوں میں نہیںہوتی۔ نہ انہوں نے یہ وضاحت کی کہ وزیراعظم عمران خان کے اس اعلان کا کہ ان کے دور حکومت میں تعلیم کا عمومی معیار بلند کیا جائے گا‘ اسلام آباد نیشنل یونیورسٹی بنانے سے کیا تعلق ہے ۔ فرض کیجئے نئی قائم ہونے والی یونیورسٹی پوسٹ ڈاکٹرل تحقیق کا ادارہ ہو گی تو کیا انسٹی ٹیوٹ کی سطح پر کام کرنے کے دوران اس میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے مضامین کی تحقیق کے لیے مناسب لیبارٹریاں اور سہولتیں ہوں گی ۔ یا جب اسے یونیورسٹی کا درجہ مل جائے گا تب لیبارٹریاں اور سہولتیں موجود ہوں گی؟ یہ کب فراہم کی جائیں گی‘ اس پر کتنا خرچ آئے گا اور اس سطح کے اساتذہ کہاں سے آئیں گے؟ اگر حکومت کے پہلے سو دن کے اندر اس یونیورسٹی کے لیے کوئی منصوبہ بنایا گیا ہے تو اس کا ذکر نہیں کیا گیا۔ محض یہ کہا گیا کہ یہ ’’سٹیٹ آف دی آرٹ‘‘ یونیورسٹی ہو گی۔ لیکن سٹیٹ آف دی آرٹ سے مراد کیا ہے ‘ افتتاحی تقریب سے یہ سمجھ میں نہیں آتا۔ اگر یہ یونیورسٹی پوسٹ ڈاکٹرل سطح کی یونیورسٹی ہو گی تو اس سطح کے چند طلبہ ہوتے ہیں اور چند اساتذہ ان کے لیے آٹھ سو کنال زمین پر پھیلا ہوا سابقہ وزیر اعظم ہاؤس غیر ضروری ہو گا۔ اور اس وسیع رقبے پر پھیلی ہوئی عمارات اور تنصیبات کا بہت بڑا حصہ استعمال کے بغیر فرسودہ ہوتا رہے گا۔ امید کی جانی چاہیے کہ وزارت تعلیم انسٹی ٹیوٹ میں کام شروع ہونے سے پہلے کسی باقاعدہ اور قابلِ فہم منصوبے کا اعلان کرے گی۔ صدر جنرل مشرف کے دور میں چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر عطاء الرحمان نے ایک بڑا منصوبے کا اعلان کیا تھا۔ لیکن سیاسی تبدیلی کے ساتھ ہی یہ منصوبہ بھی ختم ہو گیا۔ اگر سابق وزیر اعظم ہاؤس میں سٹیٹ آف دی آرٹ یونیورسٹی بنانے کا یہ مطلب ہے کہ دنیا کی بڑی یونیورسٹیوں ایسی لیبارٹریاں ‘ سہولتیں اور اساتذہ پاکستان میں فراہم کر دیے جائیں گے اور پاکستان سے جو طلبہ بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے کے لیے جاتے ہیں ان کی ضرورت ملک ہی میں پوری ہو جائے گی تو یہ بہت بھاری خرچے کا کام ہے اور اس کے لیے اراضی بھی سابقہ وزیر اعظم ہاؤس کی نسبت زیادہ درکار ہو گی۔ اعلیٰ تعلیم کے کچھ بنیادی تقاضے ہیں ایک تو فیڈرادارے یعنی وہ ادارے جن کے فارغ التحصیل اعلیٰ تعلیم حاصل کریں گے انکا معیار بلند ہو ۔ لیکن ہمارے ملک میں اگرچہ یونیورسٹیاں دھڑا دھڑ قائم ہو رہی ہیں لیکن ان کا معیار تعلیم و تدریس بین الاقوامی سطح کی یونیورسٹیوں ایسا نہیں ہے۔ دوسرا تقاضا یہ ہے کہ پرائیویٹ سیکٹر کی طرف سے تحقیق کی سرپرستی ہو۔ لیکن ہمارے ہاں اگرچہ بھاری بھر کم کاروباری ادارے بھی چند ایک موجود ہیں تاہم کاروباری ادارے نہ یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرنے والوںکو وظائف دیتے ہیں ‘نہ تحقیق کے لیے فنڈز فراہم کرتے ہیں۔ تیسرا مرحلہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد کاروبار یا ملازمت پر فائز ہونے کا ہے۔ ہمارے منصوبہ بندی کمیشن کی طرف سے کبھی ایسا مطالعہ سامنے نہیں آیا کہ آئندہ‘ مثال کے طور پر پانچ سال کے دوران‘ کس شعبے کے کہاں تک اعلیٰ تعلیم یافتہ ‘ تعلیم یافتہ یا مہارت یافتہ افراد کی ملک میں ضرورت ہو گی۔ فیڈر تعلیمی اداروںکا یہ حال ہے کہ تعلیمی بورڈوں اور یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل ہونے کے باوجود ملازمت کے لیے امیدواروں کے امتحان لیے جاتے ہیں ۔ تعلیمی ادارے 33فیصد یا 40فیصد نمبر حاصل کرنے والوں کو پاس کر دیتے ہیں ۔ اعلیٰ تعلیمی اداروںمیں تحقیق کے لیے فنڈز نہیں ہوتے اور اعلیٰ تعلیم کے حصول کے بعد کاروبار یا ملازمت کا کوئی یقین نہیںہوتا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ عالی شان محلات میں سرکاری رہائش غلامی کی نشانی ہے۔ لیکن یہ نشانی محض وزیر اعظم ہاؤس تک محدود نہیں ہے۔ سرکاری مقام کے وسیع قطعات اراضی میں سرکاری رہائش گاہیں ‘ریلوے افسروں کے وسیع مکانات بھی اسی دور کی نشانیاں ہیں۔ ایچی سن کالج کئی ایکڑ پر محیط ہے ۔ اس میں بھاری بھر کم عمارتیں بھی ہیں ‘ گراؤنڈ بھی اور باغیچے بھی۔ چند سو طلبہ یہاں تعلیم پاتے ہیں۔ اگر اس ادارے کو یونیورسٹی کا درجہ دینے کی طرف دھیان دیا جائے تو اس میں بھی اتنی اراضی ہے کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کی سٹیٹ آف دی آرٹ لیبارٹریاں اور فارم قائم کیے جا سکتے ہیں۔ یہ پہلے ہی تعلیمی ادارہ ہے ‘ اس کا محض درجہ بلند کرنے کی ضرورت ہے۔ ایسی ہی سٹیٹ آف دی آرٹ یونیورسٹیاں دیگر صوبوں میں بھی بنائی جائیں تو وہاں کے طلبہ کو اسلام آباد کی سٹیٹ آف دی آرٹ یونیورسٹی میں آنے کا خرچہ برداشت نہیں کرنا پڑے گا۔

متعلقہ خبریں