Daily Mashriq


عظیم رہنما

عظیم رہنما

تاریخ عالم کا مطالعہ بتاتا ہے کہ قوموں کی زندگی میں اولین دس پندرہ برس بڑے اہم ہوتے ہیں۔ قریب ترین بیسویں صدی کی تاریخ کا سبق تو بہرحال یہی ہے۔ عوامی جمہوریہ چین سے قبل کمیونسٹ روس میں انقلاب برپا ہوا۔ لینن اور سٹالن کی قیادت کمیونسٹ روس کا سرمایہ ثابت ہوئی۔ چین کوماؤزے تنگ کی قیادت ایک عرصہ نصیب رہی۔ دوسری جنگ عظیم میں شکست خوردہ جرمنی کو ایڈنائر اگر نہ ملتا تو آج مغربی اور مشرقی جرمنی ایک ہوتا اور نہ ہی جرمنی آج کے یورپ کا سالار ہوتا۔ کونارڈ ایڈنائر 1949ء سے لے کر 1963ء تک جرمنی کا چانسلر رہا‘ یہ وہ عہد تھا جب مغربی جرمنی کو ایک آئرن مین کی ضرورت تھی۔ فرانس کے جنرل ڈیگال کی مثال بھی ہمارے سامنے ہے۔ ڈیگال نے فرانس کو نیا آئین دیا۔ فرانس وہ ملک تھا جس کا آئین آئے دن بدلتا رہتا تھا۔ لطیفہ مشہور ہے کہ ایک کتب فروش سے کسی نے فرانس کے آئین کی کتاب مانگی تو اُس نے برجستہ کہا کہ وہ ماہانہ چھپنے والے ادب کا کاروبار نہیں کرتا۔ ڈیگال نے فرانس کی سمت درست کی اور جو آئین دیا وہ آج ساٹھ سال گزرنے کے باوجود مشعل راہ ہے۔ ڈیگال نے اپنے شرائط پر حکومت سنبھالی ۔ وہ 1946ء میں صدر کا منصب چھوڑ گیا محض اس لیے کہ پارلیمنٹ زیادہ مضبوط اور بااختیار تھی۔ جب کہ صدر کا عہدہ کمزور اور بے اختیار تھا۔ ڈیگال سمجھتا تھا کہ قوم کو اُس کی ضرورت ہے مگر فرانس کو اُس کی قیادت کے لیے تیرہ سال انتظار کرنا پڑا ۔ بالآخر وہ واپس پلٹا اور الجزائر کے تناظر میں فرانس کی ہچکولے کھاتی کشتی کو ڈیگال نے سنبھالا۔ قدرت نے ہمیں ان رہنماؤں سے بڑا لیڈر عطا فرمایا لیکن ہماری بدقسمتی کہ ہم ایک سال سے زیادہ اس کی قیادت سے مستفید نہ ہو سکے۔ یہ ایک ایسا رہنما تھا جس کے بارے میں سٹین لے والپرٹ جیسے دانشور نے لکھا کہ دنیا کی تاریخ میں ’’کچھ ایسے ہوں گے جنہوں نے تاریخ کا دھارا موڑا ‘ بعض دنیا کے نقشے کو تبدیل کرنے میں کامیاب ہوئے ‘ شاید ہی کوئی ایسا ہو جس کو ایک نیشن سٹیٹ کے بانی ہونے کا اعزاز حاصل ہوا ہو۔ محمد علی جناح نے یہ تینوں کام کیے۔‘‘ قائد اعظم بیسویں صدی کے سب سے ممتاز رہنما تھے۔ برطانوی سامراج اور کانگریسی رامراج کا انہوں نے تنہا مقابلہ کیا۔ جناح نہ ہوتے تو پاکستان نہ بنتا۔ اقبالؒ کی مردم شناس نگاہوںکا مرکز ایک شخص بنا اور انہوں نے برملا کہا مسلم برصغیر کو آپ کی قیادت کی ضرورت ہے ۔ہندو مسلم اتحاد کے سفیر قائد اعظم رہے مگر وقت کے ساتھ انہیں احساس ہوتا گیا کہ یہ سعی لاحاصل ہے۔ ہندوؤں اور مسلمانوں کا ایک حکومت تلے گزارا صرف اُسی صورت میں ہو سکتا تھا کہ مسلمان ہندوؤں کو بحیثیت حکمران تسلیم کر کے اپنی شناخت اور وجود پر سمجھوتہ کر لیتے۔ برصغیر کے مسلمانوں کو یہ قبول تھا اور نہ ہی قائد اعظم اپنی قوم کو ہندوئوں کی غلامی میں دینے کی سوچ رکھتے تھے ۔ وہ ہمیشہ بقائے باہمی کے متمنی اور متلاشی رہے ۔ نہرو کی رپورٹ نے انکو جھنجوڑ کر رکھ دیا ، گول میز کانفرنس کے دوران وہ بددل ہوگئے، 1935میں واپس لوٹے تو متحدہ ہندوستان میں اپنی قوم کے حقوق محفوظ کرنے کی آخری جدوجہد کی لیکن کانگرس نے ہر قدم انہیں دھوکا دیا ، 1937ء میں کانگرسی حکومتیں قائم ہوئیں تو انہوں نے مکار ہندوکے رُخ سے نقاب اُلٹ دیا ۔ سیکولر کانگرس کے بطن سے رامراج کا جنم ہوا تو ان لوگوں کی بھی آنکھیں کھل گئیں جو مسلم پرسنل لا کے سہا رے متحدہ ہندوستان میں ہندوئوں کے ساتھ گزارا کرنے کے آرزومند تھے ۔ قائد اعظم کی قیادت میں مسلمان قوم کے ہندوئوں کے چنگل سے بچانے کی جدوجہد اب فیصلہ کن مرحلے میں تھی ۔ قائد اعظم نے دو قومی نظریے کو اپنی جدوجہد کی بنیاد بنایا اور اسکی بنا پر مسلمانوں کے لیے ایک الگ وطن کا مطالبہ کیا۔ آج یار لوگ دوقومی نظریے کا مذاق اُڑاتے ہیں اور بھول جاتے ہیں کہ یہ نظریہ ہی قیام پاکستان کی بنیاد بنا۔ تاریخ پاکستان کے طالب علم اس بات سے آگاہ ہونگے کہ ایک مرحلے پر مہاتما گاندھی تقسیم ہند پر رضامند ہوگئے مگر شرط یہ تھی کہ تقسیم ایسے ہو جیسے دو بھائیوں کے درمیان ہوتی ہے۔ قائد اعظم نے اس تجویز کو رد کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کی تقسیم 23مارچ 1940ء کی قرارداد لاہور کے مطابق ہی ہوگی۔ 1947ء کو پاکستان کا قیام حضرت قائد اعظم کی ولولہ انگیز قیادت کا مرہون منت ہے ۔ قائد اعظم وطن عزیز کو اسلامی فلاحی ریاست بنانے کے خواہشمند تھے ۔ افسوس انکی خواہش ادھوری رہ گئی۔ بعد میں آنے والوں نے اسلامی تعلیمات کے مطابق فلاحی ریاست کے خواب کو شرمندہ تعبیر ہونے نہ دیا۔ قائد اعظم سے جب پاکستان کے بارے میں پوچھا جاتا تو آپ مکمل قوت ارادی اور عزم کیساتھ فرماتے کہ’’ہم دنیا کو دکھا دینگے کہ اسلام کے سنہری اُصول آج بھی اسی طرح قابل عمل ہیں جس طرح کہ یہ آج سے چودہ سو برس قبل قابل عمل تھے‘‘۔ اسلام کے اُصول آپ کے خیالات میں رچے بسے تھے، حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کے لیے الگ وطن کے مطالبے کی سب سے بڑی وجہ قائد اعظم کی یہ سوچ تھی کہ اسلام کے سنہری اُصولوں کے مطابق دنیا کے نقشے پر ایک ماڈل ریاست قائم ہونی چاہیئے۔ قائد اعظم کی زندگی وفاکرتی اور قدرت آپ کو دس پندرہ سال کی مہلت دیدیتی تو آج کے پاکستان کا نقشہ ہی کچھ اور ہوتا۔

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے

بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

متعلقہ خبریں