Daily Mashriq


دہشتگردی سے نجات کیلئے ہر طریقہ اپنا نا ہو گا

دہشتگردی سے نجات کیلئے ہر طریقہ اپنا نا ہو گا

نیو یارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر سے 2001 میں دو جہاز ٹکرا گئے اور آسمان کو چھوتی ہوئی یہ عمارت پل بھرمیں مٹی کا ڈھیر بنا دی گئی۔ امریکی اعدادو شمار کے مطابق پانچ ہزار لوگ مارے گئے اس حملے کا ذمہ دار اُسامہ بن لادن کو قرار دیا گیا اور دعویٰ کیا گیا کہ اُسامہ افغانستان میں موجود ہے لہٰذا امریکہ نے خود کو افغانستان پر حملے کی اجازت دے دی بلکہ افغانوں کی موت اور زندگی کا بھی خود کو حقدار سمجھ لیا اور یہ سلسلہ پھیلتے پھیلتے اُس نے خود کو پورے عالم اسلام میں قتل و غارت کا لائسنس جاری کر دیا اور پاکستان افغانستان کا پڑوسی ہونے کے ناطے امریکہ کے خاص نشانے پر آگیا ہے۔ اس میں ہمارے حکمرانوں کی غلطیاں بھی شامل تھیں اور امریکہ کی نیت بھی جس کو پاکستان کا ایٹمی پروگرام کبھی ایک آنکھ نہ بھایا اور نہ ہی اس کی روایتی دفاعی صلاحیت اس کے لیے قابل برداشت ہے اسی لیے اس کے خلاف تو خصوصاََ دہشتگردوں کو تیار کیا جاتا ہے۔ امریکہ اور بھارت کی خاص ہدایات پرافغانستان کی سر زمین پر ان دہشتگردوں کی تربیت گاہیں مسلسل چل رہی ہیں اور جونہی موقع ملتا ہے وہ پاکستان میں دہشتگردی کی کوئی کارروائی کر لیتے ہیں جس میں جانی اور مالی دونوں طرح کا نقصان ہو تا ہے جس کا ازالہ تو کسی طرح نہیں کیا جا سکتا لیکن اگر پکڑے جانے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کے لیے سخت سزائوں کا قانون اور نظام بنایا جائے اور پھر اِن پر سختی اور تیزی سے عمل کروایا جائے اور ان کو نشانِ عبرت بنایا جائے تو حالات میں بہتری کی اُمید کی جاسکتی ہے لیکن ہمارا عدالتی نظام مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر کا باعث بن جاتا ہے اور اس دوران مجرموں کو کافی موقع مل جاتا ہے اور پھر ڈیرہ اسماعیل خان کی جیل ٹوٹنے جیسے واقعات بھی ہو جاتے ہیں۔ایک شخص جس کا جُرم صاف ظاہر اور ثابت ہو اُس کے اوپر آخر مقدموں میں وقت کیوں ضائع کیا جاتا ہے۔اے پی ایس پشاور پر16 دسمبر 2014کے خونین حملے کے بعد جب قومی ایکشن پلان بنا تو اُس میں ایک شق فوجی عدالتوں کا قیام تھا یہ عدالتیں بنیں بھی اور اس نے دہشتگردی کے واقعات کی تیزتر تفتیش کر کے دہشتگردوں کی سزائوں کا اعلان بھی کیا۔ ان عدالتوں کی یہی خاصیت ہے کہ یہ تیزی سے تفتیش کر کے فیصلہ سناتی ہے اور چونکہ فوج ہی ان دہشتگردوں کے خلاف براہ راست جنگ لڑ رہی ہے لہٰذا اُسے اس بات کی زیادہ بہتر سمجھ اور معلومات ہے کہ کس کا جُرم کس نو عیت کا ہے اور اس کی سزا کتنی ہونی چاہیے ۔فوجی عدالتوں کا قیام دہشتگردوں کے لیے ایک بڑا دھچکا تھا کیونکہ ان کو اپنا انجام بہت جلدنظر آنے لگا ان عدالتوں کے فیصلوں نے فوجی آپریشنز کو ایک اچھا سہارا دیا اور دہشتگردوں کے خلاف عوام کا جو غم و غصہ تھا انہیں کسی حد تک اطمینان حاصل ہوا کہ ستر ہزار پاکستانیوں کے ان قاتلوں کو اب پناہ حاصل نہیں ہو گی۔اِن میں سے کئی دہشتگردوں کو سزائے موت سنائی گئی یہ بھی سچ ہے کہ ہماری سول عدالتوں کے جج صاحبان کو سخت فیصلوں کے بعد سیکورٹی کے خد شات بھی لاحق رہتے ہیں لہٰذا ان کی حفاظت کا انتظام بھی ضروری ہے تاکہ وہ جو فیصلہ کریں اس کا انہیں نقصان نہ پہنچایا جا سکے۔ اگر ایک اور زاویے سے دیکھا جائے تو اِن فوجی عدالتوں نے سول عدالتوں پر پڑا ہوا بوجھ بھی کم کیا اور دہشتگردی کے بے شمار واقعات کے مقدمات ان عدالتوں میں منتقل ہونے سے انہیں معمول کے مقدمات کے لیے درکار وقت مہیا رہتا ہے۔اِن عدالتوں پر ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ تیزی سے فیصلوں کی وجہ سے قانونی سقم رہ جاتے ہیں اور غلط فیصلے ہو سکتے ہیں ایسا ہو بھی سکتا ہے کیونکہ یہ عدالتیں چلانے والے بھی انسان ہیں اور ایسے فیصلے معمول کی عدالتوں میں بھی ہو سکتے ہیںاور ہوتے بھی ہیں لیکن جن دہشتگردوں کو ساری دنیا جانتی پہچانتی ہے انہیں ویڈیو فو ٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے بسا اوقات تو وہ اعترافِ جُرم بھی کر لیتے ہیں تو کیا پھر بھی ان کے اوپر طویل مقدمات کا چلانا ضروری ہے اور ان میں سے کئی ایک رہا بھی ہو جاتے ہیں جو اگلی دہشتگردی کا باعث بن جاتے ہیں۔ہمارا ملک انتہائی مشکل حالات سے گزرا ہے ، ہم نے ہزاروں جانیں گنوائیں ہیں جن میں عام شہریوں سے لے کر پولیس ، قانون نافذ کرنے والے ادارے، فوجی افسر اور جوان سب شامل ہیں لیکن الحمد للہ اب جب حالات میںکا فی بہتری آئی ہے تو اس وقت تمام اداروںکو اپنا مثبت کردار ادا کرنا چاہیے اور ایک دوسرے کے ساتھ مکمل تعاون کرنا چاہیے نہ کہ بے جا تنقید کر کے معاملات کو گمبھیر اور پیچیدہ کیا جائے اور کام کرنے سے روکا جائے اگر ریاست کے سارے ستون یعنی فوج، عدلیہ،مقننہ اور میڈیا سب دہشتگردی کی عفریت کے خلاف جم کر کھڑے ہو جائیں تو اس سے چھٹکارا ممکن ہے لیکن ہماری بد قسمتی کہ ہم خود ہی ایک دوسرے پر بے جا تنقیدکرتے رہتے ہیں اور اسی کو اپنی عقلمندی اور دانشمندی سمجھتے ہیں اور اس بات کا احساس کرنے کی کو شش نہیں کرتے کہ کامیابی حاصل کرنے کے لیے اور قوم کو دہشتگردی سے نجات دلانے کے لیے ہم نے ایک دوسرے کا ساتھ دینا ہے۔جو لوگ فوجی طریقہ کار کے مخالف ہیں انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ اس عفریت کے خلاف فوج اور فوجی عدالتوں کا کردار انتہائی اہم اور بنیادی رہا ہے اور اب بھی فوج آپریشن ردالفساد میں مصروف ہے اور یقینا قوم چاہے گی کہ یہ آخری اور حتمی آپریشن ہو اور اس کے بعد قوم اپنے ان سترہ سالوں جیسا کوئی سال دوبارہ نہ دیکھے ۔

متعلقہ خبریں