Daily Mashriq


دیکھنے ہم بھی گئے تھے پہ تماشا نہ ہوا

دیکھنے ہم بھی گئے تھے پہ تماشا نہ ہوا

چڑھ جا بیٹا سولی پہ‘ رام بھلی کرے گا‘ اس کا اندازہ اس شخص کو شاید نہیں تھا جسے نہ جانے کس نے مشورہ دیا کہ اگر وہ موبائل ٹاور پر چڑھ کروزیر اعظم بننے کا مطالبہ کرے گا تو اسکی قسمت جاگ جائے گی اور پاکستانی قوم اسے فوراً وزیر اعظم بنانے پر تیار ہو جائے گی۔ اب اس کا کیا حشر ہو رہا ہوگا‘ کیا کوئی اسے دماغ میں خلل کا مریض سمجھ کر چھوڑنے کامشورہ دے گا یا نہیں۔ یا پھر اس نے وہ پرانی کہانی سن رکھی ہوگی کہ کسی ملک کا بادشاہ مر گیا اور اس کا وارث نہ ہونے کی وجہ سے وہاں کے بزر جمہروں نے یہ فیصلہ کیا کہ کل صبح شہر پناہ سے جو پہلا شخص دروازے سے اندر داخل ہوگا اسے شاہی تاج سر پر رکھ کر بادشاہ تسلیم کرلیا جائے گا۔ مگر وہ تو قدیم داستانوں کی بات ہے۔ اب یہ دیکھنا ہوگا کہ اس شخص کو کہیں عشق تو نہیں ہوا تھا جس کے بارے میں کسی نے کہا ہے کہ

کہتے ہیں جس کو عشق خلل ہے دماغ کا

مگر یہ شخص تو ضرورت سے کچھ زیادہ ہی سیانا نکلا کہ موبائل ٹاور پر چڑھنے کے بعد کسی ’’محبوبہ دلنواز‘‘ سے شادی کرانے کے مطالبے سے بہت بلندی پر جا کر وزارت عظمیٰ سے ’’عقد‘‘ کا مطالبہ کردیا۔ ویسے اس کی دیوانگی اور فرزانگی کے درمیان ’’فرق صاف ظاہر ہے‘‘ کیونکہ اگر یہ شخص دیوانہ ہوتا تو موبائل ٹاور پر نہ چڑھتا بلکہ کسی بجلی کے کھمبے پر جا کر بسرام کرتا۔ مگر وہ جو ایک پاگل خانے کی کھڑکی میں سے جھانکتے ہوئے کسی پاگل نے قریب ہی سڑک پر پنکچر ہونے والے موٹر کار کے پہیے کی تبدیلی کے وقت چاروں نٹ گم کر دینے والے موٹر کے مالک کو پریشان دیکھ کر مشورہ دیا تھا کہ کوئی بات نہیں‘ باقی تین پہیوں میں سے ایک ایک نٹ اتار کر پہیے کو لگا دے اور جب آگے کوئی دکان ملے تو چار نئے نٹ خرید کر چاروں پہیوں پر لگادے اور موٹر کے مالک نے کہا تم کیسے پاگل ہو؟ تو پاگل نے کہا‘ میں پاگل ہوں بے وقوف تو نہیں ہوں۔ اس لئے میں بھی موبائل ٹاور پر چڑھنے والے کو تھوڑی دیر کے لئے پاگل تو قرار دے سکتا ہوں مگر بے وقوف نہیں کہ موبائل ٹاور بہت حد تک بے ضرر ہوتا ہے البتہ بجلی کے کھمبے پر چڑھنے سے اس کے سارے خواب بکھر سکتے تھے کیونکہ وہاں سے تو بلی بھی گزرے تو دھڑام کی ایک آواز آتی ہے۔ بلی اپنے ’’ساتوں جنم‘‘ کھو دیتی ہے اور بجلی منقطع ہو جاتی ہے۔ ویسے آج کل بجلی کی جو صورتحال ہے اس میں اس بات کے خدشات کو سو فیصد بھی قرار نہیں دیا جاسکتا کہ اکثر آپ نے بھی فیس بک پر ایسی پوسٹیں دیکھی ہوں گی جب لوگ اپنے کپڑے سکھانے کے لئے بجلی کے تاروں پر ڈالتے دکھائی دیتے ہیں یعنی انہیں معلوم ہوتا ہے کہ بجلی ایک بار جائے تو پھر کب آئے گی اس کے لئے اگلے جنم کا انتظار کرنا چاہئے۔ تاہم ایسا دور دراز دیہات میں ہوتا ہے جہاں گھنٹوں بجلی نہیں آتی یا پھر جن علاقوں میں کنڈے لگا کر لوگ بجلی چوری کے عادی ہوتے ہیں اور انہیں سزا کے طور پر بجلی کی فراہمی 24گھنٹوں میں دو تین گھنٹے سے زیادہ نہیں کی جاتی جبکہ یہ ’’واردات‘‘ ملک کے دارالحکومت اسلام آباد میں وقوع پذیر ہوئی اس لئے بجلی کے کھمبے پر چڑھنے میں 95 کا گھاٹا ہو سکتا تھا۔ اس لئے وزیر اعظم بننے کے خواہشمند نے موبائل ٹاور کا ا نتخاب کرکے بھارتی فلم شعلے کی طرح لوگوں کو جذباتی بلیک میلنگ کا شکار بنا دیا۔ فلم میں تو ہیروئن کو پانے کے لئے میرو پانی کی بلند ٹینکی سے کود کر چھلانگ لگانے کی دھمکی دیتا ہے مگر یہاں تو مذکورہ شخص نے چھلانگ لگا کر خودکشی کی دھمکی دی ہی نہیں تھی بلکہ وزیر اعظم بنوانے کا مطالبہ کیا تھا اور پولیس نے خواہ مخواہ اسے اتنی اہمیت دی کہ اس کو نیچے اتارنے کے لئے ایک مزاحیہ اداکار سے رابطہ کرکے اس داستان کو مزاح کا تڑکا لگا دیا‘ اسے اس کے حال پر چھوڑ کر اگر لوگوں کو وہاں سے چلے جانے کی تلقین کی جاتی تو جب رات کے وقت کڑاکے کی سردی پڑنی شروع ہوجاتی تب اسے آٹے دال کا بھائو معلوم ہو جاتا اور ادھر ادھر دیکھ کر کوئی اس پر نظریں تو نہیں جمائے ہوئے ہے خاموشی سے نیچے آکر اپنی راہ لیتا مگر اسلام آباد پولیس نے بھی پھرتیاں دکھانے اور میڈیا چینلز پر خبریں چلوانے میں جلد بازی کا مظاہرہ کیا۔

ان دنوں مختلف چینلز پر جو مزاحیہ ٹی وی شوز چل رہے ہیں ان میں اکثر پر ملک کے سیاسی رہنمائوں کے گیٹ اپ میں انہی کی آوازیں نکال کر عوام کو محظوظ کرنے والوں کی کمی نہیں۔ وزیر اعظم عمران خان کے لب و لہجے میں کردار کرنے والے بھی کئی فنکار موجود ہیں بس اسی سے اسلام آباد پولیس والوں نے فائدہ اٹھا کر ٹاور نشین کو نیچے اتارنے میں کامیابی حاصل کی جب ایک فنکار شفاعت علی کو وزیر اعظم عمران خان کے طور پر فون کے ذریعے مذکورہ شخص سے بات کروانے کی ذمہ داری سونپی اور یوں اس شخص کو ماموں بنانے میں کامیابی حاصل کی۔ اب خدا جانے ہماری پولیس اپنے روایتی ہتھکنڈوں سے اس بے چارے کا کیا حشر کر رہی ہوگی۔ حالانکہ اسے فوری طور پر کسی ماہر نفسیات کے پاس لے جا کر اس کی تحلیل نفسی کروانے کی ضرورت ہے کیونکہ اتنا بڑا رسک لینے والا کسی نہ کسی حد تک ’’ کھسکا‘‘ ہوا ہی لگتا ہے جس کے ساتھ روایتی ’’پولسانہ‘‘ رویہ اختیار کرنے کی بجائے دوستانہ طرز سے کام لے کر اس معاملے کو نمٹانے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں