Daily Mashriq


وزیر اعظم کا دورہ ترکی

وزیر اعظم کا دورہ ترکی

ترک پارلیمنٹ کے دورے کے موقع پر صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم محمد نواز شریف نے آپریشن ردالفساد کا فیصلہ کہیں اور سے ہونے کے الزامات کو سختی سے رد کرتے ہوئے کہا کہ آپریشن ردالفساد اور پنجاب میں رینجرز کی تعینات کا فیصلہ چند روز قبل وزیر اعظم ہائوس میں ہوا ۔ دہشت گردی کی حالیہ لہر پر جلد قابو پا لیا جائے گا ، یہ جنگ ہم ضرور جیتیں گے ، افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہورہی ہے ، کابل انتظامیہ کو تحفظات سے آگاہ کر دیا ہے ، ترکی کا بل انتظامہ پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے ، وزیر اعظم نے کہا کہ ہم نے الیکشن میں بھار ت سے دوستی کے نام پر ووٹ لیا ، اس کے خلاف ساز ش نہیں کر رہے ، ہندوستان کے ساتھ اچھے تعلقات اور تجارت بڑھانا چاہتے ہیں ، پاکستان سپر لیگ کا فائنل اپنے مقررہ وقت پر لاہو رمیں کامیابی سے ہوگا ، جہاں تک وزیر اعظم کے خیالات خاص طور پر بھارت کے حوالے سے ان کی نیک خواہشات کا تعلق ہے ، اصولی طور پر ان سے اختلاف کی گنجائش موجود نہیںہے اور پاکستان کا ہر شہری نہ صرف بھارت بلکہ اپنے دیگر ہمسایوں کے ساتھ بھی امن وسکون کے ساتھ رہنا چاہتا ہے ، تاہم بھارتی حکمرانوں کے عمومی رویے پر نظر ڈالی جائے تو وزیر اعظم کے نیک خیالات پر سوال ضرور اٹھتے دکھائی دیتے ہیں کیونکہ مسلم لیگ (ن) نے بے شک بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات اور دوستی کے فروغ اور تجارت بڑھانے کے منشور پر عوام سے ووٹ لئے ہوں اور اپنے منشور پر عمل در آمد کا (ن) لیگ کو سیاسی اور اخلاقی طور پر حق بھی حاصل ہے ، مگر اسے کیا کہا جائے کہ بھارتی حکمران جماعت بی جے بی نے پاکستان سے بہتر تعلقات کے علی الرغم مسلمانوں کے خلاف ہندوئوں کے جذبات ابھار کر ہی ووٹ حاصل کئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب سے مودی ہندوستان میں بر سر اقتدار آئے ہیں ، نہ صرف اندرون بھارت ، مقبوضہ کشمیر میں انتہا پسند ہندوئوں کے ہاتھوں مسلمانوں کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے بلکہ مودی سرکار نے پاکستان کے خلاف بھی سازشوں کے جال پھیلانے شروع کر رکھے ہیں۔سیاسی طور پر مخالفت تو چلئے سیاسی تقاضے ہو سکتے ہیں ،مگر بھارتی حکمران جماعت کے ایماء پر کھیلوں کے میدان میں بھی بھارت کا رویہ ہٹ دھرمی کا ہے جبکہ بھارت نے ایک خاص حکمت عملی کے تحت پاکستان میں عالمی کرکٹ کھیلے جانے کے مواقع سبوتاژکرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی ، اس کے بھیجے گئے تخریب کاروں نے کھیلوں کے میدان کو بھی نہیں بخشا اور جب سے لاہور میں سری لنکا کی ٹیم کے خلاف دہشت گرد حملہ کروایا گیا تب سے کوئی عالمی ٹیم پاکستان آنے کو تیار نہیں ۔ حال ہی میں جب پی ایس ایل کے فائنل میچ کے لاہور قذافی سٹیڈیم میں انعقاد کی خبریں سامنے آئی ہیں ، اس کے گما شتوںنے لاہور میں ایک بار پھر دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی کر کے ایک خودکش دھماکہ چند روز پہلے کیا جس میں سہولت کار کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ گزشتہ روز ڈیفنس کے علاقے میں ایک اوردھماکہ ہوا تا ہم اس حوالے سے سیکورٹی ادارے ابھی تک تذبذب میں ہیں کہ یہ دہشت گردی تھی یا پھر بعض عینی شاہدین کے مطابق گیس سلنڈر پھٹنے کا واقعہ ہے بہر حال یہ تو تحقیقات کے بعد ہی پتہ چلے گا کہ اصل حقیقت کیا ہے ، مگر اس واقعے کے بعد خوف وہراس میں اضافہ فطری بات ہے جس کے بعد ان غیر ملکی کھلاڑیوں کی سوچ بھی تبدیل ہو سکتی ہے جو بعض اطلاعات کے مطابق 50سے بھی زیادہ کی تعداد میں فائنل کے موقع پر لاہور آنے پر آمادگی کا اظہار کر چکے تھے ، جہاں تک ردالفساد اور پنجاب میں رینجر ز کی تعیناتی کے فیصلے کا وزیراعظم ہائوس میں کئے جانے کی بات ہے اس پر کسی کو بھی شک نہیں ہونا چاہئے کیونکہ دہشت گردوں کو نیست و نابود کر نے کیلئے بھلا حکومت کیسے خاموش رہ سکتی ہے اور حقیقت تو یہی ہے کہ جس طرح ضرب عضب کی وجہ سے دہشت گرد تتر بتر ہو چکے ہیںا ن کیلئے یہ صورتحال زندگی اور موت ہی کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی رہی سہی قوت مجتمع کرکے آخری حملوں کی منصوبہ بندی کر چکے ہیں ، مگر مسئلہ یہی ہے کہ جب تک ان کی پشت پناہی ہوتی رہے گی یہ اپنی دہشت گردانہ کارروائیوں سے باز نہیں آئیں گے جبکہ پاکستان نے واضح کر دیاہے کہ یہ لوگ افغانستان کی سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں جہاں ان کے تربیتی کیمپ بھی قائم ہیں ، اسی لیے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے گزشتہ روز سیاچن کے دورے کے موقع پر ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ مشرقی سرحد پر خطرات کے موثر جواب کیلئے تیار ہیں ، دوسری جانب پاک فوج کی افغان سرحد پر گولہ باری سے لاہور خودکش حملے کا ماسٹر مائنڈ مارا گیا ، انٹیلی جنس اطلاعات پر کی گئی کارروائی میں جماعت الاحرار کے ٹرانزٹ کیمپ کا انچارج بھی مارا گیا جو پاکستان مخالف ایجنسیوں کے لئے کو آرڈی نیٹر کاکام کرتا تھا۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ آپریشن ردالفساد کی حمایت میں سیاسی قائدین کی آوزیں بھی بلند ہورہی ہیں اور اسے بلا امتیاز آگے بڑھانے کے مطالبات بھی سامنے آرہے ہیں ، امید ہے انشاء اللہ اس آپریشن سے پاکستان کے دشمنوں کے حوصلے پست ہوںگے ۔

متعلقہ خبریں