Daily Mashriq


اوراب آپریشن رد الفساد

اوراب آپریشن رد الفساد

دہشت گردی کے خلاف امریکہ کی جنگ نے گزشتہ دہائیوں میں جن ملکوں کو بالواسطہ یا بلاواسطہ متاثر کیا پاکستان ان میں سے ایک ہے ۔کئی ملک تو جنگ کے اس کھیل میں تاخت وتاراج ہو کر اپنا اقتدار اعلیٰ ہی کھو بیٹھے مگر پاکستان ان خوش قسمت ملکوں میں تھا جو زخم زخم تو ہوا مگر اپنی جغرافیائی وحدت اور اقتدار اعلیٰ کو بچانے میں کامیاب ہو گیا ۔ افغانستان امن اور استحکام کی منزل سے دور اور پراکسی جنگوں کا میدان ہے ۔چند دن قبل فرانس میں ایک عالمی کانفرنس میں افغان صدر اشرف غنی نے یہ کہہ کر کہ افغانستان خانہ جنگی کا نہیں ملکوں کی پراکسی جنگوں کا شکار ہے آدھا سچ بولنے کی کوشش کی ہے ۔وہ اگر پراکسی جنگ لڑنے والے ملکوں کا نام بھی دیانت داری سے لیتے تو شاید معاملہ آسانی سے سمجھ میں آتا ۔مگر وہ اس جرات اظہار کا مظاہرہ نہیں کر سکتے تھے کیونکہ خود افغان حکومت پراکسی جنگ کے ایک اہم فریق اور کھلاڑی کے لئے دیدہ ودل فرشِ راہ کئے بیٹھی ہے ۔چند دن قبل پاکستان نے افغانستان کے اندر جماعت الاحرار کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔دہلی میں افغان سفیرشکایت کے لئے دوڑے دوڑے نریندر مودی کے پاس پہنچے اور وہاں سے یہ تسلی حاصل کی کہ افغانستان پر حملہ بھارت پر حملے کے مترادف ہے ۔اس کے بعد افغان گورنر نے فوجی حکام کے ہمراہ اس مقام کا دور ہ کیا کہ جہاں پاک فوج نے کارروائی کی تھی گویا کہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ طالبان کے زیر انتظام علاقہ نہیں تھا بلکہ امریکہ اور افغان حکومت کے کنٹرول والا علاقہ تھا۔اس کے بعد کہانی میں کوئی ابہام ہی باقی نہیں رہتا ۔ اس میں کوئی شک نہیں افغانستان اس وقت پراکسی جنگوں کا شکار ہے ۔جس کی ایک پرت بہت عالمی اور بالائی یعنی امریکہ ،چین اور روس جیسے ملکوں پر مشتمل ہے ۔دوسری پرت علاقائی بھارت پاکستان اور ایران جیسے ملکوں کی باہمی کشمکش اور رزم آرائی پر مبنی ہے ۔پاکستان چونکہ افغانستان کا براہ راست ہمسایہ ہے اس لئے افغانستان کو امن دینے میں بھی پاکستان کا کردار اہم ہے اورپاکستان کا امن بھی افغانستان کے امن واستحکام سے مشروط ہے۔المیہ یہ ہے کہ افغانستان میں امن اور استحکام کو اس تاریخی حقیقت سے الگ کرکے دیکھا جا رہا ہے ۔اس کی وجہ صرف بھارت کی خوشنودی ہے ۔امریکہ اور بھارت جب سے سٹریٹجک پارٹنر بنے ہیں امریکہ جنوبی ایشیاء کے معاملات میں عقل وخرد کی بجائے بھارت کی محبت میں مچلنے اور دھڑکنے والے دل سے فیصلے کرتا ہے ۔بھارت براعظم امریکہ سے شاید بہت خوبصورت ،جمہوری ،امن پسند دکھائی دیتا ہو مگر واہگہ اور کھوکھرا پار سے بھارت کی اس کے قطعی متضاد شبیہہ دکھائی دیتی ہے ۔آج امریکہ اور پاکستان کے تعلقات میں جو تلخی در آئی ہے اور افغانستان میں دونوں کے مفادات اور حکمت عملی کے گھوڑے دو متضاد سمتوں میں دوڑ رہے ہیں تو اس کی وجہ یہی ہے کہ امریکہ کے پالیسی سازوں نے بھارت اور پاکستان کے تعلقات کی حساسیت اور پیچیدگی کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی ۔امریکہ نے جب خطے میں بھارت کو اپنا پولیس مین مقرر کیا تو ساتھ ہی پاکستان سے یہ توقع بھی لگائی کہ پاکستان بھارت کا بھی اسی طرح مطیع وفرماں بردار رہے گا جس طرح کہ امریکہ کی تابع فرمانی کرتا چلا آرہا ہے ۔اس مقصد کے لئے دودہائیوں تک دونوں ملکوں کے درمیان دوستی اور امن کے ڈول ڈالے گئے مگر ہر کوشش بے نتیجہ رہی ۔اس کی وجہ یہ تھی کہ دوستی اور امن کا یہ سارا کھیل مصنوعی ہوتا ہے اس میں بنیادی مسائل کو حل کرنے کی بجائے ان پر لیپا پوتی کرنے کی سوچ غالب ہو تی ۔کشمیر ان مسائل میں سرِفہرست تھا ۔امریکہ اور بھارت میں جب رومانس کا آغاز ہوا تو امریکی کشمیر کے حوالے سے زیادہ واضح سوچ رکھتے تھے جوں جوں دونوں ملکوں میں تعلقات بڑھتے اور گہرے ہوتے چلے گئے امریکہ نے کشمیر پر اپنا موقف نرم کرتے ہوئے سارا دبائو پاکستان پر منتقل کرنے کی حکمت عملی اختیار کی ۔جس کا مقصد پاکستان کو کشمیر پر ''کیمپ ڈیوڈ '' طرز کے حل پر آماد ہ کرنا تھا ۔بعد میں اس کے لئے فلسطین اور آئر لینڈ جیسے کسی اور ماڈل سامنے آتے چلے گئے مگر اس میں مسئلے کا کوئی پائیدار حل موجود نہیں تھا ۔امریکہ کی اس حکمت عملی نے پاکستان اور امریکہ کو افغانستان میں دوالگ سمتوں میں سفر کرنے پر مجبور کر دیا ۔ اس طرح عالمی اور علاقائی طاقتوں کے مفادات اورسیاست کی ڈور اُلجھتی ہی چلی گئی ۔یہیں سے پاکستان میں ایک ایسی عسکریت نے جنم لیا جس کا مرکز امریکہ اوربھارت کی سرپرستی والا افغانستان تھا اور جو ریاست کی چولیں ہلا کر رکھنے کے ارادے رکھتی تھی ۔اُدھر پاکستان میں ریاست کو چیلنج کرنے والی عسکریت شروع ہوئی اِدھر مغربی میڈیا نے پاکستان کے ایٹمی ہتھیار دہشت گردوں کے ہاتھ میں لگنے کا وایلا شروع کردیا ۔یہ قریب قریب وہی راگ تھا جو عراق میں کیمیائی ہتھیاروں کی موجودگی کے نام پر الاپا گیا تھا اورپھر اس کی تان سقوط بغداد پر جا کرٹوٹی تھی مگر جب سب کچھ ہو چکا تو کہا گیا کہ عراق میں تو کیمیائی ہتھیاروں کی موجودگی کا کوئی ثبوت ہی نہیں ملا ۔پاکستان نے حالات کی دلدل سے نکلنے کے لئے مختلف علاقوں میں فوجی آپریشن کئے جن میں آپریشن راہ راست آپریشن شیر دل ،آپریشن خیبر ون ،ٹو اور تھری اور آپریشن ضرب عضب شامل تھے ۔ان میں ہر فوجی آپریشن دہشت گردی کے خطرات کو کم کرنے کا باعث تو بنا مگر ملک سے دہشت گردی کے سائے مکمل طور پر چھٹنے نہ پائے ۔دہشت گردی کی حالیہ لہر کے بعد اب آپریشن رد الفساد کا آغاز یہ کرتے ہوئے کیا گیا کہ اس کے ذریعے بچے کھچے دہشت گردوں کا خاتمہ کیا جائے گا۔اس کے ساتھ ہی پنجاب میں رینجرز کی مددسے آپریشن کا آغاز بھی کر دیا گیاہے ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ نئی فوجی قیادت کی نگرانی میں ہونے والا ''آپریشن رد الفساد''امن اور استحکام کی منزل کو کس قدر قریب لاتا ہے؟۔

متعلقہ خبریں