Daily Mashriq


معیاری ادویات کی فراہمی۔۔۔۔؟

معیاری ادویات کی فراہمی۔۔۔۔؟

پنجاب حکومت نے سال 1976 ء کے ڈرگ ایکٹ میں تبدیلی کرکے پنجاب ڈرگ قانون 2017کا اعلان کیا۔اس ایکٹ کے خلاف پنجاب کیمسٹ ڈرگسٹ ایسوسی ایشن اور دواساز کمپنیوں نے احتجاج بھی کیا۔ اقوام متحدہ کے چا رٹر کے مطابق علاج معالجہ تک رسائی بنیادی عالمی انسانی حقوق میں شامل ہے۔ جہاں تک معیاری ادویات کا تعلق ہے تو علاج معالجے میں ان کاکلیدی کردار ہوتا ہے۔ عام ما رکیٹ میں صارفین کو محفوظ اور معیاری ادویات ملنا اکثرمشکل ہوتا ہے۔لہٰذا یہ حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہو تی ہے کہ وہ اپنے عوام کو معیاری اور محفوظ ادویات بہم پہنچائے۔ عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ ادویات چیک کرنے کی ذمہ داری قومی یعنی وفاقی حکومت کی ہو تی ہے۔اس کے فرائض میں دوائیوں کے کلینیکل ٹرائل کرنا، پراڈکٹ کی رجسٹریشن کرنا، ایڈور ٹائزنگ کو باقاعدہ بنانا ، دوائیوں کے بیچنے کے بعد اسکی کوالٹی اور معیار کو مانیٹر کرنا، دوائیوں کے لائسنس جاری کرنا اوردوائیوں کے بر آمد اور در آمد کنند گان و ہول سیلز کی انسپکشن کرنا وغیرہ شامل ہے۔ صحت کے بین الاقوامی ادارے کا کہنا ہے کہ ترقی پذیر ممالک میں 25 فیصد ادویات غیر معیاری ہیں۔ اگر ما رکیٹ کا جائزہ لیا جائے تو یہ اس سے کئی گنا زیادہ ہے ۔بین الاقوامی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ 30 فی صد ممالک کے پاس دوائیوں کی ریگولیشن اور ان دوائیوں کو چیک کرنے کا نظام نہیں۔ اور اگر کسی ملک میں ادویات کو چیک کرنے کا نظام ہے تو بد قسمتی سے وہ اس قابل نہیں کہ وہ غیر معیاری ادویات پر قابو پاسکے۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق بعض اوقات توحالات اس وقت اور خراب ہو جاتے ہیں جب انٹرنیٹ پر ادویات بیچی جاتی ہیں اور اُنہوں نے اس قسم کی غیر قانونی sitesکے اصلی ایڈریس چھپا ئے ہوتے ہیں۔جہاں تک غیر معیاری Substanderedادویات کا تعلق ہے تو اس قسم کی ادویات سے شرح اموات اور بیماریوں میں اضافہ ہوتا ہے۔غیر معیاری ادویات کے استعمال سے انسانی جسم میں دوائی کے خلاف قوت مزاحمت زیادہ ہوجاتی ہے جسکی وجہ سے مختلف قسم کی الر جیز اور انفیکشن والی بیماریاں جنم لیتی ہیں۔جس سے دوائی اور علاج کا اثر کم ہو جاتا ہے۔ہیٹی میں سال 1995ء میںکھانسی کی غیر معیاری ادویات کھانے سے 89اموات اور بھارت میں 1998ء میں شیر خوار بچوں کی اموات واقع ہو چکی ہیں۔ صحت کے عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ ملیریا کی وجہ سے سالانہ 10لاکھ اموات واقع ہوتی ہیں اگر اس مرض کے لئے معیاری ادویات میسر ہوں تو اس سے سالانہ3لاکھ اموات پر قابو پایا جا سکتا ہے۔اگر ایک طرف غیر معیاری ادویات مریض کو نُقصان پہنچا رہی ہے تو دوسری طرف غیر معیاری ادویات کی وجہ سے عوام کا اپنے ملک اور حکمرانوں پر یقین اوراعتماد ختم ہوجاتا ہے۔اگر غیر معیاری ادویات پر قابو پایا جائے تو اس سے عوام اور حکومت کے صحت عامہ پر رقم خرچ کرنے میں 40 فی صد تک کمی کی جا سکتی ہے۔۔ وزارت صحت کے مطابق ما رکیٹ میں بڑے پیمانے پر جو دوائیاں بیچی جاتی ہیں تو ان میں 42 فی صد جعلی ہوتی ہیں۔ مگر میرے تجربے اور مشاہدے کے مطابق یہ70 اور 80 فی صد کے قریب ہے۔ بد قسمتی یہ ہے کہ او ٹی سی(OTC= Over The Counter) Drug) ( دوائیوں کے نام پر غیر رجسٹرڈ اور بے نام کمپنیوں کی دوائیاں فروخت کی جاتی ہے۔جن کانہ کوئی معیار ہوتا ہے اور نہ اس پر یقین کیا جاسکتا ہے۔ مگر پراڈکٹ بنانے والے ڈاکٹر حضرات کورشوت دیکر تو پھر سارا دن ڈاکٹر مریض کو بلا ضرورت یہی دوائی تجویز کرتے ہیں۔ ہماری یہ بد قسمتی ہے کہ ادویات کے ساتھ ساتھ پاکستان میں کاسمیٹکس کی 4 ہزار کمپنیاں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی سے رجسٹریشن اور سرٹیفکیشن کے بغیر اشیاء تیار کرتی ہیں جن میںمرکری اور سٹیرائڈ جیسی اشیاء شامل کی جاتی ہیں جو عارضی طو ر پر چہرے کے کیل مہاسوں اورجلد پر چمک تو لاتی ہیں مگر اسکا استعمال جلد کے لئے انتہائی خطرناک ہوتا ہے۔ جس ملک میں ایک سابق گو رنر کو دل کی غیر معیاری اور 2 نمبر ادویات دی جاتی ہوں تو اُس ملک میں ایک عام انسان جسکو دوائی کی الف ب کا پتہ نہ ہو اور جس کی کوئی سفارش نہ ہو وہ کیا کرسکتا ہے۔معیاری اور غیر معیاری ادویات کے بارے میں عوام کو پتہ نہیں ہوتا لہٰذا حکومت کو چاہئے کہ وہ ضلع ، تحصیل ہر گائوں اور قصبے کی سطح پر ایسا طریقہ کار بنائے تاکہ دوائیوں کی بھی منا سب مانیٹرنگ ہو اور عوام کو بھی معیاری اور بہتر ادویات ملیں۔ بات صرف ایلو پیتھک دوائیوں کی نہیں ملک میں غیر معیاری ایلو پیتھک ادویات کے ساتھ ہومیو پیتھک اور ہربل میڈیسن پر کڑی نظر رکھی جائے۔ ملک کے ہر بڑے اور چھوٹے شہر میں غیر رجسٹرڈ حکیموں ، عطائیوں کے بڑے بڑے آویزاں بینروں اور بو رڈوں کو ہٹایا جائے ۔اس قسم کے بو رڈوں اور بینروں پر تقریباً ہر مرض کا علاج کرنے کے دعوے کئے جاتے ہیں ۔ اس قسم کے عطائیوں کے اشتہارات ملک کے ہر چھوٹے بڑے شہر میں لگنے کے علاوہ ریڈیو ٹی وی اور اخبارات میں بھی شائع ہوتے ہیں اور ان کو کوئی پوچھنے والا نہیں۔ ایک سرٹیفیکیٹ پر دس دس میڈیکل سٹور چلائے جاتے ہیں۔ دوسرے صوبوں اور بالخصوص خیبر پختون خوا کی حکومت کو چاہیے کہ وہ بھی حکومت پنجاب کی طرح ڈرگ کی پالیسی بنائے تاکہ لوگوں کو معیاری ادویات مل سکیں۔

متعلقہ خبریں