لاہور کے پشتون

لاہور کے پشتون

ارض پاک کے تمام شہر ہمارے دل میں بستے ہیں ۔اُن میں سے کسی ایک کو بھی زخم لگے تو بڑی تکلیف ہوتی ہے ۔ مردان ہماری جنم بھومی ہے پشاور سے زندگی کی بے شمار خوشگوار یادیں وابستہ ہیں ۔ کوئٹہ میں کئی پیارے دوست رہتے ہیں اور کراچی میں تو تعلیم کے سلسلے میں ایک عرصہ تک قیام رہا ۔ لاہور کو ہم اپنا دوسرا گھر اس لئے کہتے ہیں کہ یہاں پر ہمارا آدھا خاندان آباد ہے ۔ ہم جب بھی لاہور میں ٹھوکر نیاز بیگ کے راستے داخل ہوئے تو ایک سکون کا احساس ہوا ہے ۔ ہم گھر سے باہر نہیں رہ سکتے کہ یہ ہماری نفسیاتی کمزوری ہے ۔ لاہور جانے میں کبھی دل پر بوجھ محسوس نہیں کیا ۔ بلکہ خوشی ہوتی ہے ۔ لیکن گزشتہ روز جب ہم داتا کی نگری میں داخل ہوئے تو ہر طرف اداسی چھائی تھی ۔ لاہور جو زندہ دلوں کا شہر کہلاتا ہے وہاں پہلی بار غم والم کے بادل منڈلاتے ہوئے دیکھے وہ سڑکیں جن پر ہمیشہ ایک ہنگامہ رہتا تھا ، وہاں لوگ سرگوشیوں میں باتیں کرتے ہوئے نظر آئے ، یوں لگا جیسے یہ لوگ بادل ناخواستہ گھر سے باہر نکلنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ اداسی اور خوف کی اس فضا ء میں دل پر ایک بوجھ محسوس ہوا جن دوستوںسے براہ راست فون پر بات ہوتی اُن کی آوازوں میں بھی کھنک ناپید تھی ۔ قہقہے غائب تھے ۔ ہربات کا جواب چہرے پر پھیلی ایک پھیکی مسکراہٹ کی صورت میں ملتا ۔ جواں سال صحافی الطاف اسد سے فون پر طویل گفتگوہوئی۔ موضوع وطن عزیز میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات تھے ہم ایک دوسرے سے یہی پوچھتے رہے کہ اب کیا ہوگا اور اس کا حل کیا ہے ۔ جواب ہم میں سے کسی کے پاس بھی نہ تھا اور کیسے ہوسکتا تھا جبکہ پنجاب کی حکومت 23فروری کو ڈیفنس میں ہونے والے دھماکے کے بارے میں یہ فیصلہ نہ کرسکی کہ یہ گیس سلنڈر کے پھٹنے کی وجہ سے ہوا یا پھر خودکش دھماکہ تھا ۔گیارہ گھنٹے کے بعد یہ اعلان ہوا کہ اس وقوعے میں جس میں 7قیمتی جانیں لقمہ اجل بن گئیں بارودی مواد کو ریموٹ کنٹرول کے ذریعہ اڑایا گیا تھا۔ ہم مگر ایک دوسرے مسئلے پر بات کرنا چاہتے ہیں اور وہ لاہور میں مقیم پشتون کے اُن مسائل سے ہے جنکا اُنہیں لاہور میں حالیہ دھماکوں کی وجہ سے سامنا ہے ۔ ہمارے دوست امیر بہادر خان ہوتی گھر پر ملنے آئے وہ گزشتہ 35سال سے لاہور میں کنٹرکشن کے کاروبار سے وابستہ ہیں۔ اے این پی سنٹرل کمیٹی کے رکن اور پنجابی پشتون اتحاد کے صدر نشیں بھی ہیںبھائی چارے اور یگا نگت کی فضا ء قائم رکھنا اُ ن کے اتحاد کا منشور ہے یہی وجہ ہے کہ پنجاب کے سیاسی اور سماجی طبقوں سے اُن کے بڑے اچھے تعلقات رہتے ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ لاہور میں اس وقت کم و پیش 10لاکھ پشتون آباد ہیں ، امیر بہادر ہوتی اپنے اتحاد کے ذریعے ان کے مفادات کی نگرانی میں پیش پیش رہتے ہیں ۔ اُن کی گفتگو سے معلوم ہوا کہ لاہور میں 13فروری کے خود کش حملے کے بعد وہاں مقیم ہر پشتون کو شک و شبے کی نظروں سے دیکھا جانے لگا ہے جن میں پشتون کاروباری طبقے کے علاوہ پختونخوا کے دور دراز علاقوں سے محنت مزدوری کے لئے آئے ہوئے لوگ بھی شامل ہیں ان میں سے اکثر یت ریڑھی بانوں کی ہے ، روڈ پر ریڑھی میں مکئی کے دانے بھونتے نظر آتے ہیں یا پھر کچھ جوان اور بچے چوراہوں پر بیٹھے بوٹ پالش کرتے ہیں ، دھماکے کے بعد اُن بچوں کو نہ صر ف محنت مزدوری سے محروم کیا جاتا ہے بلکہ اُن کو پوچھ گچھ کے لئے اُٹھا لیا جاتا ہے ۔اُٹھا نے کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا ہے کاروبار سے وابستہ پشتونوں کے شناختی کارڈ بلاک کر دیئے گئے ہیں جسکے نتیجہ میں نہ صرف اُن کا کاروبار متاثر ہوگیا ہے بلکہ بینکو ں میں موجود اُن کی رقوم کی ٹرانسیکشن پر پابندی کی وجہ سے اُنہیں شدید مالی مسائل کا بھی سامنا ہے۔ پنجاب کی سول ایڈ منسٹر یشن اور پولیس کا یہ رویہ قومی اتحاد کے لئے خطرناک ہو سکتا ہے ۔ دہشت گردی میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچانے میں کسی کو اعتراض نہیں ہو سکتا ۔ لیکن پر امن محب وطن اور بے گناہ لوگوں کو صرف پشتو بولنے کے جرم میںہراساں کرنا اورہرپشتون کو شک شبے کی نظروں سے دیکھنا کسی طور بھی مناسب نہیں اور یہ رجحان فوری طور پر ختم ہونا چاہیئے۔ لاہور میں مقیم پشتونوں کی پکڑ دھکڑ اور اُن کو پریشان کرنے کا یہ سلسلہ اگر جاری رہا تو اس کا غلط پیغام جائے گا اور اس کے اثر ات پختونخوا میں مقیم پنجاب کے کاروبار ی طبقے پر بھی پڑ سکتے ہیں چنانچہ پنجاب کی انتظامیہ کو اس مسئلے پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ 

اداریہ