Daily Mashriq


داستان غم طویل ہے۔۔

داستان غم طویل ہے۔۔

کچھ سیکھنے کچھ جاننے کے لیے اپنے ماحول سے نکلنا ضروری ہوتا ہے مشاہدہ کرتے رہنا چاہیے آگہی میں اضافہ ہوتا ہے۔ دوسروں کے حالات سے باخبر رہنا، ان کے طرز زندگی میں شامل اچھی چیزوںکو جاننا ہماری عقل و فہم میں اضافے کا سبب بنتا ہے ۔بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ہم کسی اجنبی معاشرے میں ایسی عادات ایسے اعمال کا مشاہدہ کرتے ہیں جو ہمارے احاطہ خیال سے بھی باہر ہوتے ہیں اور ہم نے ان اچھی باتوں کو اپنانے کے حوالے سے کبھی سوچا بھی نہیں ہوتاگزشتہ روز ہم نے جاپانی معاشرے کے حوالے سے ایک خبر پڑھی تو دل میں ایک ہوک سی اٹھی کہ اے کاش ! اس قسم کے کردار کی جھلکیاں ہمارے یہاں بھی ہوتیں تو کتنا اچھا ہوتا! جاپانی پولیس کے مطابق گزشتہ سال ٹوکیو کے دیانت دار شہریوں نے ریکارڈ مقدار میں گم ہونے والی رقم حکام کے حوالے کی ہے جو رقم متعلقہ محکمے میں جمع کروائی گئی ہے وہ تقریباًتین کروڑ بیس لاکھ ڈالرز کے مساوی ہے۔ جاپان میں یہ قانون بھی موجود ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی گم شدہ چیز تین ماہ کے اندر وصول کرنے نہ آئے تو اسے اس شخص کو دے دیا جاتا ہے جسے وہ ملی تھی مگر حیران کن بات یہ ہے کہ بہت سے لوگوں نے تین ماہ گزر جانے کے بعد بھی اسے لینے سے انکار کردیا اور یوں شہر کی بلدیہ کے حصے میں 39کروڑ ین آگئے۔جب اس قسم کے واقعات پڑھنے کو ملتے ہیں تو ذہن میں یہ خیال آتا ہے کہ یہ تربیت جاپانیوں کو کہاں سے ملی؟ کردار کی یہ عظمت انہیں کیسے نصیب ہوئی؟صرف کتاب پڑھ لینے سے بات نہیں بنتی تربیت بہت ضروری ہوتی ہے۔ جب کردار کو اپنی پہلی ترجیح بنا لیا جائے اور ماں کی گود سے تربیت کا یہ اعلیٰ و ارفع سلسلہ شروع ہوجائے تو پھر معاشرے میں تبدیلی آتی ہے مغربی ممالک کے لوگ جاپانیوں کے کردار اور عادات و اطوار کو سمجھانے کے لیے دس الفاظ استعمال کرتے ہیں۔آپ ان دس الفاظ کو جاپانیوں کی خوبیاں یا ان کے مزاج کا حصہ بھی کہہ سکتے ہیں۔ یہ ان کا کلچر بھی ہے اور تہذیب بھی ! شائستہ: جاپان کے لوگ بہت شائستہ ہیں نرم لہجے میں گفتگو کرتے ہیں گرمجوشی سے ہاتھ ملاتے ہیں اور سرجھکا کر اپنے ملنے والے کی تعظیم کرتے ہیں۔وقت کی پابندی: وقت کی پابندی ان کا ایمان ہے نہ صرف وقت کے پابند ہیں بلکہ وقت کی اہمیت کو سمجھتے بھی ہیں ۔جاپان ریلوے اپنی وقت کی پابندی کے حوالے سے پہچانی جاتی ہے کیا مجال ہے کہ وہاں ٹرین ایک منٹ کی تاخیر سے پہنچے وہاں اگر کوئی دیر سے کام پر آئے تو اسے بہت برا سمجھا جاتا ہے وہ اس بات کو سمجھتے ہیں کہ ان کے ملک و قوم کی ترقی کا راز ہی وقت کی پابندی اور اس کی اہمیت کو سمجھنے میں پوشیدہ ہے۔ مہربان لوگ: جاپانی بڑے نرم دل اور مہربان لوگ ہیں ہماری طرح وہاں بھی یہ عام رواج ہے کہ جب کوئی اپنے کسی رشتہ دار یا دوست کے گھراس سے ملنے جاتا ہے تو پھل یا مشروبات وغیر ہ ضرور ساتھ لے جاتا ہے۔ محنت: جاپانی بہت زیادہ محنتی ہیں وہ مشقت سے نہیں بھاگتے ان کی محنت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ جاپانی زبان میں مشقت کی وجہ سے مرنے والے کے لیے بھی ایک لفظ موجودہے''کروشنی''جاپان میں ڈیوٹی ٹائم کے علاوہ بھی ایک دو گھنٹے کام کرنا عام سی بات ہے ادب: ادب جاپانیوں کی گھٹی میں پڑا ہوا ہے خاص طور پر وہ بڑوں کا بہت زیادہ ادب کرتے ہیںوہاں عمر رسیدہ لوگوں کو ذہین اور تجربہ کار سمجھ کر ان کی تعظیم کی جاتی ہے۔ وہاں بزرگوں کے ساتھ بڑے سلیقے اور آداب کو ملحوظ خاطر رکھ کرگفتگو کرنے کا رواج ہے۔ شرم و حیا : جاپانی لوگ بڑے شرمیلے ہیں اسی لیے یہ زیادہ گفتگو نہیں کرتے سوچ سمجھ کر اتنی ہی باتیں کرتے ہیں جو ضروری ہوتی ہے ۔ ذہانت: ذہانت جاپانیوں کا طرہ امتیاز ہے ان کی حیرت انگیز صنعتی ترقی اس بات کی شاہد ہے کہ یہ ذہین لوگ وقت کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے مسلسل ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہیں۔ آج جاپان کی معیشت آسمان سے باتیں کررہی ہے ان کی مصنوعات دنیا بھر کی مارکیٹوں پر راج کر رہی ہیں ۔ جماعت: اس کے لیے انگریزی میں groupingکا لفظ استعمال ہوتا ہے یہ ہر کام گروپ کی شکل میں کرتے ہیں وہ سیاحت کے لیے بھی گروپ بناتے ہیں۔ انہیں یہ تربیت بچپن ہی سے دی جاتی ہے جاپانی بچے کلاس میں گروپ کی شکل میں کھڑے ہوکر کتاب پڑھتے ہیں ہر کلاس میں تین تین چار چار لڑکوں کے گروپ بنادیے جاتے ہیں اور یوں وہ مل کر کام کرنا سیکھ جاتے ہیں آج کی جدید دنیا میں مل کر کام کرنے اور ساتھیوں کے ساتھ تعاون کی بہت زیادہ اہمیت ہے جاپانی یہ بات سکول میں ہی سیکھ جاتے ہیں ۔صفائی پسندی: جاپانی بہت زیادہ صفائی پسند ہیں انہیں یہ تربیت بھی بچپن ہی سے دی جاتی ہے جاپانی سکولوں میں صفائی کا سار ا کام طلبہ ہی کرتے ہیں سیڑھیوں پر گیلا کپڑا مارنا اسی طرح کلاس رومز کی صفائی اور بڑے بڑے ہالوں کو صاف کرنا یہ سب کام بچے ہی کرتے ہیں اس کے لیے انہیں ہر روز تیس منٹ کام کرنا پڑتا ہے۔ سیاحت کے دوران لوگوں کے مشاہدے میں یہ بات بھی آئی ہے کہ جاپانی دوسروں کے ڈالے ہوئے گند کو بھی صاف کرتے ہیں آپ ذرا سوچئیے! ہم اپنی گلیوں کو خوب گندا کرتے ہیں ہمارے محلوں میں پڑا ہوا گند وہی ہوتا ہے جو ہم نے اپنے گھروں سے نکال کر باہر پھینکا ہوتا ہے پڑوسیوں کے گھروں کے سامنے گند ڈالنا ہمارے لیے عام سی بات ہے : اور پھر ہم اس بات کی شکایت کرتے ہیں لڑتے جھگڑتے ہیں کہ خاکروب باقاعدگی سے نہیں آتا ! داستان غم طویل ہے اور کالم کا ظرف انتہائی تنگ!

متعلقہ خبریں