Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

حضرت عیسیٰ بن مرحوم فرماتے ہیں کہ ایک نیک سیر لونڈی حضرت سیدہ رابعہ عدویہ کی خدمت میں رہا کرتی تھی ۔ اس لونڈی نے مجھے حضرت سیدہ رابعہ کی عباد ت وریاضت کے بارے میں بتایا کہ آپ ساری ساری رات نماز میں مشغول رہتیں ۔ جب صبح صادق ہوتی تو تھوڑی دیر کے لئے اپنے مصلے پر لیٹ جاتیں اور جب ہلکا ہلکا اجالا ہونے لگتا تو فوراً اُٹھ کھڑی ہوتیں اور اپنے نفس کو مخاطب کر کے کہتیں : '' اے نفس ! تو اس ناپائید ار دنیا میں کب تک سوتا رہے گا ؟ یہ دنیا تو تنگی کا گھر ہے ، پھر اس میں اتنی نیند کیوں ؟ آج کچھ دیر جاگ لے ، کچھ نیک اعمال کرلے ، پھر قبر میں خوب میٹھی نیند سو جانا ، وہاں تجھے قیامت تک کوئی نہیں جگائے گا ، عمل یہاں کرلے آرام وہاں کرنا ۔ ''

جب آپ کی وفات کا وقت قریب آیا تو مجھے بلا کر فرمانے لگیں : '' میری موت کی وجہ سے مجھے اذیت نہ دینا ، یعنی میرے مرنے کے بعد چیخ و پکار نہ کرنا اور اسی اون کے جبے میں میری تکفین کرنا ۔ ''آپ کی وفات کے تقریباً ایک سال بعد میں نے آپ کو خواب میں دیکھا کہ آپ جنت کے اعلیٰ درجوں میں ہیں اور آپ نے سبز ریشم کا بہترین لباس زیب تن کیا ہوا ہے اور سبز ریشم کا دوپٹہ اوڑھا ہوا ہے ، خدا کی قسم ! میں نے کبھی ایسا خوبصورت لباس نہیں دیکھا جیسا آپ نے پہنا ہوا تھا ۔ میںنے آپ سے پوچھا : '' اے رابعہ ! آپ کے اس جبے اور چادر کا کیا ہوا جس میں ہم نے آپ کو کفن دیا تھا ؟ '' تو آپ نے فرمایا : '' خدا کی قسم ! وہ لباس مجھ سے لے لیا گیا اور اس کی جگہ یہ بہترین لباس مجھے عطا کیا گیا ہے ، جسے تم دیکھ رہی ہو اور میرے اس جبے اور چادر کولپیٹ کر اس پر مہر لگادی گئی اور اسے مقام علیین میں رکھ دیا گیا ہے تاکہ قیامت کے دن اس کے بدلے مجھے ثواب عطا کیا جائے ۔ میں نے پوچھا : '' آپ کو اور کیا کیا نعمتیں عطا کی گئیں ؟ آپ فرمانے لگیں : '' خدا نے اپنے نیک بندوں کے لئے جو نعمتیں تیار کر رکھی ہیں وہ بیان سے باہر ہیں ۔ تم نے تو ابھی ان نعمتوں کی ایک جھلک ہی دیکھی ہے ۔ پھر میں نے پوچھا :'' عبیدہ بنت ابو کلاب کے ساتھ آخرت میں کیا معاملہ پیش آیا ؟ '' فرمانے لگیں : '' خدا کی قسم ! وہ ہم سے سبقت لے گئیں اورہم سے اعلیٰ مرتبوں میں انہیں رکھا گیا ہے۔ '' میں نے پوچھا :'' کس وجہ سے انہیں آپ پر فضیلت دی گئی ؟ حالانکہ لوگوں کی نظر وں میں آپ کا مرتبہ ان سے زیادہ تھا ۔ ''آپ نے فرمایا :'' وہ ہر حال میں خدا کا شکر ادا کرتی تھیں اور دنیا وی فکر وں سے پریشان نہ ہوتی تھیں ۔پھر میں نے عرض کی: ''مجھے کسی ایسے عمل کے متعلق بتا دیجئے جس کے ذریعے مجھے خدا کا قرب اور اس کی رضا نصیب ہو جائے ۔ '' تو آپ نے فرمایا : ''کثرت سے ذکر الٰہی کیا کرو، ہروقت اپنے اوپر ذکر کو لازم کو لو ،۔ اگر ایسا کرو گی تو کچھ بعید نہیں کہ تمہاری قبر میں تمہیں ایسی نعمتوں سے نوازا جائے کہ تم قابل رشک ہو جائو ۔ ''

متعلقہ خبریں