Daily Mashriq


تلوار ابھی لٹک رہی ہے

تلوار ابھی لٹک رہی ہے

وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے واضح کیا ہے کہ انسداد منی لانڈرنگ کے نگران ادارے کی جانب سے پاکستان کا نام دہشتگردوں کے معاون ممالک کی فہرست میں ڈالے جانے کا معاملہ تین ماہ تک کے لئے مؤخر ہوگیا ہے۔ واضح رہے کہ امریکہنے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے ارکان ممالک پر دباؤ ڈالا تھا کہ پاکستان کو دہشتگردوں کے معاون ممالک کی فہرست میں شامل کیا جائے تاہم عالمی نگران ادارے نے پاکستان کو منی لانڈرنگ قوانین میں سختی اور انسداد دہشتگردی کے خاتمے اور مؤثر حکمت عملی اپنانے کے لئے3ماہ کی مہلت دی ہے۔ ایف اے ٹی ایف،ایک عالمی ادارہ ہے جو جی سیون (G-7) ممالک کے ایماء پر بنایا گیا ہے جو منی لانڈرنگ اور دہشتگردوں کی مالی امداد کی نگرانی کرتا ہے تاہم پاکستان اس ادارے کا براہ راست رکن نہیں ہے۔ مذکورہ غیر سرکاری ادارہ کسی ملک پر پابندی عائد کرنے کے اختیارات نہیں رکھتا لیکن گرے اور بلیک کیٹیگری وضع کرتا ہے۔ انسداد منی لانڈرنگ اور دہشتگردی کیخلاف قابل قدر اقدامات کی صورت میں اس ملک کو گرے کیٹیگری میں شامل کیا جاتا ہے جبکہ کسی ملک کی جانب سے منی لانڈرنگ کیخلاف کوئی اقدامات نہیں اُٹھائے جاتے تو اسے بلیک کیٹیگری میں ڈال دیا جاتا ہے جس کے بعد بین الاقوامی سطح پر زرِمبادلہ کی نقل وحرکت اور ترسیل میں غیر معمولی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اب بھی پاکستان کے سر سے خطرہ ٹلا نہیں بلکہ تین ماہ کیلئے مؤخر ہوا ہے۔ اگر روس، چین اور بالخصوص ترکی اس ضمن میں کردار ادا نہ کرتے تو پاکستان کیخلاف اس سازش کے کامیاب ہونے کا امکان تھا۔ پاکستان2012ء سے 2015 تک اس فہرست کا حصہ رہ چکا ہے اس کے بعد اقدامات کی بناء پر پاکستان کا نام اس فہرست سے نکال دیا گیا لیکن اب ایک مرتبہ پھر پاکستان کو دباؤ میں لانے کیلئے کوشاں لابی اس تگ ودو میں ہے کہ پاکستان کا نام پھر سے اس فہرست میں آجائے۔ اگر قرار دیا جائے کہ اس مرتبہ اس کا بلاجواز محرک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہے جوکہ پاکستان کیخلاف سخت مؤقف اپنایا ہے۔ ٹرمپ نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ''امریکہ پاکستان کو33 ارب ڈالر سے زیادہ کی امداد دے چکا ہے مگر اس کے بدلے میں صرف دھوکہ اور فریب ملا ہے''۔ گزشتہ برس اگست میںصدر ٹرمپ نے جنوبی ایشیا کے بارے میں پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے بھی پاکستان پر الزام لگایا تھا کہ وہ دہشتگرد تنظیموں کی پشت پناہی کرتا ہے۔ اب امریکہ چاہتا ہے کہ پاکستان کا نام ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں ڈال دیا جائے۔ جہاں تک اس ضمن پاکستان کی کوششوں کا تعلق ہے اس بارے پاکستان ہر وہ ممکن اقدامات کر رہا ہے جس کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے تاکہ پاکستان کے حوالے سے پیدا شدہ غلط فہمیوں کا خاتمہ ہو سکے۔ حکومت پاکستان نے ایک صدارتی آرڈیننس جاری کیا ہے جس کے تحت اقوام متحدہ کی جانب سے دہشتگرد قرار دی جانے والی تنظیموں کو پاکستا ن میں بھی کالعدم قرار دے دیا گیا ہے۔ صدر مملکت کی طرف سے جاری ہونے والے آرڈیننس کے تحت انسداد دہشتگردی ایکٹ 1997ء کی شق 11-B میں ترمیم کی گئی ہے جس کے تحت ایسی تنظیمیں جنہیں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کے تحت کالعدم قرار دیا گیا ہے وہ پاکستان میں بھی کالعدم قراردی گئی ہیں۔ یاد رہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت جن تنظیموں کو دہشتگرد قرار دیا گیا ہے ان میں طالبان کے علاوہ حقانی نیٹ ورک، فلاح انسانیت، الرشید ٹرسٹ، اختر ٹرسٹ، جماعت الدعوة، روشن منی ایکسچینج، حاجی خیر اللہ، حاجی ستار منی ایکسچیج، حرکت جہاد اسلامی، امہ تعمیرنو اور راحت لمیٹڈ شامل ہیں۔ پاکستان میں حکومت کی جانب سے پہلے ہی حقانی نیٹ ورک اور تحریک طالبان پاکستان کے مختلف گروپس کو کالعدم قرار دیا گیا ہے تاہم جماعت الدعوة، فلاح انسانیت فاؤنڈیشن اور معمار ٹرسٹ ابھی زیرنگرانی تنظیموں میں شامل تھیں۔ جماعت الدعوة اور فلاح انسانیت کے بارے میں وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ ان دونوں تنظیموں کا تعلق لشکرطیبہ سے ہے جسے2002 میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف نے کالعدم قرار دیا تھا۔ ان تمام اقدامات کے باوجود بھی دنیا اس امر کا یقین کرنے کو تیار نہیں کہ پاکستان کے اقدامات سنجیدہ اور ممکنہ حد تک ہیں۔ ان معاملات کا ماضی میں پس منظر جو بھی ہو اب ان تمام معاملات سے جان چھڑائے بغیر چارہ نہیں جس پر ہم دنیا کی نظروں میں مشکوک ٹھہرتے ہیں مگر دنیا کو بھی ہمارے ہر عمل اور سنجیدہ اقدام کو شک کی نظر سے دیکھنے کا رویہ تبدیل کرنا ہوگا۔ جن معاملات کے باعث آج پاکستان پر اُنگلیاں اُٹھ رہی ہیں اگر دیکھا جائے تو ان معاملات کی ایک وقت میں خود امریکہ کو ضرورت تھی۔ امریکہ اب جن طالبان کے خاتمے کے درپے ہے کیا ان کے لیڈروں کو صدر رونالڈ ریگن نے وائٹ ہاؤس میں اعزاز نہیں بخشا تھا۔ جن معاملات پر پاکستان پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کیا اس سے زیادہ سخت حالات امریکی فوج کی موجودگی میں افغانستان میں نہیں۔ دنیا کو حقائق کا معروضی انداز میں جائزہ لینا ہوگا اور اس قسم کی سرگرمیوں اور معاملات کی روک تھام کیلئے کسی ایک ملک پر دباؤ ڈالنے اور اسے مشکوک فرض کر لینے کی بجائے اس کی مدد کی جانی چاہئے۔ پاکستان کے اقدامات میں جہاں سقم کا امکان ہو تو عالمی برادری کا فرض ہے کہ وہ اس کی نشاندہی اور اس کو دور کرنے کی مساعی میں اس کی مدد کرے۔ کسی ملک کو دیوار سے لگانے کا تجربہ کبھی کامیاب نہیں ہوا کرتا۔ وزارت خارجہ اور وزارت داخلہ سمیت جملہ شعبوں کے اعلیٰ حکام کو اس امر کا احساس ہونا چاہئے کہ ہر ممکن طریقے سے پاکستان کے حوالے سے شکوک وشبہات کے خاتمے میں شبانہ روز کوشش کرنا ہی ملکی مفاد کا تقاضا ہے۔ جن جن معاملات میں بہتری کی گنجائش باقی ہو ان شعبوں میں خاص طور پر اقدامات کر کے پاکستان کے سر پر لٹکتی اس تلوار کو مستقل طور پر ہٹا دیا جائے۔

متعلقہ خبریں