Daily Mashriq


کوئی اُمید بر نہیں آتی کوئی صورت نظر نہیں آتی

کوئی اُمید بر نہیں آتی کوئی صورت نظر نہیں آتی

عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے پارٹی کے تھنک ٹینک اجلاس کے بعد اس امر کا اظہار کیا ہے کہ اداروں کے درمیان ٹکراؤ کی پالیسی جمہوریت اور ملک کیساتھ ساتھ خود ان اداروں کیلئے بھی نقصان دہ ہے اور بدقسمتی سے کچھ سیاستدانوں نے سیاسی جنگ کو ذاتی جنگ میں تبدیل کر دیا ہے۔ اس وقت ملک میں اداروں کے درمیان جو ٹکراؤ کا ماحول بنا ہوا ہے کسی تیسری قوت کو آگے بڑھ کر دونوں کے درمیان معاملات سلجھانے چاہئیں، اسفندیار ولی خان نے کہا کہ اگر تمام ادارے آئین کی رو سے ملنے والے اختیارات کے اندر رہ کر کام کریں تو معاملات ٹھیک ہو سکتے ہیں اور حدود کا تعین کرنے سے مشکلات بھی پیدا نہیں ہونگی، انہوں نے مزید کہا کہ مائنس ون اور مائنس ٹو کے فارمولوں سے سیاسی جماعتیں کبھی ختم نہیں ہوتیں، گوکہ اس وقت معاملات دیگر فورمز میں مبنی بر کارروائی ہیں لیکن بادی النظر میں بظاہر وپوشیدہ اصل ٹکراؤ کی کیفیت جہاں سے ہے جب تک ان قوتوں اور سیاسی قوتوں کے درمیان کھینچا تانی جاری رہے گی ایک کے بعد دوسرا معاملہ سامنے آتا جائے گا اور کشیدگی بڑھتی جائے گی۔ اسفندیار ولی خان نے اپنے بیان میں اسی جانب اشارہ کیا ہے لیکن یہاں ملکی فضا میں دیکھا جائے تو اب کوئی ایسی صورت باقی دکھائی نہیں دیتی جس سے ثالثی کے کردار کی توقع کی جائے، اب تو لڑتے لڑتے ہو گئی گم ایک کی چونچ ایک دم کی صورتحال کی جانب معاملات جاتے دکھائی دے رہے ہیں جو ملک وقوم دونوں کے مفاد میں نہیں۔ تکلیف دہ امر یہ ہے کہ مصلحت اور مجبوری کے تقاضوں کے باعث ماضی میں بحران ٹل جانے کا جو کوئی نہ کوئی راستہ نکل آتا تھا اس کی بھی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ اس صورتحال کا سبھی کو ادراک واحساس ہونا چاہئے۔ اس صورتحال کے خاتمے اور تدارک کی تو کوئی توقع نہیں اسلئے کہ یہ معاملات اب ارتقاء کے تقاضوں کے کماحقہ پورے ہونے کے بعد ہی درست ہوں گے مگر کم ازکم فی الوقت اگر تیور یہی رہے اور بات آگے بڑھنے کی بجائے جمود ہی طاری ہوجائے تو غنیمت ہوگی۔

متعلقہ خبریں