Daily Mashriq


امریکی تیور، پاک افواج اور سیاستدان

امریکی تیور، پاک افواج اور سیاستدان

1992ء سے 2000ء تک دنیا امریکہ کے رحم وکرم پر رہی۔۔ اس دوران امریکہ کے جی میں جو آیا کر بیٹھا، کیونکہ روس جو کبھی عالمی سطح پر اس کا برابر حریف ورقیب تھا، افغانستان میں شکست کے بعد اپنے زخم مندمل کرنے کیلئے مرہم پٹیوں میں لگا رہا اور چین مستقبل قریب میں اپنا کردار ادا کرنے کیلئے اپنی معیشت پر توجہ دینے میں مشغول رہا۔ لہٰذا امریکہ کیلئے کہیں بھی کسی بھی معاملے میں مزاحمت بہت کم سامنے آئی۔ امریکہ اگر اس صورتحال کو عدل وانصاف کی بنیاد پر انسانیت کی فلاح کیلئے استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کرتا تو دنیا کمیونزم کی بلا سے نجات پانے کے سبب اس کی معترف ہوتی لیکن روس، چین اور مسلمان ممالک نے امریکہ کو جب ایک عالمی استعمار کی صورت میں دیکھنا محسوس کیا تو آہستہ آہستہ روس اور چین قریب ہونے لگے اور ان کی حوصلہ افزائی اور آشیرباد سے دنیا پھر یک قطبی کے بجائے دوتین قطبی دنیا کی خواہش کرنے لگ گئی۔ امریکہ نے جب اس صورتحال کو بھانپا، تو9/11 کا واقعہ کرایا، جس طرح جرمن مصنف نے اپنی تازہ کتاب میں ممبئی حملہ کی حقیقت دنیا کے سامنے کھول کر بیان کی ہے اس طرح ایک دن مغرب ہی کا کوئی محقق، مصنف اور مورخ دنیا کے سامنے اس حقیقت کو ضرور کھول کر بیان کرے گا کہ9/11 کا واقعہ کیسے اور کیوں ہوا تھا، کن مقاصد کیلئے ہوا تھا اور اس سے سب سے زیادہ کون مستفید ہوا تھا۔ ان سارے معاملات میں پاکستان کی حالت وکیفیت بڑی عجیب اور بینظیر رہی۔ پرویز مشرف امریکی دھمکی پر اپنا سب کچھ امریکہ کے حوالے کر کے بھی اپنی عزت وآبرو اور سٹریٹجک مفادات کے تحفظ میں ناکام رہا۔ اس بے نام و بے ننگ جنگ میں پاکستان کا جو جانی ومالی نقصان ہوا اس کی اس سے پہلے کہیں مثال نہیں ملتی لیکن سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ امریکہ اب بھی ناراض بلکہ غضب ناک ہے۔ ڈومور کا جو سلسلہ اوباما کے آٹھ سالہ دور اقتدار میں دراز ہوتا چلا گیا اب ٹرمپ کے زریں ''بے مثال'' دور میں اس حد تک پہنچ گیا ہے کہ طعن وتشنیع ودشنام کے جتنے تیر اس کے ترکش میں موجود تھے، سب چلا دیئے، نان نیٹو اتحادی کا درجہ پاکستان کے بے مثال تعاون کے سبب خود امریکہ نے ''عطا'' کیا تھا لیکن اب ''مزاج یار'' یوں برہم ہیں کہ وہ بھی واپس لے لیا، کوئی بات نہ تھی۔ ہم کب مصاحب شاہ بن کر اتراتے پھر ے تھے لیکن تکلیف تب ہوئی جب اس نے اپنے پہلے سٹیٹ آف دی یونین خطاب میں پاکستان پر وہ ناکردہ گناہ چسپاں کئے جس کا یہاں کبھی تصور بھی نہ ہو ا تھا۔ عسکری معاش اور تکنیکی امداد کی بندش کے بعد اب پاکستان کو دہشتگردی کی واچ لسٹ میں ڈالنے کی کوشش جو فی الحال کامیاب نہیں ہوئی یقیناً پاکستان کی دہشتگردی کیخلاف بے لوث جنگ اور قربانیوں پر پانی پھیرنا اور اس حوالے سے لگے زخموں پر نمک چھڑکنا ہے۔ ٹرمپ کی صدارت میں ٹرمپ کابینہ امریکی مفادات کے حصول اور سب سے پہلے امریکہ کی جس دیوانگی اور وارفتگی میں مبتلا ہوا ہے، اس نے امریکہ کو سوشل جسٹس کی منزل سے گرا کر خود غرضی، انانیت اور نرگسیت کی کیفیت کا شکارکرا کے اپنے آپ کو اس کردار سے محروم کر دیا ہے جو سپرپاور کے شایان شان ہوتا ہے۔ امریکہ کی عادتوں نے روس، چین کو بیدار کر کے آپس میں قریب کر دیا ہے اسی طرح ترکی اور پاکستان جو کبھی امریکہ نوازی میں سرفہرست شمار کئے جاتے تھے، آج روس اور چین کیساتھ کھڑے ہیں۔ پاکستان کے سیاستدانوں کو اگرچہ آپس کی رقابتوں، چپقلشوں، حسد اور کینہ پروریوں سے فرصت نہیں لیکن شکر ہے کہ پاک افواج نے ہمیشہ ایسے حالات میں کہ قوم پر پژمردگی طاری ہونے کے خطرات لاحق ہونے لگے ہیں، دشمن ومخالف قوتوں کو دوٹوک انداز میں جواب دے کر قوم کا حوصلہ بڑھایا ہے۔ پاکستانی افواج نے دہشتگردی کیخلاف جنگ کیلئے امریکہ سے کوئی پیسہ نہیں لیا ہے بلکہ اب تک جو کچھ ملا ہے وہ فریقین کے درمیان طے شدہ کولیشن سپورٹ فنڈ کا حصہ تھا۔ پاکستان کو کسی کی مالی مدد کی ضرورت نہیں ہے۔ البتہ قومی وقار اور عزت وآبرو پر کبھی سمجھوتہ نہ ہوگا۔ پاکستان کے سیاستدانوں سے درخواست ہے کہ اس وقت سب تلخیاں بھلا کر آئندہ انتخابات کی تیاری کریں اور جو پارٹی منتخب ہو کر حکومت میں آجائے وہ تن من دھن کیساتھ پاکستان کو موجودہ صورتحال سے نکالنے کیلئے پلاننگ کرے۔ پاکستان کی معیشت تین سو ارب ڈالر کی ہے اس میں نمو کے بڑے امکانات ہیں۔ تب ہی تو برطانیہ کے شاہی تھنک ٹینک نے لکھا ہے کہ چین، روس، ترکی اور سعودی عرب پاکستان کی پشت پر ہیں۔ وہ دن لد گئے جب امریکہ پاکستان کو دھمکا کر ''ڈومور'' پر مجبور کر تا تھا۔ جنرل باجوہ نے ببانگ دہل ساری دنیا کو بتا دیاکہ پاکستان نے دہشتگردی کیخلاف جو کچھ کیا وہ ڈومور سے بھی زیادہ ہے۔ اب دنیا کی باری ہے کہ ڈومور کرے۔ ایران نے بھارت کیساتھ چاہ بہار اور دیگر معاہدات کر کے عجیب سیاست شروع کی ہے۔ بھارت اسرائیل اور امریکہ کا اتحادی اور امریکہ واسرائیل ایران کے دشمن اور بھارت ایران کا دوست۔۔ زہے نصیب۔ اسلئے گزشتہ دنوں عرض کیا تھا کہ امریکہ، ایران، شمالی کوریا وغیرہ کو خالی خولی دھمکیاں دیتا پھرتا ہے لیکن ترکی اور پاکستان اس کو ''اسلامیت'' اور ایٹم بم کی وجہ سے ایک آنکھ نہیں بھاتے لیکن سب سے عظیم بلکہ عظیم ترین سپرپاور اللہ کی ذات ہے اللہ ہماری حفاظت فرمائے۔ آمین۔

متعلقہ خبریں