Daily Mashriq


پاکستان کی ناکام خارجہ پالیسی

پاکستان کی ناکام خارجہ پالیسی

امریکہ کے مطابق پاکستان نہ صرف دہشتگردوں کی مدد کرتا ہے بلکہ اس مقصد کیلئے منی لانڈرنگ اور مالی معاونت بھی کرتا ہے۔ ہاکستان کو دہشتگردوں کی مدد کرنے والے ممالک کی فہرست میں رکھنے کیلئے پاکستان کا نام فنانشل ایکشن ٹاسک فورس میں پیش کیا گیا مگر چین اور روس کی کوششوں سے یہ معاملہ لسٹ میں3 مہینوں تک ملتوی کر دیا گیا۔ جو ممالک کسی ملک کو دہشت گر دی کی معاونت کی واچ لسٹ میں ڈالتے ہیں ان کی تعداد37 ہے۔ جن میں امریکہ، بھارت، ترکی، روس جاپان، آسٹریلیا، برازیل، چین، فرانس، جرمنی، کینیڈا، ملائیشیا اور نیوزی لینڈ شامل ہے۔ امریکہ، جرمنی اور برطانیہ، پاکستان کو دہشت گردوں کی واچ لسٹ میں شامل کرنے کیلئے سر دھڑ کی بازی لگا رہے تھے۔ اگر یہ قرارداد منظور ہو جاتی تو اس سے پاکستان کو اقتصادی اور مالی طور پر بہت نقصان ہوتا۔ جس کا نتیجہ یہ نکلتا کہ پاکستان آئی ایم ایف اور دوسری مالیاتی ایجنسیوں کی طرف جاتا اور ہمیں سخت شرائط پر قرضے لینے پڑتے جس سے ملک میں مہنگائی کا مزید طوفان برپا ہوتا، پاکستان کی اقتصادی ترقی کی شرح متاثر ہوتی، زرمبادلہ کے ذخائر متاثر ہوتے اور بین الاقوامی بینکس پاکستان میں کام کرنے سے اس وجہ سے کتراتے کہ کہیں ان پر منی لانڈرنگ یا دہشتگردی کی مدد یا معاونت کا الزام نہ لگے۔ دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان کے ستر ہزار سے زائد لوگ شہید ہوئے جن میں مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے دس ہزار افراد بھی شامل ہیں۔ امریکہ پاکستان کو بار بار اس بات کا طعنہدیتا ہے کہ پاکستان کو امریکہ نے33 ارب ڈالر دیئے ہیں مگر پاکستان کو1947ء سے لیکر اب تک 41 ارب ڈالر ملے ہیں جبکہ9/11 کے بعد پاکستان کو120 ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔ امریکہ بھارت اور اسرائیل پاکستان کو چاروں طرف سے گھیرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ امریکہ اور بھارت نے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کیلئے سیاسی پارٹیوں، این جی اوز اور میڈیا میں اربوں ڈالر تقسیم کئے ہیں تاکہ پاکستانیوں کے ذہنوں کو تبدیل کیا جائے۔ اس مہم کا بڑا ٹارگٹ مسلح افواج اور قانون نافذکرنے والے ادارے ہیں کیونکہ امریکہ، بھارت اور اسرائیل کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ مسلح افواج ہے۔ یہ عناصر پاکستانی افواج کو کمزور کر کے پاکستان کے ایٹمی ہتھیار کو قابو کرنا چاہتے ہیں۔ پاکستان کے جغرافیائی محل وقوع پر قبضہ کرنے یا اس کو کنٹرول کرنے، سی پیک کے منصوبے کو ناکام بنانے، ناموس رسالتۖ کے قانون کو ختم کرنے اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے وسائل کو قابو کرنے کیلئے امریکہ اور اتحادی کوشاں ہیں۔ایرانی صدر نے بھارت کے دورے کے موقع پر انڈیا کیساتھ بہت سے معاہدوں پر دستخط کئے جن میں توانائی، سلامتی، دفاع سے متعلق معاہدے شامل ہیں۔ دونوں ممالک نے یہ بھی معاہدہ کیا کہ وہ افغانستان میں مل کر کام کریں گے۔ ایران نے بھارت کو چاہ بہار بندرگاہ 18 مہینے کیلئے لیز پر دے دی ہے۔ چاہ بہار بندرگاہ گوادر سے90 کلومیٹر کے فا صلے پر ہے۔ پاکستان امریکہ اور بھارت کو کئی دفعہ تنبیہہ کر چکا ہے کہ ہم نیٹو فورس کیلئے سپلائی بند کر دیں گے۔ اسی تناظر میں بھارت نے ایران سے معاہدہ کرکے ایک اور راستہ ڈھونڈ لیا۔ چاہ بہار بندرگاہ سے بھارت پاکستان کو بائی پاس کرکے آسانی سے افغانستان پہنچ سکتا ہے۔ یہاں یہ بات اہم ہے کہ زاہدان ریلوے لائن منصوبے پر بھی کام تیزی سے جاری ہے۔ اس منصوبے کے مکمل ہونے سے بھارت کی رسائی وسطی ایشیائی ریاستوں اور یورپی ممالک تک ہوجائے گی۔ امریکہ افغانستان میں طالبان کو پاکستان کا دوست سمجھتا ہے اور دوسری ایک قوت ہے جو امریکہ اور یورپی ممالک کو اپنے لئے آئندہ کا خطرہ سمجھتے ہیں۔ افغان حکومت طالبان کو کچلنے کیلئے افغانستان کی کٹھ پُتلی حکومت افغان طالبان کیخلاف گرینڈ سیاسی الائنس کیلئے سرگرم ہے۔ یہ کام افغان نژاد امریکی باشندے خلیل زاد کو دیا گیا ہے۔ سیاسی راہنماؤں اور سابق جنگجو کمانڈروں کیساتھ افغان حکومت کے رابطے جاری ہیں جنہیں بھاری رقوم اور مراعات کی پیشکش کی جاتی ہے۔ حامد کرزئی اور گلبدین حکمت یار نے امریکہ کا وسیع البنیاد اتحاد کا منصوبہ مسترد کیا ہے۔ حزب اسلامی کے ترجمان نے کہا ہے کہ امریکہ کی خون ریزی کا منصوبہ کبھی کامیاب نہیں ہونے دینگے۔ امریکہ کے مطابق سال2022 تک وسیع البنیاد بھارت، امریکہ اور دوسری پاک دشمن قوتیں پاکستان میں بھی افراتفری پھیلانا چاہتی ہیں تاکہ نسلی اور لسانی بنیادوں پر ملک کو تقسیم کیا جائے۔ پاکستان کی سفارتکاری پاکستان کے اچھے تشخص کو دنیا کو پیش کرنے میں مکمل ناکام ہے۔ جس ملک کا فل ٹائم وزیرخارجہ نہ ہو اس ملک کی سفارتکاری کیا ہوگی۔ افغانیوں کو پاکستان نے40 سال تک اپنے ملک میں آباد کیا اور دو نسلیں پاکستان میں پروان چڑھیں۔ ہماری ناقص خارجہ سفارتکاری کی وجہ سے وہ اب ہمارے دوست نہیں دشمن ہیں۔ ایران بھی ہمارے ہاتھ سے نکل چکا ہے اور ہم اس خطے میں اکیلے ہوتے جا رہے ہیں۔ موجودہ حکومت کے پانچ سال پورے ہوگئے مگر اب تک وزیرخارجہ مقرر نہیں ہوسکا۔ دشمن ہمیں چاروں طرف سے گھیر رہے ہیں مگر ہمارے نااہل لیڈر ایک دوسرے کیخلاف برسر پیکار ہیں۔

متعلقہ خبریں