Daily Mashriq


حالات حاضرہ

حالات حاضرہ

آج ہر سوچنے والا وطن عزیز کے حالات پر پرنم ہے حالات جس ڈگر پر چل نکلے وہ بہت ہی پریشان کن ہے۔ ہمارے ایک مہربان اکثر کہتے ہیں کہ یار ما یوسیاں نہیں پھیلانی چاہئیں لوگوں کو درس امید دینا چاہیے ۔ ہمارا بھی اس بات پر ایمان ہے کہ اللہ پاک کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے ہر تاریکی میں روشنی کی کرن ضرور ہوتی ہے مسلمان کو ہر لمحہ پر امید رہنا ہی زیب دیتا ہے لیکن اب اس کا کیا علاج کہ ہم ہر طرف سے آنکھیں موند کر صرف اور صرف اپنے مفادات کے حصول کے لیے سر گرم ہو جائیں ۔ ایک بہت بڑا سوال اکثر ہمارا سامنے کھڑا ہو کر ہمارا منہ چڑاتا رہتا ہے کہ کیا ہم نے پاکستان جیسی عظیم نعمت کی قدر کی؟ کہیں آزادی حاصل کرنے کے بعد ہم کفران نعمت کے مرتکب تو نہیں ہوئے؟ آزادی کے بعد جو ذمہ داری ہمارے کاندھوں پر آپڑی ہے اسے ہم نے کس حد تک پورا کیا؟ کیا آج ہر محب وطن پاکستانی یہ سوچنے پر مجبور نہیں ہے کہ ہمارے بزرگوں نے لاکھوں جانیں قربان کر کے انگریز سے آزادی صرف اس لیے حاصل کی تھی کہ ہم آپس میں ہی لڑتے رہیں نصف صدی سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے باوجود بھی آپس میں اتحاد قائم نہ رکھ سکیں معمولی باتوں پر ایک دوسرے سے الجھتے رہیں سیاستدانوں کا قومی سلامتی کے اداروں سے الجھنا بہت بڑا لمحہ فکریہ ہے ! اپنے اہم ترین اداروں کو بھی بھی ہم نے اپنی ذاتی خواہشات کے حصول کا ذریعہ بنا دیا ہے۔ اس وقت ہمارا بال بال قرض میں جکڑا ہوا ہے معیشت روز بروز کمزور سے کمزور تر ہوتی جارہی ہے۔ مہنگائی نے غریب کا جینا دوبھر کردیا ہے توانائی کا بحران ہمارا سنگین مسئلہ ہے صنعتیں رکی ہوئی ہیں سرمایہ کار اپنا سرمایہ ہمسایہ ممالک منتقل کر رہے ہیں ۔ہماری بے اتفاقی اور آپس کے جھگڑوں کی وجہ سے ہم دشمن کے لیے تر نوالا ثابت ہورہے ہیں۔ وہ ہمارے خلاف بڑی آسانی سے سازشوں کے جال بن رہا ہے اور قدم قدم پر کامیابیاں اس کے قدم چوم رہی ہیں۔ وطن عزیزکی موجودہ صورتحال ہم سب کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ کراچی کی حیثیت ہماری معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی جیسی ہے اسی پر وطن عزیز کی معیشت کا دارومدار ہے۔ یہ اسی لیے دشمن کے نشانے پر ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ آج کے جدید دور میں حضرت انسان کی ساری لڑائیوں کی بنیادی وجہ اقتصادیات ہی ہے۔ امریکہ اپنے وطن سے ہزاروں میل دور یہاں کیا کررہا ہے ؟ اس کی وجہ بھی اقتصادی ہے اس کے اپنے اہداف ہیں اس کی اپنی ضرورتیں ہیں جنہیں اس نے پورا کرنا ہے۔کراچی میں رہنے والوں کے اختلافات تو اپنی جگہ مقامی سیاست کی کارستانیاں بھی اپنی جگہ لیکن دشمن کا نادیدہ ہاتھ بھی اپنی جگہ موجود ہے جو بظاہر نظر تو نہیں آتا لیکن اسے ہر جگہ محسوس کیا جاسکتا ہے۔ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ بڑے تواتر سے جاری ہے۔ لاقانونیت کا بازار گرم ہے کسی کو اپنی مرضی سے جینے کی اجازت نہیں ہے جہاں کوئی سر اٹھا کر چل نہیں سکتا آخر یہ سلسلہ کب تک چلتا رہے گا ؟ کیا کسی کے پاس ان مایوس کن حالات کو سدھارنے کا نسخہ نہیں ہے؟ نسخے بھی بہت ہیں اور حکیم صاحبان کی بھی کمی نہیں ہے لیکن اگر کمی ہے تو اخلاص کی! جن کو رہنمائی کا دعویٰ ہے ان کی گردن کا سریا انہیں مخالف فریق کی بات سننے نہیں دیتا۔ مسیحائی کا دعویٰ کرنے والے اپنے اپنے مفادات کی تکمیل میں کوشاں ہیں جتنی منصوبہ بندیاں بھی کی جارہی ہیں ان کا تعلق اقتدار کے ساتھ ہے اختیار کے ساتھ ہے سب کو اپنے اپنے اثاثوں کی فکر ہے۔ اب تو وہ دل دکھانے والی باتیں کی جاتی ہیں کہ نفرتیں مزید بڑھتی چلی جاتی ہیں دوریاں ہیں کہ بڑھتی ہی چلی جارہی ہیں ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالا جاتا ہے۔ اقبال نے جس میر کارواں کی بات کی تھی اب ڈھونڈ انہیں چراغ رخ زیبا لے کر۔نگاہ اسی وقت بلند ہوتی ہے جب عوام کے لیے سوچا جائے عوامی تکلیفات و مشکلات کو کم کرنے کی کوشش کی جائے۔ اب یہاں صورتحال یہ ہے کہ اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں روز بروز اضافہ کیا جارہا ہے عوام بیچارے حالات کے ساتھ اپنی جان ناتواں کی ساری توانائیوں کے ساتھ نبرد آزما ہیں نوجوان صبح ملازمت کرتے ہیں اور رات کو رکشہ چلاتے ہیں اب تو ایک ملازمت کا تصور بھی ختم ہوتا چلا جارہا ہے۔ رزق حلال کی تگ و دو میں ہی سارا وقت لگ جاتا ہے انہیں دوسری طرف دیکھنے کا موقع ہی نہیں ملتا۔ ہماری ملاقات ایک نوجوان سے ہوئی تو اس نے ہمارے سامنے اپنی حاصل کردہ ڈگریوں کا پلندا رکھ دیا اور کہنے لگا کہ پچھلے پانچ سالوں سے نوکری کی تلاش میں مارا مارا پھر رہا ہوں لیکن ملازمت کالے گلاب کی طرح نا یاب ہو چکی ہے اب آپ ہی بتائیے کہ کہاں جائیں۔ ہم نے اس نوجوان سے کہا بیٹا بے روزگاری تو اپنی جگہ حکومت کے بھی بہت سے مسائل ہیں اور پھر حکومت کے لیے سب کو ملازمت دینا ممکن بھی نہیں ہے لیکن آپ نے کبھی سوچا کہ پوسٹ گریجویٹ ہونے کے باوجود آپ پبلک سروس کمیشن کا امتحان گزشتہ پانچ سالوں سے فیل کرتے چلے آرہے ہیں آپ نے ایم اے کا امتحان تو پاس کر لیا لیکن اپنے مضمون پر آپ کی دسترس کمزور ہے ورنہ آپ کمیشن پاس کر چکے ہوتے۔ آگے بڑھو ہمت کرو مطالعہ کرو طلبہ کو پڑھانا شروع کردو ساتھ ساتھ سرکاری ملازمت کے لیے تگ و دو بھی جاری رکھو ۔ اب یہ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھنے کا زمانہ نہیں ہے۔ حالات کا مردانہ وار مقابلہ کرنا ہے ۔ اس کے علاوہ ہم اسے اور کہہ بھی کیا سکتے تھے۔

متعلقہ خبریں