Daily Mashriq


کیا وزیراعظم عباسی عہدے پر برقرار رہیں گے؟

کیا وزیراعظم عباسی عہدے پر برقرار رہیں گے؟

کہاوت مشہور ہے کہ مصیبت تنہا نہیںآتی بلکہ کئی اورمصائب بھی اپنے ساتھ لاتی ہے، مسلم لیگ ن کیساتھ بھی موجودہ دور میں کچھ ایسا ہی ہو رہا ہے، صحیح کرنے کی ہر کوشش کے نتائج اُلٹے نکل رہے ہیں، یہ الگ بات ہے کہ میاں نواز شریف کے قریبی ذرائع اب بھی انہیں تسلیاں دے رہے ہیں کہ وہ مخاصمت کی سیاست سے ایک طاقتور لیڈر کے طور پر سامنے آ رہے ہیں۔ سپریم کورٹ کی طر ف سے سابق وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کو پاکستان مسلم لیگ (ن) کی صدارت سے نااہل قرار دینے کے بعد عدالت نے28 جولائی2017 سے بطور پارٹی سربراہ جاری کی گئی ہدایات اور دستاویزات کو بھی کالعدم قرار دیا ہے۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا ماضی سے اطلاق کیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ کے ایسے بہت سے فیصلے موجود ہیں جن کے مطابق کوئی حکم مؤثر بہ ماضی نہیں ہو سکتا۔ اس بابت آئین کا آرٹیکل12بھی سزاؤں کے ماضی سے اطلاق سے تحفظ دیتا ہے۔سپریم کورٹ نے2009 میں پی سی او ججز کیس میں پرویز مشرف کے عبوری آئینی فرمان کے تحت2007 میں حلف اُٹھانے والے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی سفارش پر تعینات ہونے والے اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو فارغ کر دیا تھا، اس فیصلے کے نتیجے میں سپریم کورٹ سمیت اعلیٰ عدلیہ کے103ججوں کو گھر جانا پڑا تھا تاہم سپریم کورٹ نے ان ججوں کے فیصلوں کو برقرار رکھا، حتی کہ انہوں نے بطور جج جو تنخواہیں وصول کی تھیں وہ بھی واپس نہیں لی گئی تھیں۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد سینیٹ کے آئندہ انتخابات اور شاہد خاقان عباسی کی وزارت عظمیٰ کے حوالے سے بحث شروع ہو گئی ہے۔ کیا وزیراعظم کا انتخاب بھی اس فیصلہ کی روشنی میں اس بنا پر کالعدم ہو گیا ہے کہ شاہد خاقان عباسی کو سابق وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کی ہدایت پر وزیراعظم کا امیدوار نامزد کیا گیا تھا۔ شاہد خاقان عباسی کو آئین کے آرٹیکل91 کے تحت وزیراعظم منتخب کیا گیا، اس آرٹیکل میں کسی سیاسی جماعت کی طرف سے وزارت عظمیٰ کے اُمیدوار کی نامزدگی کی کوئی شرط موجود نہیں ہے۔ آئین کے تحت قومی اسمبلی اپنے مسلم ارکان میں سے کسی ایک کو وزیراعظم کے طور پر اکثریت رائے سے منتخب کر سکتی ہے، دوسرے لفظوں میں وزیراعظم منتخب ہونے کیلئے قومی اسمبلی کی کل نشستوں کے 51 فیصد ارکان کا ووٹ حاصل کرنا ضروری ہے۔میاں محمد نوازشریف کو28جولائی 2017 کو سپریم کورٹ نے نااہل قرار دیا تھا جس کے بعد وہ پارٹی صدارت سے بھی الگ ہو گئے تھے اور وہ آئین اور الیکشن ایکٹ مجریہ2017 میں ترامیم کے بعد دوبارہ3 اکتوبر2017 کو پارٹی کے صدر منتخب ہوئے تھے جبکہ قومی اسمبلی نے شاہد خاقان عباسی کو یکم اگست2017 کو وزیراعظم منتخب کر لیا تھا۔ مسلم لیگ (ن) نے بطور جماعت اپنی حیثیت برقرار رکھنے کیلئے سردار یعقوب خان ناصر کو قائم مقام پارٹی صدر بھی منتخب کیا تھا جو17اگست سے3 اکتوبر2017 تک اس عہدہ پر فائز رہے۔ شاہد خاقان عباسی کو کوئی پارٹی ٹکٹ جاری کیا گیا تھا اور نہ ہی وزارت عظمیٰ کے اُمیدوارکیلئے آئینی طور پر کسی پارٹی ٹکٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلہ میں الیکشن ایکٹ مجریہ2017 کے متعلقہ سیکشن203 اور 232 کو کالعدم نہیں کیا بلکہ ان کی آئین کے آرٹیکلز62، 63 اور63 اے کے تحت تشریح کی ہے اور قرار دیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل63اے کے تحت سیاسی جماعت کے سربراہ کا اپنے ارکان پارلیمنٹ کے حوالے سے مرکزی کردار ہے جو کسی نااہل شخص کو ادا کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ مذکورہ بحث سے یہ نتیجہ نکالنا درست ہے کہ شاہد خاقان عباسی کی وزارت عظمیٰ کوکو ئی خطرہ نہیں ہے، اگر سپریم کورٹ اس پارلیمنٹ کے بنائے ہوئے قانون کو کالعدم نہیں کرتی تو پھر پارلیمنٹ کے منتخب کئے ہوئے وزیراعظم کو کیسے گھر بھیج دے گی۔ بعض حلقوں کی طرف سے یہ بحث بھی چھیڑی گئی ہے کہ آئین کے تحت صدر مملکت کو نواز شریف کے خلاف عدالتی فیصلوں کو غیر موثر بنانے کا اختیار حاصل ہے، یہ بات درست نہیں ہے، صدر مملکت کو آئین کے آرٹیکل45کے تحت کسی عدالت یا ٹربیونل کی طرف سے مجرم کو سنائی جانے والی سزا معاف کرنے، ملتوی کرنے اور اس میں کمی کرنے کا اختیار حاصل ہے، صدر مملکت صرف جسمانی سزا ہی ختم یا کم کر سکتے ہیں۔ بعض قانونی ماہرین کا خیال ہے کہ صدر مملکت ایسے مقدمات میں جرمانے کی سزا بھی معاف کر سکتے ہیں تاہم صدر کو انہیں جرم ختم کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہے۔علاوہ ازیں نوازشریف کے خلاف عدالتی فیصلوں میں انہیں قید یا دیگر کوئی جسمانی سزا نہیں سنائی گئی ہے، اس لئے صدر کا اختیار ان عدالتی فیصلوں پر لاگو نہیں ہوتا۔ البتہ انہیں نیب عدالت سے قید کی کوئی سزا ہو جاتی ہے تو صدر اسے معاف کرنے یا اس میں کمی کرنے کے مجاز ہوں گے تاہم وہ ان کی نااہلی کو اہلیت میں نہیں بدل سکتے۔ وہ انہیں اپنے معافی کے اختیار سے دوبارہ پارلیمنٹ نہیں بھیج سکتے بلکہ جیل جانے سے بچا سکتے ہیں۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلہ سے قبل ہی مسلم لیگ (ن) اور سابق وزیراعظم میاں محمد نوازشریف ایک بیانیہ کو لے کر چل رہے تھے۔ میاں نوازشریف کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے عدلیہ کو آزاد کروایا اور اب عدل کو بھی آزاد کروائیں گے۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلہ کے بعد کیا میاں نوازشریف اور ان کی سیاسی جماعت اس بیانیہ کو زیادہ شدت کیساتھ دہرائے گی؟۔

متعلقہ خبریں