عبرتناک سزائوں کا قانون منظورکرنے کی ضرور ت

عبرتناک سزائوں کا قانون منظورکرنے کی ضرور ت

قصور کی مظلوم بیٹی زینب کے قاتل کی گرفتاری بلاشبہ ایک کامیابی ضرور ہے لیکن اسے ممکن بنانے کیلئے پنجاب حکومت نے جو وسائل استعمال کئے اور ٹیم کے ارکان نے جو تندہی دکھائی کیا اس جیسے دیگر مقدمات میں بھی اسی قسم کی کارکردگی کامظاہرہ کیاجائے گا یقینا نہیں ۔ اگر ایسا کرنا ممکن نہیں تو پھر اس ایک قاتل کی گرفتاری کافی نہیں البتہ اس قاتل کی گرفتاری اس لحاظ سے اہم ضرور ہے کہ اس درندے نے قبل ازیں آٹھ بچیوں کو بھی قتل کرنے کا ارتکاب کیا تھا اگر اس وقت پہلی دوسری ، تیسری بچی کے قتل پر ہی پولیس اس قسم کی فعالیت کا مظاہرہ کرتی اور قاتل کو کٹہرے میں لا کھڑا کرنے کی کامیاب تگ و دو ہوتی تو دیگر بچیوں کو محفوظ بنایا جا سکتا تھا۔ اس بات سے اختلاف کی گنجائش نہیں کہ اس طرح کے معاملات کو سیاسی نہ بنایا جائے یقینا اس طرح کے معاملات پر سیاست نہایت ہی ناپسند یدہ عمل ہے لیکن اگر دیکھا جائے تو وطن عزیز میں جب تک کسی معاملے پر احتجاج نہ ہو تو پولیس اور متعلقہ حکام اس مسئلے کو حل کرنے کی بجائے اسے دبانے لگتے ہیں۔ زینب قتل کیس کو اگر سول سوسائٹی اور خاص طور پر میڈیا اس قدر ہوا نہ دیتا تو کیا حکومت پنجاب اس قدر وسائل جھونک کر اور ہر قیمت پر قاتل کی گرفتاری یقینی بنانے کی تگ و دو کرتی، شاید ایسا نہ ہوتا بلکہ زینب کا کیس بھی اب تک داخل دفتر ہو چکا ہوتا۔ ہماری پولیس خواہ وہ پنجاب کی ہو یا خیبر پختونخوا کی لاتوںکے بھوت باتوں سے نہیں مانتے کے عین مصداق بن چکی ہے ۔ ان کو جگانے اور ان کو متحرک بنانے کیلئے عوام کو سڑکوں پر نکلنا پڑتا ہے ۔ میڈیا کو چیخنا چلاناپڑتا ہے اور اگر ایسا نہ کیا جائے تو سارا معاملہ دب جاتا ہے۔ جب تک اس قسم کا رویہ رہے گا اس وقت تک لوگ احتجاج پر مجبورہوں گے اور جرائم پیشہ افراد کو قانون کا خوف نہ رہے گا جب پولیس اپنا کام خود سنبھالنے لگے گی اس کے بعدہی عوام کا پولیس پر اعتماد بحال ہوگا اور جرائم پیشہ عناصر کو پولیس سے خوف محسوس ہونے لگے گا۔ اب تک تو ہماری اپنی پولیس کو اصلاح کی ضرورت ہے اس لئے کہ خود ہماری پولیس جعلی پولیس مقابلوں اور ماورائے عدالت قتل کے ارتکاب سے باز نہیں آئی۔ نقیب اللہ محسود کے بے گناہ قتل کئے جانے کا واقعے پر بھی اگر سول سوسائٹی اور میڈیا دبائو نہ ڈالتی تو ملیر پولیس کو پولیس کے اعلیٰ حکام شاباش دے چکے ہوتے ۔ مردان میں اسماء کے قتل پر بھی اسی طرح احتجاج ہونا چاہیئے اور شور مچنا چاہیئے کہ ثابت ہو کہ وہ بھی قوم کی بیٹی تھی اس کیلئے بھی انصاف کو ممکن بنانا ہے ۔ بہرحال ان تمام معروضات کے باوجود پنجاب پولیس کا ایک چالاک اور تجربہ کار قاتل کی بالآخر گرفتاری میں کامیابی احسن کارکردگی کے زمرے میں آتا ہے۔ پنجاب میں جدید ترین فرانزک لیب کا قیام اور اس کو جرائم کے سد باب کیلئے بروئے کار لانے کی سعی دوسرے صوبوں کیلئے قابل تقلید مثال ہے۔ جہاں تک زینب کے قاتل کی گرفتاری کی ذمہ داری کا تعلق ہے وہ پوری ہو چکی، انتظامیہ اور حکومت اپنا کام کر چکے اس کے بعد عدالت سے ان کا بھر پور تعاون اور چالان پیش کرنے میں کم سے کم وقت صرف کرنا فطری امر ہوگا اس کے بعد کا مرحلہ عدالت کیلئے کسی امتحان سے کم نہیں یقینا ہمارا عدالتی نظام اور قوانین اس ضمن میں مروجہ قوانین ہی کے محتاج ہیں جس میں بد قسمتی سے اسقام کسی سے پوشیدہ نہیں وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف ملزم کو سزا دینے کے طریقے کی جو خواہش رکھتے ہیں ملک کے پورے عوام کی بھی یہی خواہش ہے عدالت میں بیٹھا منصف بھی اس سے متفق ہو تب بھی بد قسمتی سے اس قسم کی سز ا ممکن نہیں کیونکہ اس کی ہمارے قوانین میںگنجائش نہیں قصور اور مردان کے واقعات اور اس جیسے دیگر واقعات سے ماں باپ اور ان کے بچے غرض ہر کوئی اپنی اپنی جگہ اضطراب و احساس عدم تحفظ کا شکار ہے اس قسم کے واقعات کی روک تھام کے ضمن میں سینئر تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ زینب کے قاتل کیلئے صرف ایک سزاہے جو آقا ؐ تجویز کر گئے ہیں اور وہ سزا سنگسا رکی ہے ، زینب کے مجرم کا آدھا جسم زمین میں گاڑ کر سنگسار کیا جانا چاہیئے ، مجرم کو فائرنگ اسکواڈ کے آگے کھڑا کر کے چھلنی کر دیا جائے تاکہ کوئی آئندہ ایسی حرکت کرنے کا سوچ بھی نہ سکے ، زینب کے قاتل کیخلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اور سات بار پھانسی دی جائے ، زینب کیس کا فیصلہ بیس دن میں ہو سکتا ہے ، چیف جسٹس آف پاکستان عدالت کو اس مدت میں فیصلہ کر نے کا حکم دیں ۔ بچوں کے جنسی استحصال میں ملوث لوگوں کو سخت سزا ضرور دی جائے لیکن سزائوں میں تسلسل زیادہ ضروری ہے ، حکومت کو وہ حالات تبدیل کرنا ہوں گے جس میں انسان درندگی کی طرف چلے جاتے ہیں ، حکومت صرف میڈیا کے معاملہ اٹھانے پر حرکت میں نہ آئے بلکہ ازخود اپنا کام ایمانداری سے کرے ، نظام انصاف کے تمام حصے ٹھیک کرنا پڑیں گے ورنہ ایسے واقعات ہوتے رہیں گے ۔ بچوں سے متعلق جرائم کیلئے خصوصی عدالتیں قائم کی جائیں جہاں مقررہ وقت میں سزائیں دی جائیں ، زینب کے قاتل کو سرعام پھانسی دینی چاہیئے ، جن لوگوں سے سات سال کی بچی محفوظ نہیں ان کا تہذیب سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ زینب ، اسماء اور شریفاںبی بی کے مجرموں کو پھانسی دی جائے گی تو سب کے بچے محفوظ ہوں گے ، ایسی قانونی ترمیم کی جائے کہ ان مجرموں کو سر عام گولیاں ماری جائیں سینئر تجزیہ کاروں کے یہ خیالات کسی جذباتی نوجوان کے خیالات نہیں ان خیالات کی اصابت سے بھی انکار ممکن نہیں امر واقعہ یہ ہے کہ حکومت اور ادارے کام نہیں کرتے تو جہاں ایک طرف خود کش بمبار بڑھتے ہیں تو دوسری طرف رائو انوار جیسے لوگ پیدا ہوتے ہیں ۔ ہمیں اگر اس قسم کے واقعات کی روک تھام مطلوب ہے تو اس طرح کے واقعات کی تفتیش سے لیکر چالان عدالت میں جمع کرانے اور قانون شہادت تک سبھی میں ترامیم کرنا ہوں گی اس قسم کے درندوں کو سخت سے سخت سزا دینا ہی معاشرے کی تسکین اور وقت کا اہم تقاضا ہے۔ دنیا کے جن جن ممالک میں اس قسم کے واقعات بارے سخت سے سخت سزائیں موجود ہیں وہاں پر جرائم کی شرح بھی کم ہے ۔ ہمارے ارکان پارلیمنٹ کو اس طرح کے واقعات کی روک تھام کیلئے سخت سے سخت سزائوں کے قانون کی منظوری دینے میں ذرا بھی تردد نہیں ہونا چاہیئے اور نہ ہی حکومت کو بل پیش کرتے ہوئے کسی کی پسند و نا پسند اور بیرونی دنیا کے اعتراض کو خاطر میں لانا چاہیئے جب تک اس قسم کے افراد کو باعث عبرت سز ا نہیں دی جائے گی اس وقت تک اس قسم کے واقعات میں کمی نہیں آئے گی ۔

اداریہ