Daily Mashriq

استعفوں کی نہیں شمولیت کی سیاست مفید ہوگی

استعفوں کی نہیں شمولیت کی سیاست مفید ہوگی

اپنی ہی جماعت عوامی مسلم لیگ کے واحد رکن اسمبلی شیخ رشید احمد کی جانب سے استعفیٰ کا کاغذ لہرا نے کے بعد تحریک انصاف کے قائد عمران خان کا اس سے اتفاق کے عندیہ کی ہوا شیخ رشید نے استعفے سے لیت ولعل کا راستہ اختیار کر کے خود ہی نکال دی ہے۔ اس صورتحال میں عمران خان کے خیبرپختونخوا اسمبلی کے پارٹی اراکین کے استعفوں کا اپنے پاس جمع کرانے کا عندیہ بلا ضرورت ہی نہیں بلکہ مخالفین کو تنقید و اعتراض کیلئے ایک مضبوط بنیاد اپنے ہی ہاتھوں فراہم کرنے کے مترادف ہے ۔ اخباری اطلاعات کے مطابق بعض اراکین اسمبلی نے استعفے جمع کرانے سے احتراز کیا ہے اس طرح کی صورتحال قومی اسمبلی سے استعفے دیتے ہوئے بھی پیش آئی تھی لہٰذا بعید نہیں کہ یہاں بھی اس کا اعادہ ہوا ہوگا ۔ ہمارے تئیں تحریک انصاف کواب اس طرح کے سیاسی دائو پیچ اپنانے کی بجائے آئندہ عام انتخابات کی تیاری پر توجہ دینی چاہیئے اب جبکہ فروری کی دو تاریخ سینیٹ کی انتخابی تیاریوں کے حوالے سے طے ہو گئی ہے ۔ استعفوں کاکارڈر از خود کمزور حربہ بن چکا ہے حقیقت بھی یہ ہے کہ تحریک انصاف کی دھمکی بھی شیخ رشید کی بڑھک سے زیادہ مختلف نہیںہوگی کیا اس سے بہتر نہیں کہ تحریک انصاف صوبے میں اپنی حکومت کو بلوچستان کی طرز کی کسی ممکنہ تبدیلی سے بچائے۔ تحریک انصاف نے جے یو آئی (ف) کے سربراہ کی پی پی پی کے شریک چیئر مین آصف زرداری سے اس طرح کی کسی مبینہ کامیابی کا سیاسی طور پر بھر پور جواب ان کے رکن صوبائی اسمبلی کو تحریک انصاف میں شامل کر کے دیاہے ۔ سیاسی دائو پیچ کا استعمال اور بیان بازی کا سبھی جماعتوں کو حق ضرور حاصل ہے لیکن اگروہ کوئی سیاسی چال چلتے وقت اس کے ممکنہ اثرات رد عمل اور عوامی تاثرات کا محتاط انداز ہ لگالیا کریں تو زیادہ بہتر ہوگا ۔ توقع کی جانی چاہیئے کہ تحریک انصاف کی قیادت خود اپنے مفاد میں اس قسم کے سیاسی حربے استعمال کرنے سے اجتناب کرے گی جس کے نتیجے میں صوبے میں سیاسی انتشار وعدم استحکام کی نوبت آئے ۔
بجلی چوروں کے خلاف مہم احسن اقدام
خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں نادہندگان کی بجلی منقطع کرنے کی پیسکو کی مہم اس لئے بھی زیادہ ضروری ہے کہ اس سے جہاں واجبات کی وصولی کی راہ ہموار ہوگی وہاں حقدار لوگوں کو بجلی کی فراہمی میں بہتری ممکن ہوگی ۔ خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں میں بجلی کی چوری کے باعث نہ صرف خطے کے عوام کی بد نامی ہورہی ہے بلکہ اس کو جواز بنا کر صوبے کے عوام کو ان کے حصے کی بجلی میں بھی تامل کا رویہ اختیار کیا جاتاہے ۔ یہ صوبے اور فاٹا کے عوام کے اپنے مفاد میں ہے کہ وہ بجلی بلوں کی ادائیگی کر کے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور پیسکو سے ضرورت کے مطابق بجلی کی فراہمی کیلئے دبائوبڑھائیں ۔ عوام ضرورت کے مطابق بجلی کی فراہمی یقینی بنانے کے مطالبے بارے اس وقت ہی حق بجانب ہوں گے جب وہ بجلی کے استعمال کے بعد اس کی قیمت کی ادائیگی مقررہ وقت کے اندر یقینی بنائیں ۔ نادہندگان کی بجلی منقطع کرنے والی ٹیموں کو اکثر وبیشتر سیکورٹی کے مسائل درپیش آتے ہیں اس ضمن میں صوبائی حکومت کو اہلکاروں کے تحفظ کی ذمہ داری نبھانے میں تساہل کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیئے تاکہ بجلی چوروں کیخلاف موثر کارروائی کر کے ان سے بقایا جات کی وصولی کی جاسکے یا پھر ان کی بجلی منقطع کرکے بجلی چوری کی روک تھام کو ممکن بنایا جا سکے ۔

اداریہ