قصور کی زینب کا قتل

قصور کی زینب کا قتل

بھرپور پریس کانفرنس میں وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ قصور کی زینب کے ساتھ زیادتی کرنے کے بعد اسے قتل کرنے کا ملزم عمران گرفتار کر لیا گیا ہے۔ زینب کا قتل اس قدر دل دکھانے والا واقعہ تھا کہ اس پر سارے ملک میں احتجاج ہوا۔ آخر منگل کے روز پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے خود ایک پریس کانفرنس میں ملزم کی گرفتاری کی خبر دی اور کہا کہ ملزم عمران کو جو قصور ہی کا رہائشی ہے پولیس ‘ خفیہ کار ایجنسیوں اور فرانزک لیب کی شبانہ روز محنت کے بعد گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اخبارات کی خبروں کے مطابق ملزم عمران قصور ہی کا رہائشی ہے۔ راج مستری کا کام کرتا ہے ، اس کی عمر 24سال ہے۔ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ وہ نعتیہ محافل میں بھی شرکت کرتا تھا۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس کے مطابق اس پر جن آتے ہیں ، جن کے زیر اثر وہ بچیوں کو اغوا کر کے ان کے ساتھ زیادتی کے بعد انہیں قتل کر دیتا ہے۔ آٹھ سالہ زینب کو اس نے چکمہ دیا تھا کہ وہ اسے اس کے والدین سے ملوانے لے جا رہا ہے۔ ملزم کے بارے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ وہی قصور کی ان آٹھ بچیوں کا قاتل ہے جو 2015ء کے بعد سے اب تک ایسی ہی وارداتوں میں جاں بحق ہوئی تھیں۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کے اور ان مقتول بچیوں کے ڈی این اے میں مکمل مشابہت پائی گئی ہے۔ ایک اخبار میں ایسی خبر بھی ہے کہ ملزم نے گرفتاری کے بعد ڈی این اے ٹیسٹ سے پہلے ہی اعتراف جرم کر لیا اور جنات کے اثر کا جواز اختیار کیا۔ ملزم عمران کے اس بیان کے حوالے سے کہ پیر اس پر دم کرتا تھا اور وہ جنات کے کہنے پر بچیوں سے زیادتی کرتا تھا، پولیس نے حافظ سہیل نامی ایک پیر کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ دریں اثناء ملزم کے گھر والے غائب ہو گئے ہیں کیونکہ ہجوم نے ان کے گھر کو آگ لگانے کی کوشش کی تھی۔ پولیس کے لیے یہ ضروری ہونا چاہیے کہ اس کے گھر والوں کی زندگی بچانے کی کوشش کرے کیونکہ ان سے اہم شہادتیں بھی حاصل ہو سکتی ہیں۔ 

درج بالا واقعات سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ ملزم عمران اکیلا نہیں ہے ۔ اس کے مطابق پیر سہیل اس پر دم کرتا تھا اور وہ جنات کے کہنے پر بچیوں سے زیادتی کرتا تھا۔ یقینا جنات کا بندوبست پیر سہیل ہی کرتا ہو گا۔ یہ سوال اہم ہونا چاہیے کہ ملزم کس جگہ بچیوںسے زیادتی کرتا تھا اور وہاں ’’جنات‘‘ کے آنے کا بندوبست کیا تھا۔ پیر سہیل کے ٹھکانے پر چھاپہ مارنے کی کوئی خبر شائع نہیں ہوئی۔ اس امکان کو بعید از قیاس نہیں سمجھا جانا چاہیے کہ آیا اس مقام پر بچیوں کے ساتھ زیادتی کی ویڈیو تیار کی جاتی تھی؟ قارئین کو یاد ہو گا کہ اس سے پہلے قصور ہی میں ایک گروہ کے خلاف ایسی شکایات آئی تھیں جو کم عمر لڑکوں کے ساتھ زیادتی کرکے ان کی ویڈیو بنایا کرتا تھا۔ یہ مقدمہ ابھی چل رہا ہے۔ اگرچہ کہا یہ جا رہا ہے کہ ویڈیو فلموں کے ذریعے مظلوم لڑکوں اور ان کے والدین کو بلیک میل کیا جاتا تھا تاہم ایسی اطلاعات ہیں کہ مغربی ممالک میں ایسے گندے لوگ بھی ہیں جو بچوں سے جنسی تشدد کی ویڈیوز خریدتے ہیں ۔ عمران کے بارے میں یہ معلوم کیا جانا ضروری ہے کہ وہ جن بچوں کے ساتھ زیادتی کر کے انہیں قتل کرتا تھا آیا ان کی ویڈیوز تیار کی جاتی تھیں۔ پیر سہیل نامی شخص کا ممکن ہے اس میں اہم کردار ہو۔ پولیس نے کہا ہے کہ ملزم عمران ہی زینب سے پہلے زیادتی کے بعد قتل ہونے والی آٹھ بچیوں کا بھی قاتل ہے۔ اس حوالے سے کہا جاتا رہا ہے کہ اس کا ڈی این اے ان بچوں کے ڈی این اے سے مماثل نکلا ہے ۔ (اس حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ اس نے اعترافی بیان بھی دیا ہے تاہم ملزم کسی وقت بھی اس بیان سے منحرف ہو سکتا ہے)۔ اس مماثلت کے دریافت ہونے کے لیے یہ ضروری ہے کہ 2015ء سے اب تک قتل ہونے والی بچیوں کے ڈین این اے کیے گئے ہوں او رمحفوظ کیے گئے ہوں۔ اگر عمران ان تمام بچیوں کا قاتل ثابت نہیں ہوتا تو اس کی آڑ میں دیگر قاتل بچ سکتے ہیں۔
ملزم عمران کے اہل خانہ روپوش ہو گئے ہیں ۔ ان کی حفاظت پولیس کی ذمہ داری ہے ۔ لیکن ان سے بھی زیادہ بڑی ذمہ داری خود ملزم عمران کی زندگی کی حفاظت ہے۔ ملزم کو اب روزانہ کی بنیاد پر عدالت میں پیش کیا جائے گا، کسی وقت بھی کوئی مشتعل جذبات سے مغلوب شخص اس پر وار کرسکتا ہے۔ اور اس طرح آٹھ بچیوں کے قتل کا ملزم قتل ہو سکتا ہے جس کے ساتھ ان بچیوں کے مقدمات بھی دفن ہو سکتے ہیں۔ یہ بات ثابت ہونی چاہیے کہ وہی ان تمام بچیوں کا قاتل ہے ۔ اس سے پہلے اس کی حفاظت کا پورا بندوبست کیا جانا چاہیے۔ اسے ایسی حوالات میں رکھا جانا چاہیے جہاں اس پر دیگر حوالاتیوں کے حملہ کا اندیشہ نہ ہو۔ اور پیر سہیل نامی ملزم سمیت اس کے روپوش ہونے میں مدد کرنے والوں کے بارے میں مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں اور انہیں بھی شریک مقدمہ کیا جانا چاہیے۔ بصورت دیگر اگر ملزم کو کوئی گزند پہنچ جائے گی تو پولیس اپنی ذمہ داریوں سے آزاد ہو جائے گی۔ اس حوالے سے اہم سوال یہ ہے کہ ان آٹھ بچیوں میں سے دو کے قتل کے ملزم پولیس کی حراست سے فرار ہونے کی کوشش میں پولیس کے ہاتھوں مارے جا چکے ہیں۔ یہ کون تھے ؟ انہیں پولیس نے ویرانوں میںلے جا کر فرار ہونے کا موقع کیوں فراہم کیا اور انہیں فائرنگ کے ذریعے ہلاک کر دیا۔ کیا پولیس کی یہ کوشش تھی کہ بغیر مقدمہ چلائے ہی ان دو افراد کو گولیوں کا نشانہ بنا کر معاملے کو رفع دفع کر دیا جائے۔ یا یہ دونوں مقتول کوئی ایسی باتیں جانتے تھے جو پولیس کی کارکردگی پر سوال اٹھا سکتی تھیں۔ ان دو مقتولوں کے قتل کی جامع اور مکمل تحقیقات ہونی چاہیں۔ ممکن ہے بچیوں کے ساتھ زیادتی کے اس گندے دھندے سے پردہ اُٹھ سکے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان مقتولوں کی ویڈیوز بیرون ملک فروخت کی جاتی ہیں۔ جب تک یہ سب کچھ نہیں ہو جاتا قصور پولیس کو شاباش دینا مناسب نہیں۔

اداریہ