Daily Mashriq


یہ کہاں کی دوستی ہے

یہ کہاں کی دوستی ہے

ٹیکنالوجی، گلوبل ویلیج اور سوشل میڈیا کے اس دور میں دوست بنانا مشکل نہیں رہا۔ جس کسی کی تصویر یا اس کی پروفائل دل کو بھانے لگی اس کو دوستی کی پیش کش کرڈالی یا جس کسی نے دوستی کی پیشکش کی اسے دوستوں کی فہرست میں شامل کر لیا جاتا ہے اور یوں ہر روز دوستوں کی لمبی قطار میں اس رفتار سے اضافہ ہونے لگتا ہے کہ لسٹ میں شامل دوستوں کی تعدادسینکڑوں سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔ ہم نے بچپن میں دوستی کے متعلق ایک شعر از بر کررکھا تھا۔

روشنی چاند سے ہوتی ہے ستاروں سے نہیں

دوستی ایک سے ہوتی ہے ہزاروں سے نہیں

بات بچپن کے کچے ذہن کی تھی لیکن تھی بڑے پتے کی۔

نئے جب دوست ملتے ہیں پرانے بھول جاتے ہیں

نئے جب دل دکھاتے ہیں پرانے یاد آتے ہیں

بچے تھے نا۔ جو سنتے تھے اسے سچ مان لیتے تھے۔ کبھی کبھی ہم لفظی قلا بازیوں کو بھی شعر سمجھ کر ازبر کر لیا کرتے تھے۔

ایک پھول پھول لیکر پھول کے گھر گیا پھول نے پھول کر کہا تم تو خود ہی پھول ہو پھول کیوں لائے ہو

اک پھول نے پھول کو پھول مارا، پھول کا سرپھول گیا کہ وہ پھول لگا تھا گملے میں

وہ جو کسی نے کہا ہے کہ بچے قول کے سچے ہوتے ہیں۔ ان کا ذہن کورے کاغذ کی طرح کا ہوتا ہے۔ جس پر جو لکھ دیا جائے زندگی بھر مٹائے نہیں مٹتا۔ لیکن حق راستی تو یہ بھی ہے کہ ہمارے عہد طفولیت اور آج کے بچوں میں بڑا فرق ہے ، ایسا فرق جس کو مدتوں پہلے پروین شاکر نے محسوس کرلیا تھا

جگنو کو دن کے وقت پرکھنے کی ضد کریں

بچے ہمارے عہد کے چالاک ہو گئے

ہم نہیں تھے اتنے چالاک سو ہر کسی کو اپنا دوست سمجھنے لگے تھے لیکن ہم اپنی اس روش سے اس وقت باز آنے کی کوشش کرنے لگے جب ہم نے فراز کو فراز سے مخاطب ہوکر کہتے سنا کہ

تم تکلف کو بھی اخلاص سمجھتے ہو فراز

دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا

جی ہاں ہر ہاتھ ملانے والا دوست نہیں ہوتا۔ بلکہ ہاتھ ملانے والا ہاتھ جکڑنے یا نکالنے والا بھی ہوسکتا ہے۔ کہتے ہیں کہ دوست دشمن کی پہچان مشکل وقت میں ہوتی ہے۔ اللہ کے برگزیدہ اور حسین ترپیغمبر حضرت یوسفؑ کے بھائیوں نے انہیں اندھے کنویں میں محض اس لئے پھینکا کہ وہ ان کے بھائی تھے دوست نہیں تھے۔شاید تب ہی سے حق دوستی ادا نہ کرنے والے بھائیوں کو برادران یوسفؑ کے نام سے یاد کیا جا نے لگا۔ ہمارے صوبے میں دوستی کو یاری یا یارانہ بھی کہتے ہیں یہی وجہ ہے کہ پروفیسر خاطر غزنوی اپنی زندگی کے کسی تلخ تجربے کا احوال بتاتے ہوئے کہتے ہیں۔

گو ذرا سی بات پر برسوں کے یارانے گئے

پر اتنا تو ہوا کچھ لوگ پہچانے گئے

بعض اوقات ذرا سی بات، دوست اور دشمن کی پہچان کا باعث بن جاتی ہے اور بسا اوقات برس ہا برس کی معاملہ بندی سے بھی دوست اور دشمن کی پہچان نہیں ہوپاتی کچھ اس ہی طرح کا معاملہ پاکستان اور بھارت کے درمیان دوستی اور دشمنی کا ہے۔ یہ بات میں نریندر مودی کا وہ بیان پڑھ کر عرض کر رہا ہوں جس میں انہوں نے بغل کی چھری کو بغل ہی میں رہنے دے کر’ رام رام‘ کرتے ہوئے نمسکار یا پرنام کے سے انداز میں اپنے دونوں ہاتھ جوڑ تے ہوئے کہا ہے کہ ہم ’’پاکستان کو تنہا کرنے کے لئے کام نہیں کر رہے۔ آپس میں بہت لڑلیا آؤ مل کر غریبی اور بیماری سے لڑیں‘‘۔ یہ بات کرکے انہوں نے میرے سمیت نجانے کتنوں کے دل جیتنے کی کوشش کی ہوگی کہ بقول کسے میٹھے بول میں سر چڑھ کر بولنے والا جادو ہوتا ہے۔ لیکن یہ بات انہیں اپنی گرہ میں باندھ لینی چاہئیے کہ ’’پاکستان کبھی تنہا رہا ہے اور نہ کبھی تنہا رہے گا۔ مملکت خداداد پاکستان پر جب بھی مشکل گھڑی آئی اللہ کے فرشتے آسمان سے اتر کر اس ملک کی حفاظت کے لئے مامور ہوگئے ۔لیکن ستر برس سے زائد عرصہ ہونے کو آیا کوئی مائی کا لال آزاد مملکت پاکستان کا بال بھی بیکا نہ کرسکا‘۔ ہم نریندر مودی کو کہنا چاہتے ہیں کہ چائنہ اور بھارت دونوں پاکستان کے ہمسایہ ممالک ہیں۔ ہم ہمسائے کو ماں باپ جایا اور ایک دوسرے کا سایہ کہتے ہیں۔ چائنہ نے اپنے برسہا برس کے روئیوں سے پاک چائنہ دوستی کو آفاقی سچ بنا کر اقوام عالم کو بتادیا ہے کہ ہمسائیگی کو دوستی کے قالب میں کیسے ڈھالا جاتا ہے۔ گراں خواب چینی جب بیدار ہوئے تو انہوں نے پاکستان کی جغرافیائی اہمیت کو سمجھ کرہر آڑے وقت میں اس کی حکمت عملی کی نہ صرف حمایت کی بلکہ جان و دل سے اس کے ساتھ رہا۔ نریندر مودی یہ بات ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی بتادو کہ پاکستانی دھونس دھمکیوں سے مرعوب ہونے والے نہیں اور اگر ممکن ہو تو اپنے اس وزیر داخلہ کے گلے میں بھی پٹہ ڈال دینا جس نے پاکستان میں گھس کر کارروائی کرنے کی گیدڑ بھبکی دی ہے۔ ہم امن و آشتی اور پیار و محبت کے داعی ہیں۔ مانا کہ ہماری سادہ دل عوام جرم غریبی کی سزا بھگت رہے ہیں ، کہ ان کو کھرے اور کھوٹے لیڈروں میں تمیز نہیں۔ مودی تمہیں ہم سے پانچ گنا طاقتور ہونے کا زعم ہے اور طاقت کے نشے میں چور پاکستانی سرحدوں کی خلاف ورزی کرنے اور بلا اشتعال فائرنگ اور گولہ باری کرنے میں کوئی کسر روا نہیں رکھتے۔ رہنے دو مودی ، مت بڑھاؤ دوستی کا ہاتھ کہ ہمیں

دشمنوں کی جفا کا خوف نہیں

دوستوں کی وفا سے ڈرتے ہیں

متعلقہ خبریں