Daily Mashriq

اک شہر بے مثال کانوحہ

اک شہر بے مثال کانوحہ

برسوں کے وقفے سے ایک بار پھر ’’دیرہ پھلا ں دا سہرا ‘‘ (ڈیرہ اسماعیل خان ) تک کے سفر اور تین دن کے قیام نے اس شہر بے مثال سے چار دہائیوں کے تعلق خاطر کی یادیں تازہ کر دیں ۔ علم و ادب ، انسان دوستی ، مہمان نوازی ، ایثار اور برداشت کی خوبیوں سے گندھی مٹی پر بسے اس شہر میں اب رنج والم اور آسیب کے ڈیرے ہیں ۔ سندھو دریا کے کنارے آباد یہ شہر صدیوں کی کہانیاں لئے ہوئے ہے مگر جیسا بے اماں اب ہے کبھی نہ تھا ۔ کسی بزرگ ڈیرے وال سے ملیں ۔ جوان رعنا سے یا شور کی دہلیز پر قدم رکھتے معصوم صفت سے ایک سوال سب کے چہروں پر لکھا ہے ۔ ریاست نے اس شہر کو نومین لینڈ جتنی اہمیت بھی نہیں دی کیوں ؟ ۔ فقیر راحموں کو تو شہر میں قدم رکھتے ہی پروفیسر غلام قاصر مرحوم یاد آئے ۔ ہمارے اس صاحب علم و دانش اور اردو کے بلند پایہ شاعر کا خمیر اسی مٹی سے گندھا تھا ۔ کیسا اُجلا اور فہمیدہ انسان تھا اپنی مثال آپ محنت مشقت سے زندگی کی گاڑی کھینچی اور تعلیم کے بعد حصول علم کے مرحلے طے کئے ۔ پروفیسر قاصر شاعر اچھے تھے ۔ قیافہ شناس یا پھر دانشور اعلیٰ درجہ کے ، اس بات پر سید منظر نقوی اور دوسرے دوست آج بھی بات کر کے خوشی محسوس کرتے ہیں کہ اس طور ہم اپنے مرحوم دوست کی یادوں کو تازہ کرتے ہیں ۔سعید اختر سیال اور بلند اقبال ابھی حیات ہیں سُکھ سلامتی کے ساتھ شاد و آباد رہیں ۔ دونوں حضرات دوسرے دیگر صاحبان علم کی طرح اس شہر بے مثال کا چہرہ ہیں ۔ روشن ، پر عزم اور دولت علم وفہم سے مالا مال چہرہ ۔طاہر شیرازی روایت شکن شاعروں کے قبیلے کے تازہ دم وارث ہیں اور نئی روایات کے ساتھ شاعری میں جدید موضوعات کے ترجمان بھی ۔ اس شہر کے رو شن اور اُجلے چہرے بہت ہیں پروفیسر ضیا ء الرحمن ضیا ء الدین ،پروفیسر محبوب رحمن ، پروفیسر ڈاکٹر لیاقت ان سے سوا بھی ہیں اور بہت ہیں جو چراغ علم کی لو کم نہیں ہونے دیتے ۔ لیکن ایک سوال ہے جو ادنیٰ و اعلیٰ سبھی ڈیرے والوں کے چہروں پر لکھا ہے ، کس کی نظر بد لگ گئی تہذیب و ثقافت اور کلچر و تاریخ کے امین اس شہر کو ۔ اس بے اماں شہر کے بہت سارے نوحوں کو اگر ترتیب وار لکھا جائے تو ایک نہیں کئی کتابیں لکھی جا سکتی ہیں ۔یہاں اب کتابیں پڑھنے والے مگرکتنے ہیں ۔ فقیر راحموں دو روز اُدھر ڈیرہ کے سرکلرروڈ سے گزرتے ہوئے کہنے لگے شاہ جی جو لوگوں کے چہروں پر لکھے سوال اور آنکھوں کی ویرانی کی حقیقت نہ سمجھ سکیں وہ کتابیں پڑھ بھی لیں گے تو کیا ہوگا ؟ ۔ بات تو فقیر راحموں کی سچی ہے ۔ کئی دہائیاں ہوئی ہیں جب سرگودھا سے تعلق رکھنے والے شاعر دلنواز نذر بھٹی نے کہا تھا ’’ یہ کیسے عجیب لوگ ہیں ۔میں زندگی بھر پھولوں کو ترستا رہا اور یہ اب پھول میری تربت پر چڑھا نے آئے ہیں ‘‘۔ ایسا ہی ہمارے چاراور جس چیز کی ہمیں ہمارے بچوں کو آج ضرورت ہے وہ دُھول کی چادر اوڑھ کر سولینے پر ملی تو فائدہ ؟ ڈیرے کے لوگ بھی کیا قسمت لے کر پیدا ہوئے ہیں ۔ محرومیاں ، دُکھ جنازے ، ناقدری حالات سب جھیلتے ہوئے بھی مایوس نہیں بلکہ امیدوں کے چراغ جلائے ہوئے ہیں ۔ امیدوں کے روشن چراغ سے مسافر راستہ پاتا ہے کبھی مختصر اور کبھی لمبے وقفے سے اس شہر بے مثال پہنچ کر خوشی ہوتی ہے ۔ صاحبان علم کی قدم بوسی نصیب ہوتی ہے گھنٹوں ان کی محفل میں بیٹھ کر تاریخ و ادب ، سیاست ، کلچر اور دوسرے موضوعات پر انہیں روانی کے ساتھ کلام کرتے دیکھتا ہوں لیکن ان کے لہجے میں اُترا درد میرے دکھ کو بڑھا دیتا ہے ، سندھو دریا کے کنارے آباد یہ شہر صدیوں کا سفر کر کے یہاں تک پہنچا ہے ۔ اس کی تاریخ اور محبت سے گُندھی مٹی دونوںوا ہوتے ہیںمسافروں اور صحافیوں پر ۔اس بار تین دن کے قیام میں عجیب سی تنہائی ویرانی اور رنج والم کا احساس دو چند رہا ۔ ایک سوال پوچھتاتو جواب کے ساتھ دس سوال سننے کو ملتے ۔ کبھی کبھی تو مجھے یوں لگا کہ اب ڈیرہ کی فضا میں سوال رقص کرتے ہیں ۔آدھے پورے سوال ، جن کا جواب کوئی دینا نہیں چاہتا کوئی سنتا نہیں، پر کیسے یہ سب چلے گا ۔ ایک پولیس اہلکار نے کہا ۔ آ پ کو کیا بتائو ں ہم ان دیکھے قاتلوں کی زد میں ہیں اپنے بھائیوں اور بچوں کو محفوظ رکھنے کیلئے جان قربان کرکے بھی خود کو شہر کا مجرم سمجھتے ہیں ۔ نجانے اس کے لہجے میںکیا بات تھی کہ لرز کر رہ گیا ۔ اہل علم سے ملاقات نے پیاس علم کو بڑھا وا دیا ۔ کچھ صاحبان علم کی قدم بوسی کی سعادت وقت کی کمی اور مصروفیات کی بدولت نہ ہوسکی بہت سارے عزیز شکوہ کر رہے ہیں کہ آنے کی خبردی نہ جانے کی، ان سے کیا کہوں فقط یہی کہ میں ان کی آنکھوں میں اُترے آنسوئوں اور چہروں پر رقص کرتے سوالوں سے بچنا چاہتا تھا کہ مجھ قلم مزدور کے بس میں اس سے زیادہ کیا ہے کہ سوال اُٹھائوں۔یادیں تازہ کروں یا پھر نوحے لکھوں ، وہ بھی اس شہر بے مثال کا جس سے چار عشروں سے تعلق خاطر نبھ رہا ہے ، سچ یہ ہے کہ زندگی میں پہلی بار ڈیرہ سے بچھڑتے ہوئے عجیب سا محسوس ہوا۔ ایسالگا جیسے سندھو دریا کہہ رہا ہو اب اس لئے میرے کنارے نہیں اترے کہ چودہویں کی شب چاند میرے بطن سے طلوع نہیں ہوتا۔ کیا لکھوں اور کیا چھوڑ دوں کالم کے دامن میں گنجائش ہی کتنی ہوتی ہے ۔ فی الوقت آپ طاہر شیرازی کا شعر سُن لیجئے بس فقط یہی ہے ۔ 

متفق میں توکسی طور نہیں ہوں لیکن
کہہ رہا تھا کوئی مجھ سے کہ عذاب آتے ہیں

اداریہ