Daily Mashriq

تنہائی

تنہائی

ہم سے ایک ذہین طالب علم نے پوچھا کہ ہم ادب کیوں پڑھتے ہیں؟ غالب کی غزل پڑھنے کا آج ہمیں کیا فائدہ ہے ؟ہمیں تو کیمسٹری ، فزکس، پولیٹیکل سائنس،کمپیوٹر ، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور اسی طرح کے دوسرے مضامین پڑھنے چاہئیں ہم اکیسویں صدی میں نظم ، غزل، مثنوی اور قصیدہ پڑھ رہے ہیں؟ہماری موٹی عقل کو اس سوچنے والے طالب علم کے سوال نے ہلا کر رکھ دیا ! کوئی بتلائو کہ ہم بتلائیں کیا؟ لیکن کچھ تو کہنا تھا کالم نگاری کا بھرم بھی رکھنا ہوتا ہے ہم نے اسے ڈرتے ڈرتے کہا کہ آپ کی بات درست ہے فزکس ، کیمسٹری ، انفارمیشن ٹیکنالوجی آج کے اہم مضامین ہیں، دنیا سائنس میں بہت آگے نکل چکی ہے حیران کن ایجادات نے دنیا کی صورت بدل کر رکھ دی ہے جدید مشینری نے فن تعمیر کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا ہے، دھڑا دھڑ پلازے تعمیر ہورہے ہیں ایسی عمارتیں جن کی بلندی آسمان کو چھورہی ہے انسان چاروں طرف سے سریے اور سیمنٹ میں گھرا ہوا ہے، بڑھتی ہوئی آبادی نے زمین کا سینہ تنگ کردیا ہے سینکڑوں منزلہ عمارتیں بھی حضرت انسان کی بڑھتی ہوئی تعداد کے سامنے بے بس نظر آتی ہیں۔ انسانوں کی بجائے روبوٹ کام کر رہے ہیں کمپیوٹر یا گود میں رکھا ہوا لیپ ٹاپ جام جمشید بن چکا ہے جو چیز دل چاہے اس میں دیکھ لیجیے اس کے عجائبات زیادہ ہیں اور وقت کم ہے اب تو لوگ واش روم میں بھی اپنے ساتھ سمارٹ فون رکھتے ہیں تاکہ وقت ضائع نہ ہو سمارٹ فون پر آئی ہوئی وڈیوز بھی تو دیکھنی ہیںیہ اور اس طرح کے دوسرے بہت سے سائنسی عجوبات نے انسان کو اتنا مصروف کردیا ہے کہ اب اس کے پاس سرکھجانے کی فرصت بھی نہیں رہی۔ اس بے پناہ مصروفیت میں وہ اپنا آپ بھول چکا ہے اسے اب یہ بھی یاد نہیں رہا کہ اس کے جسم کے اندر روح بھی موجود ہے جہاں جسمانی تقاضے ہیں وہاں روح بھی اس سے کچھ چاہتی ہے مشین کی طرح مصروف انسان کو محبت بھی بھول چکی ہے اب اسے یہ بھی یاد کروانا ہے کہ گھر میں بوڑھے باپ کے پاس بھی تھوڑی دیر بیٹھنا بہت ضروری ہے ،تھکی ہاری ضعیف ماں کی آنکھیں بھی دروازے کی طرف لگی ہوئی ہیں کہ بیٹے کی واپسی کب ہوگی ؟ ترقی کا دلدادہ باپ جس پر ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاںکا جنون سوار ہے صبح گھر سے نکلتا ہے اور رات کو اس وقت لوٹتا ہے جب بچے سو رہے ہوتے ہیں۔ بچے جسمانی تقاضوں کے ساتھ ساتھ کچھ نفسیاتی روحانی تقاضے بھی رکھتے ہیں ان کی ننھی منی روح باپ کی شفقت چاہتی ہے ماں کا پیار چاہتی ہے اسی طرح زندگی سے لڑ لڑ کر تھکے ہارے والدین اپنے بچوں کی صحبت سے لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں لیکن اکیسویں صدی کے مصروف انسان کے پاس ان کے لیے وقت کہاں ہے ؟سیدھے سادے الفاظ میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ جہاں جتنی زیادہ ترقی ہے وہاں تنہائی کا عفریت بھی چنگھاڑ رہا ہے تنہائی نے انسان کا جینا دوبھر کر دیا ہے آپ ضرور جانتے ہوں گے کہ برطانیہ نے اب ایک وزارت تنہائی قائم کردی ہے وہاں نوے لاکھ افراد تنہائی کا شکار ہیںتنہائی سے لاتعداد ذہنی بیماریاں جنم لیتی ہیں تنہائی صرف معمر افراد ہی کا مسئلہ نہیں ہے نوجوان بھی اس معاشرے میں تنہا ہوتے چلے جارہے ہیں۔2014 کی یورپی یونین کی تحقیق کے مطابق وہاں پڑوسیوں سے نہ ملنا ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے یہ تنہائی ان کے لیے جان لیوا ہے بہت سے لوگ دنوں بلکہ ہفتوں کسی سے نہیں مل پاتے ! یہ وہ تنہائی ہے جس نے انسان کی شہ رگ حیات کاٹ ڈالی ہے ۔ وزارت تنہائی کی ذمہ داری اس قومی سطح کے مسئلے کا حل نکالنا ہے۔ 2017 کی تحقیق کے مطابق تنہائی کا نقصان روزانہ پندرہ ہزار سگریٹ پینے کے برابر ہے ! جوان ہونے والی برطانوی نسل مالی طور پر تو شاید مستحکم ہو مگر وہ تنہائی کا شکار ہے !بات چلی تھی ادب پڑھنے کی افادیت سے ، ادب کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ یہ زندگی ہے آپ اسے زندگی کی خوبصورت تشریح بھی کہہ سکتے ہیں ادب اپنے اندر کئی جہانوں کو سمیٹے ہوئے ہے کون سا موضوع ہے جو ادب کا حصہ نہیں ہے ! فلسفہ ، دین، نفسیات، معاشرت، سائنس، جغرافیہ، عمرانیات ، انسانی جذبات محبت ، شفقت ، ہمدردی ، حسد،نفرت، وفا ، بے وفائی اور دوسری بہت سی باتیں ادب کا اہم حصہ ہیں ۔ ادب میں شاعری، افسانہ ، ناول ،انشائیہ،سفرنامہ، آپ بیتی،سوانحعمری،مکتوب نگاری اور خاکہ شامل ہیں یہ سب کیا ہے ؟ محبت کی باتیں ہیں انسانی جذبات کا کیتھارسس ہے انسان کوئی مشین تو نہیں ہے یہ ایک عدد گوشت پوست سے بنا ہو ا دل بھی رکھتا ہے یہ معاشرے میں بہت سے رشتوں کے ساتھ بندھا ہوا ہے ۔ادب ہمارے دیکھنے کی صلاحیت کو بیدار کرتا ہے، ادب کے بغیر ہم صرف اپنے سامنے کھلے ہوئے دروازے کو دیکھتے ہیں لیکن جب ادبی دنیا میں غوطہ لگاتے ہیں تو پھر گلوبل ویلج میں رہنے والے تمام انسانوں کے دکھ درد ہمارے سامنے آجاتے ہیں پھر اس حوالے سے ہم سیکھنا شروع کردیتے ہیں سوالات اٹھاتے ہیں انسانی اقدار کی بات کرتے ہیں انسانی حقوق کا خیال رکھتے ہیں ہمارا وجدان بڑھتا ہے شعور میں اضافہ ہوتا ہے۔ شاعری ، افسانہ ، ناول پڑھتے ہوئے ہمارا تعارف بہت سی تہذیبوں کے ساتھ ہوتا ہے ہم اس کرہ ارض پر رہنے والے انسانوں کے بارے میں آگاہی حاصل کرتے ہیں آج کل یہ نعرہ بہت عام ہے کہ ہم نے دنیا کو رہنے کے قابل بنانا ہے دنیا رہنے کے قابل اسی وقت ہوسکتی ہے جب ادب کی اہمیت کو سمجھا جائے! ۔

اداریہ