Daily Mashriq


اسماء سے مدیحہ تک ۔۔۔ ہم سب ذمہ دار ہیں

اسماء سے مدیحہ تک ۔۔۔ ہم سب ذمہ دار ہیں

میرے محلے کے جواں سال محنت کش ثاقب نے زہریلی دوا کھا کر خودکشی کرلی، شبقدر میں پرائیویٹ کالج کے پرنسپل کو طالب علم نے فائرنگ کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا، قصور میں زینب درندگی کا شکار ہوئی گوجر گڑھی میں اسماء کو ایک وحشی نے زیادتی کے بعد قتل کر ڈالا۔ اکبر پورہ نوشہر میں مدیحہ ہوس کا نشانہ بنتے بنتے بچ گئی۔ کراچی میں نقیب اللہ محسود جعلی پولیس مقابلے میں مارا گیا۔ یہ گزشتہ ایک ہفتے کے اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا کی خبریں ہیں۔ جو انسان کو ہلا کر رکھتی ہیں۔ اس کے علاوہ بھی کچھ خبروں کی شہ سرخیاں ملاحظہ فرمائیں۔پارلیمنٹ پر لعنت ہو، فلاں چور ہے، فلاں ڈاکو ہے، فلاں نے ملک لوٹا، فلاں غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث ہے۔عام آدمی کے ساتھ ساتھ سیاسی قیادت کے بیانات پڑھ اور سن کر اندازہ ہوجاتا ہے کہ ہمارا معاشرہ انحطاط کا شکار ہے۔ ان خبروں کو پڑھ کر یہ بھی اندازہ ہو جاتا ہے کہ ہمیں روزانہ کوئی نہ کوئی ایشو کی ضرورت ہوتی ہے، بچی درندگی کا شکار ہوئی، سیاستدانوںنے بیانات جاری کردئیے، مذمت کردی، اسمبلی میں قرارداد پاس ہوئی، مطالبہ کیا گیا کہ ملزم کو گرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچایا جائے، این جی اوز کو موقع ملا اور پلے کارڈز اُٹھا کر چوک میں نکل آئے، اپوزیشن نے حکومت پر لعن طعن کی اور حکومت نے پولیس اہلکاروں کو معطل کر کے واقعات کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا بیان جاری کردیا۔ یہ نہ ہو تو کسی لیڈر کی شادی موضوع بحث ہوگی یا کسی کا پروٹوکول! جبکہ عوامی مسائل اور قوم کی مشکلات کا کوئی بات ہی نہیں کرتا۔ پارلیمنٹیرین کو اپنی ذمہ داری کا احساس ہے نہ سمجھ بوجھ۔ سیاستدان کو کرسی کی فکر ضرور ہے مگر محض ہوس اقتدار کی خاطر۔استاد کو سکول میں ملازمت چاہئے تاکہ اسے تنخواہ ملے۔ میڈیا کو خبریں چاہئے، ریٹنگ اور سرکولیشن بڑھانے کیلئے، آخر کسی نے غور کیا ہے کہ بچی جنسی درندگی کا شکار ہوئی۔ اس درندے نے ہوس بجھانے کیلئے ایسا کیوں کیا؟ چلو اگر ایک کیس ہوتا تو ہم اس فرد کو دوش دے کر قرار واقعی سزا کا مطالبہ کرتے اور اب بھی ان تمام درندوں کو سزا ملنی چاہئے مگر تواتر کے ساتھ ایسے واقعات کیوں رونما ہو رہے ہیں۔ ہر گلی، ہر محلے اور ہر گاؤں میں کوئی نہ کوئی انہونی ہوجاتی ہے اور ہم چند دن تک کف افسوس مل کر بھول جاتے ہیں۔ کسی نے سوچا ہے کہ ایک نوجوان زہر کھا کر خودکشی کیوں کر رہا ہے؟ اسے اگر مالی مشکلات درپیش ہیں، گھریلو پریشانیاں ہیں یا کوئی اور مسئلہ ہے تو کیا کسی نے مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی ہے؟ ہر جگہ جو یہ درندے معصوم بچیوں اور ننھی منی کلیوں کو مسل رہے ہیں کیا اس کی وجوہات جاننے کی کسی نے کوشش کی ہے۔ کیا یہ سب اس معاشرے اور ریاست کی ذمہ داری نہیں۔ بالکل ہے لیکن ہم نے آج تک اپنی اسی ذمہ داری کا احساس نہیں کیا۔ کیوں؟ اسلئے کہ ہم خود بے حس ہو گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں کسی اور کے دکھ پریشانی اور مشکل کا احساس نہیں۔ ہم دین ومذہب کے پیروکار ہونے کے بھی دعویدار ہیں، سنت رسولؐ پر عمل کا ہمیں زعم ہے۔ بڑے خشوع و خضوع کیساتھ ہم مسجد میں نماز پڑھتے ہیں اور سجدوں کی فراوانی نے ہمارے ماتھے پرثبوت بھی چھوڑ رکھا ہے۔ اور کیا چاہئے؟۔ ہم نے اپنی پاکبازی جتانے کیلئے، تسبیح بھی ہاتھ میں لی ہوتی ہے اور بسترہ کندھوں پر اُٹھا کر اللہ کی راہ میں نکلنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ پیرو مرشد کی درگاہ پر حاضری بھی دے رہے ہیں۔ مزاروں پر چڑھاوے بھی کم نہیں۔ علماء کرام کی وعظ و نصیحت روزانہ رات کو لاؤڈ سپیکر سے سنائی دے رہی ہے لیکن یہ سب کچھ بیکار ضائع ہو رہا ہے۔ مولوی کے بیان میں تاثیر نہیں عالم باعمل نہیں، اُستاد اپنے پیشے سے مخلص نہیں، باپ بچوں پر من مرضی ٹھونس رہا ہے اور اسے پیسے کمانے کی مشین بنانے کیلئے فکرمند ہے۔ بیٹا ڈاکٹر، انجینئر یا کوئی ڈی ایم جی آفیسر بن کر خاندان میں سر اُٹھانے کے قابل بنائے، بس یہی ہماری آرزو اور تمنائیں ہیں۔ انسان بننے کیلئے خود تیار ہیں نہ بچوں کو بنانے کی فکر ہے۔یقین کیجئے جو کچھ ہمارے ارد گرد ہو رہا ہے ایسا انسانی معاشرے میں نہیں جنگل میں ہوتا ہے۔ کیا کسی سیاستدان نے کسی لیڈر نے کسی حکمران نے یا کسی دانشور نے معاشرتی بگاڑ کے اسباب کی طرف توجہ دلائی ہے۔ آئیے اپنے گریبان میں جھانکتے ہیں، تھوڑا سا غور وفکر کرتے ہیں اندازہ ہوجائے گا۔ ہم میں سے ہر ایک درندہ ہے۔ ہر ایک راؤ انوار ہے، دوسروں پر انگلیاں اٹھانے سے قبل ہم نے اپنی اصلاح کرنی ہے اور معاشرے کی اصلاح کا عزم کرنا ہے۔ ہمیں گلی محلے کے بچے بچیوں میں اپنے بچوں کا عکس دیکھنا ہے اور معاشرتی بگاڑ کے اثرات سے ان بچوں کو محفوظ کرنا ہے۔ اجتماعی سوچ اپنانی ہے کہ ہمیں اس بڑھتی ہوئی بے راہ روی، جنسی درندگی، ذہنی افلاس اور فرسٹریشن سے جان چھڑانا ہے۔ اس کے بغیر ہماری دانشوری بے کار ہے، ہمارے علماء کرام کے وعظ لاحاصل ہیں اور ہماری تبلیغی دورے بے فائدہ ہیں۔ ہمارے درس وتدریس اور تعلیم و تعلم کے اسناد محض کاغذ کے پرزے ہیں اور ہمارے جامعات وقت گزاری کے مراکز بلکہ اس سے بڑھ کر ہیں۔ ہم نے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ بگڑتی صورتحال کے سامنے اگر بند باندھنا ہے تو ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر کھڑا رہنا ہے اور ایک دوسرے کا درد محسوس کرنا ہے ورنہ اسماء سے مدیحہ تک ہر بچی لٹتی رہے گی۔ درندے چھپتے رہیںگے، بے گناہ قتل ہوتے رہیںگے، پیسے کی لالچ میں سرکاری افسران قومی املاک بیچتے رہیں گے۔

متعلقہ خبریں