Daily Mashriq

ملا عبدالغنی برادر طالبان کے سیاسی دفتر کے سربراہ مقرر

افغان طالبان نے اعلان کیا ہے کہ تنظیم کے بانی رہنماؤں میں سے ایک، ملا عبدالغنی برادر کو تنظیم کے امیر ملا ہیبت اللہ اخونزاد کا سیاسی امور کے لیے نائب منتخب کر لیا گیا ہے اور ساتھ ساتھ قطر میں طالبان کے سیاسی دفتر کی قیادت بھی انھیں سونپی گئی ہے۔

ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ قدم لینے کا مقصد امریکہ کے ساتھ جاری مذاکرات کو درست سمت میں رکھنا ہے اور اسے بہتر بنانا ہے۔

ادھر  طالبان ذرائع نے بتایا کہ ملا بردار قطر پہنچ چکے ہیں۔

یاد رہے کہ پاکستان نے گذشتہ سال اکتوبر میں ملا بردار کو آٹھ سال حراست میں رکھنے کے بعد رہا کر دیا تھا۔

مذاکرات میں پیشرفت: امریکی حکومت کے مشیر خاص زلمے خلیل زاد

افغان خبر رساں نے ذرائع کے حوالے سے کہا کہ قطر میں افغان میں مفاہمتی عمل کے لیے امریکی حکومت کے مشیر خاص زلمے خلیل زاد اور افغان طالبان کے درمیان جاری مذاکرات کے چوتھے مرحلے کے چوتھے دن فریقین نے اہم پیش رفت کی۔

ذرائع نے بتایا کہ فریقین نے افغانستان میں امریکی افواج کے انخلا کے ٹائم ٹیبل پر اور ہتھیار بندی کے بارے میں گفتگو کی۔

اسی حوالے سے امریکی جریدے وال سٹریٹ جرنل نے بھی خبر دی کہ افغانستان میں 14000 امریکی فوجیوں کے نکلنے کے بارے میں بات کی گئی جو کہ طالبان کا مرکزی مطالبہ ہے اور اس کے علاوہ انھوں نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ شدت پسند تنظیم داعش کو افغانستان سے دور رکھیں گے۔

اس کے علاوہ ذرائع نے بتایا ہے کہ گذشتہ چار دن سے جاری ان مذاکرات کے نتیجے میں افغان حکومت اور طالبان نے ایک دوسرے کے قیدیوں کو بھی رہا کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق طالبان نے افغان سکیورٹی حکام کے 34 اہلکاروں ہو جبکہ افغان حکومت نے طالبان کے دس اراکین کو رہا کیا ہے۔

ملا برادر کون ہیں؟

ملا برادر کا تعلق پوپلزئی قبیلے سے بتایا جاتا ہے۔ یہ قبیلہ افغانستان میں انتہائی بااثر سمجھا جاتا ہے اور سابق افغان صدر حامد کرزئی کا تعلق بھی اسی قبیلے سے ہے۔ اس قبیلے کے افراد سرحد کے دونوں جانب یعنی پاکستان کے صوبہ بلوچستان اور پشاور میں بھی آباد ہیں۔

ان کا تعلق بنیادی طورپر افغانستان کے جنوبی ضلع اورزگان سے بتایا جاتا ہے لیکن وہ کئی سال طالبان کے مرکز کے طور پر مشہور افغان صوبہ قندھار میں مقیم رہ چکے ہیں۔

ملا عبد الغنی برادر افغانستان میں طالبان کارروائیوں کی نگرانی کے علاوہ تنظیم کے رہنماؤں کی کونسل اور تنظیم کے مالی امور چلاتے تھے۔

افغان امور کے ماہر رحیم اللہ یوسف زئی کا کہنا ہے افغان طالبان کے سابق امیر ملا عمر اور ملا برادر ایک ہی مدرسے میں درس دیتے تھے اور 1994 میں قائم ہونے والی تنظیم طالبان کے بانی قائدین میں سے تھے۔ ملا برادر طالبان دور میں ہرات صوبے کے گورنر اور طالبان کی فوج کے سربراہ رہے ہیں۔

افغانستان پر کام کرنے والے اکثر صحافیوں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ ملا محمد عمر نے جب افغانستان میں طالبان تحریک کا آغاز کیا تو ملا برادر ان چند افراد میں شامل تھے جنھوں نے بندوق اٹھا کر طالبان سربراہ کا ہر لحاظ سے ساتھ دیا اور تحریک کی کامیابی تک وہ ان کے ساتھ ساتھ رہے۔

تاہم جب طالبان کی حکومت قائم ہوئی تو ان کے پاس کوئی خاص عہدہ نہیں تھا۔ بعد میں انھیں ہرات کا گورنر بنا دیا گیا۔

ملا برادر طالبان تحریک میں اہم فوجی کمانڈر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ وہ طالبان کے آرمی چیف بھی رہ چکے ہیں۔ طالبان نے سنہ 1998 میں جب افغان صوبے بامیان پر قبضہ کیا تو اس حملے کے وقت ملا برادر طالبان کے کمانڈر تھے۔

یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ انھوں نے طالبان کمانڈروں کےلیے ایک کتابچے کی صورت میں ضابطۂ اخلاق بھی تحریر کیا تھا جس میں جنگی گرُ ، قیدیوں اور غیر ملکیوں سے سلوک اور دیگر طریقے بتائے گئے ہیں۔

متعلقہ خبریں