Daily Mashriq

منی بجٹ میں ریلیف کا دعویٰ کتنا مبالغہ کتنا حقیقت پسندانہ

منی بجٹ میں ریلیف کا دعویٰ کتنا مبالغہ کتنا حقیقت پسندانہ

وفاقی وزیرخزانہ اسد عمر نے اپنی 5ماہ کے دور حکومت میں دوسرے منی بجٹ میں صنعت، زراعت اور سرمایہ کاری کیلئے مراعات دینے، بڑی گاڑیوں، سگریٹ اور لگژری آئٹمز مہنگے ہونے کی نوید سنائی۔ بجٹ تقریر میں فائلر کیلئے بینک لین دین پر ودہولڈنگ ٹیکس ختم کرنے، چھوٹے شادی ہالز پر ٹیکس 20سے کم کر کے 5ہزار کرنے کی تجویز دی ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی نے وفاقی حکومت کی جانب سے پیش کیا گیا منی بجٹ مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بتایا جائے حکومت خسارے کو کیسے پورا کرے گی۔ قومی اسمبلی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال نے کہا کہ 6ماہ میں12ارب ڈالر کا قرضہ لیا جا چکا ہے اور اب تک حکومت کی پالیسی دوست ممالک سے قرضے لینے کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو معاشی حالات کا ادراک نہیں، حکومت کو سمجھ نہیں کہ ملک کے معاشی حالات کو کیسے بہتر کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج حکومت کی بہت بڑی ناکامی ہے، ملکی تاریخ میں پہلے کبھی بھی 6ماہ میں دو بجٹ پیش نہیں کئے گئے لیکن پی ٹی آئی حکومت نے 6ماہ میں دوسرا بجٹ پیش کیا۔ مسلم لیگ ن کی رہنما عائشہ غوث پاشا کا کہنا تھا کہ منی بجٹ عوام دوست نہیں، بجٹ خسارہ بڑھا ہے اور حکومت کے پاس پیسہ نہیں، اعلان کردہ بہت سی مراعات کیلئے سرمایہ کہاں سے آئے گا۔ دوسری جانب پاکستان پیپلزپارٹی کے رکن اسمبلی نوید قمر کا کہنا تھا کہ لگتا ہے کہ جلد اگلا قدم آئی ایم ایف ہوگا۔ پیپلز پارٹی کے دوسرے رہنما مرتضیٰ وہاب نے اپنے ردعمل میں کہا کہ منی بجٹ کی صورت میں عوام پر مہنگائی کا ایک اور بم گرایا گیا ہے، عام بجٹ کی طرح منی بجٹ بھی سرمایہ داروں کا تحفظ کرتا نظر آرہا ہے۔ مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت کی کوئی ایک پالیسی بھی عوام کیلئے نہیں ہے، خواص کیلئے بنایا گیا بجٹ عوام مسترد کرتے ہیں۔ بجٹ بنانے والوں کو خود آٹے دال کا بھاؤ معلوم نہیں۔ بجٹ اعداد وشمار کا ایک ایسا گورکھ دھندا ہوتا ہے جس کے بارے میں صحیح رہنمائی قابل ماہرین معاشیات ہی کر سکتے ہیں لیکن اس میں بھی مشکل یہ ہے کہ ماہرین کم ہی غیرجانبدارانہ تجزیہ پیش کرتے ہیں خاص طور پر جو ماہرین میڈیا پر تجزیہ دیتے ہیں وہ پیشہ وارانہ مہارت کا کم اور سیاسی نقطۂ نظر کا زیادہ مظاہرہ کرتے ہیں، اس لئے ہر سامنے آنے والے بجٹ کے بارے میں دو مختلف اور متضاد رائے سامنے آتی ہے۔ ایک گروہ اس کو ریلیف بجٹ قرار دے گا تو دوسرا اس کی دھجیاں اُڑا دے گا۔ ملکی تاریخ میں ایک مالی سال کیلئے اس کا تیسرا بجٹ ہونا ہی اپنی جگہ ایک ایسا سوالیہ نشان ہے جس سے شکوک وشبہات پیدا ہونا فطری امر ہے۔ اس بجٹ کے اثرات کیا ہوں گے اور اس میں جس قسم کے ریلیف کا اعلان کیا گیا ہے اس کے اثرات سے روشناس ہوئے بغیر اس پر یقین کرنا اس لئے بھی مشکل ہے کہ قبل ازیں وزیرخزانہ اسد عمر کے اندازوں اور دعوؤں کی وقت اور حالات نے نفی کی صورت میں ردعمل دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر وزیرخزانہ اتنا ریلیف دے سکتے تھے تو پہلے بجٹ میں کیوں نہ دیا۔ ان ہی کا پیش کردہ پہلا بجٹ سابق حکومتوں سے مختلف نہ تھا بلکہ ملک میں مزید مہنگائی ہوئی۔ بہرحال وزیرخزانہ اس میں جس قسم کے ریلیف کا اعلان کر رہے ہیں اور جو اعلانات انہوں نے کئے ہیں ان کے اثرات سامنے آنے کے بعد ہی اس کا حقیقی طور پر اندازہ ہوسکے گا کہ یہ محض دعوے تھے یا پھر واقعی ان کے پاس جادو کی چھڑی تھی۔ اس منی بجٹ کو عین ممکن ہے کہ وزیرخزانہ نے اپنے اوپر ہونے والی سخت تنقید اور تبدیلی کی افواہوں کو دبانے کیلئے پیش کیا ہو۔ بہرحال ان تمام شکوک وشبہات کو ایک طرف رکھتے ہوئے عملی طور پر اس منی بجٹ کے مثبت اثرات کے سامنے آنے کا انتظار کر لینا چاہئے۔ جہاں تک ٹیکس لگنے اور اشیاء کے مہنگے ہونے کا سوال ہے تو یہ کام اسی حکومت کے پہلے بجٹ میں ہو چکا ہے جس کی منی بجٹ میں گنجائش نہ تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ مہنگائی میں اضافہ صرف تحریک انصاف کی حکومت کے دوران ہی نہیں ہوا بلکہ گزشتہ حکومت اور نگران حکومت کے وقت بھی دیکھنے میں آیا تھا۔ اعداد وشمار کے مطابق اس ایک سال کے دوران کئی بار ماہانہ مہنگائی کی شرح موجودہ حکومت کے مقابلے میں سابق حکومت کے وقت میں بھی زیادہ تیزی سے بڑھتی رہی ہے۔ گیس کی قیمت میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے، اب صارفین کو گیس 83فیصد زیادہ قیمت پر مل رہی ہے، اسی طرح پٹرول ایک سال پہلے 78روپے فی لٹر تھا جس میں اب تقریباً23فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں27فیصد اور ایل پی جی سلنڈر تقریباً1400روپے سے بڑھ کر1600روپے کے قریب پہنچ گیا ہے۔اخراجات اوپر جا رہے ہیں اور تنخواہ وہیں کی وہیں رکی ہوئی ہے۔ عوام کو اس مہنگائی کا مقابلہ کرنے میں بے حد مشکل کا سامنا ہے۔بجٹ میں ریلیف کا عوامی فارمولہ مہنگائی میں کمی کا ہے۔ منی بجٹ اس فارمولے پر کتنا پورا اُترتا ہے یہی عوام کی خواہش اور وہ اسی کے منتظر ہوں گے ۔

متعلقہ خبریں