Daily Mashriq


افغانستان میں جاری کھیل کا آخری مرحلہ

افغانستان میں جاری کھیل کا آخری مرحلہ

افغانستان میں کھیل اب آخری مرحلے کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ وہاں امریکا کی طویل المدت فوجی مہم کے خاتمے کی توقعات نے چند ایسے منظرناموں کو جنم دیا ہے جو ملکی مستقبل کا تعین کرسکتے ہیں۔

موجودہ سفارت کاری سے یا تو ایک ایسے سیاسی حل کی راہ ہموار ہوسکتی ہے جس سے افغانستان اور خطے کے اندر ظاہری حیثیت میں امن قائم ہوسکتا ہے یا پھر یکطرفہ یا امریکا نیٹو کے نظم و ضبط سے عاری انخلا کی راہ ہموار ہوسکتی ہے جو افغانستان کی40سالہ خانہ جنگی کے باب کو ایک بار پھر دہرانے کا باعث بن سکتا ہے۔ تاہم دیگر منظرناموں کا بھی امکان ہے، کیونکہ کئی قوتیں کھیل کے آخری مرحلے میں ٹکراتی ہیں یا پھر اتحاد کرتی ہیں۔

سب سے نمایاں قوت ہے افغان طالبان یہ اب ملک کے60فیصد حصے پر غالب ہیں اور یہ حوصلہ پست افغان سیکورٹی اہلکاروں پر بھی زبردست دبائو کا باعث بنا ہوا ہے۔

طالبان کی قوت میں ابھار اور عزم کا عکس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مایوسی اور بے صبری میں واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔ ٹرمپ کے اس بیان نے ہل چل مچادی ہے کہ نصف یعنی 14(ہزار)امریکی فوجی اہلکاروں کا افغانستان سے انخلا جلد ہی کیا جائے گا۔ اس بیان نے نہ صرف کابل حکومت کو کنارے سے لگا دیا بلکہ امریکا کے نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد کی طالبان کے ساتھ مذاکرات میں گرفت کو بھی ختم کردیا۔ نتیجتاً، خطے کی طاقتوں کا کردار اور اثر نمایاں طور پر وسیع ہوگیا ہے۔

یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان سب طاقتوں میں سے پاکستان کا اثر و رسوخ سب سے زیادہ ہے جس کی وجہ ہے ابھرتی قوت بنے ہوئے افغان طالبان کے ساتھ بظاہر تعلقات۔ اسلام آباد نے حالیہ ابوظہبی مذاکرات میں اہم طالبان نمائندگان کی شرکت کو ممکن بنا کر اپنے اثر و رسوخ کو ثابت بھی کیا۔

تاہم، ایران کا اثر و رسوخ حالیہ وقتوں میں کافی حد تک بڑھا ہے۔ ایران نے بڑی احتیاط کے ساتھ سابق شمالی اتحاد کے عناصر کے ساتھ اپنے روایتی روابط کو برقرار رکھتے ہوئے طالبان کے ساتھ تعلقات کو فروغ دیا اور معاونت بھی کی۔ تہران افغانستان سے امریکی انخلا کو آسان نہیں ہونے دے گا۔

جبکہ روس نے طالبان کے ساتھ تعاون کی راہیں کھولنے اور افغان داخلی مذاکرات کی ابتدا کی کوشش کرتے ہوئے خود کو اس کھیل میں شامل کیا ہے۔ دوسری طرف بھارت کو ڈر ہے کہ کہیں افغان سیاسی حل سے طالبان حکومت بحال نہ ہوجائے۔ لہٰذا اب بھارت افغانستان میں موجود اپنے اثاثوں کو ایران اور روس کے اچھے تعلقات کے ذریعے محفوظ بنانے کی جدوجہد کر رہا ہے۔

جبکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات، امریکا اور طالبان کے درمیان مذاکرات کے تیسرے مرحلے کی میزبانی کے ذریعے اس امن عمل کا حصہ بنے۔ تاہم ان کے اثر و رسوخ کا اندازہ طالبان کی جانب سے ریاض میں مذاکرات کے اگلے مرحلے میں شرکت سے انکار سے ہی لگایا جاسکتا ہے۔ انکار کی وجہ یہ تھی کہ سعودی عرب کا اصرار تھا کہ وہ کابل انتظامیہ سے بات چیت کریں۔ طالبان کی جانب سے افغان داخلی مذاکرات کی مزاحمت سے قطر، جسے سعودیوں نے کنارے سے لگا دیا ہے، کافی مطمئن نظر آتا ہے۔ چین کے ہاتھ میں اس کھیل کے اہم نہ کھیلے گئے پتے ہیں۔ یہ اپنے مالی اور سفارتی اثر و رسوخ کے ذریعے خطے کے تمام کھلاڑیوں، پاکستان، ایران، روس اور وسطی ایشیائی ممالک کو اپنے ساتھ کھڑا کرسکتا ہے۔ ظاہر ہے کہ چین ان پتوں کو امریکا اور چین کے درمیان تنائو سے بھرپور بدلتے ہوئے تعلقات کے تناظر میں کھیلے گا۔

مذاکرات کے اگلے مرحلے میں امریکا، تھیوری کے اعتبار سے طالبان کی زیادہ تر شرائط پوری کرسکتا ہے، جن میں انخلا کا ٹائم ٹیبل، طالبان قیدیوں کی رہائی اور طالبان رہنمائوں پر عائد سفری و دیگر پابندیوں کا خاتمہ شامل ہیں۔ تاہم2ایسے معاملات ہیں جو امریکا اور طالبان کے درمیان جاری اس عمل کو متاثر کرسکتے ہیں۔ پہلا ہے، دونوں فریقین کی جانب سے کسی حل پر اتفاق کے بعد امریکی انسدادِ دہشتگردی اہلکاروں کی موجودگی اور دوسرا ہے افغان داخلی مذاکرات۔

امریکا افغانستان میں اپنے پیچھے ایک چھوٹی انسدادِ دہشتگردی فورس چھوڑ جانا چاہتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، طالبان نے امریکا کے ساتھ ابتدائی مذاکرات کے دوران اس کی مخالفت نہیں کی تھی۔ اگر ایران اور روس اس قسم کی مسلسل امریکی موجودگی کی مخالفت کرتے ہیں تو طالبان کا موقف تبدیل بھی ہوسکتا ہے۔ البتہ بین الاقوامی انسدادِ دہشتگردی پر سمجھوتہ ہوسکتا ہے۔

طالبان کی جانب سے کابل حکومت کے ساتھ مذاکرات پر غیر آمادگی ایک سب سے اہم رکاوٹ کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہے۔ طالبان کہتے ہیں کہ ان کی حکومت جائز تھی جسے 2001 میں طاقت کے زور پر ختم کیا گیا۔ انہیں یہ بھی ڈر ہوسکتا ہے کہ داخلی افغان مذاکرات اور جنگ بندی سے شورش کا زور متاثر ہوسکتا ہے اور ان کی جھگڑالو مہم تقسیم کا شکار ہوسکتی ہے۔

طالبان نے اب تک اچھا کھیل کھیلا ہے اور اب وقت آگیا ہے کہ اس کھیل میں اب تک جو جیتا ہے صرف اس کے ساتھ ہی خوش رہیں۔ طالبان کی جنگی فتح کو امریکا اور خطے کی طاقتوں دونوں کی جانب سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

پاکستان کے اسٹریٹجک مقاصد کے لیے دیرپا سیاسی حل ہی بہترین ثابت ہوگا۔ امریکا اور طالبان کے درمیان مذاکرات میں مذکورہ دونوں مسائل کے سفارتی حل نکالنے کے لیے اسلام آباد بہتر پوزیشن میں ہے۔

(بشکریہ ڈان)

متعلقہ خبریں