Daily Mashriq

امریکہ کا ’’عمران خان‘‘؟

امریکہ کا ’’عمران خان‘‘؟

عمران خان کے انتخاب کے بعد اہل پاکستان تو ان کی شخصیت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ موازنہ کرنا بھول ہی گئے تھے مگرپاکستان کے دورے پر آئے ہوئے امریکی سینیٹر لنزی گریم نے انہیں یاد دلا یا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیر اعظم پاکستان عمران خان ایک جیسی شخصیات کے مالک ہیں۔ دونوں کے درمیان ملاقات ہونی چاہئے اور دونوں میں خوب نبھے گی۔سینیٹر لنزی کا کہنا تھا کہ عمران خان کی وجہ سے ہمیں موقع ملا ہے کہ دونوں ملکوں کے تعلقات کولین دین سے بڑھ کرسٹریٹجک تعلقات میں بدل دیا جائے۔یہی مجھ سے عمران خان نے بھی کہا اور یہ بات میں صدر ٹرمپ تک پہنچائوں گا۔مسٹر کنزی کا تعلق صدر ٹرمپ کی پارٹی سے ہے اور وہ ان کے قریب سمجھے جاتے ہیں ۔

ٹرمپ کی پاکستان پالیسی سے ایک سو اسی کے زاویے سے مڑتے ہوئے سینیٹر کنزی گریم نے نہ صرف پاکستان کے حوالے سے بہت اچھے خیالات کا اظہار کیا ہے بلکہ انہوں نے پاکستان او ر امریکہ کے موجودہ حکمرانوں کے درمیان مزاج اور سوچ کی مطابقت اور شخصیات کی مماثلت بھی دریافت کر لی ۔یہ امریکہ کی ڈپلومیسی میں ریاستی تعلق کو ذاتی تعلق میں ڈھالنے کا پرانا انداز ہے۔ٹرمپ ایک تند خو،منہ پھٹ اور بے سلیقہ شخصیت کے حامل سیاست دان سمجھے جاتے تھے اور اسی حوالے سے انہیں حیران کر دینے والے بڑے فیصلوں کی صلاحیت کا حامل بھی سمجھا جا رہا تھا ۔یہ قیاس کیا جا رہا تھا کہ ٹرمپ اپنی اُفتاد ِطبع کے عین مطابق یا تو امریکہ کو کسی کھائی میں گرادیں گے یا دنیا میں کسی نئی تباہی اور کشمکش کو چھیڑنے کا باعث بنیں گے ۔یہ وہ دور تھا جب امریکہ اور شمالی کوریا کا تنازعہ زوروں پر تھا۔صدر ٹرمپ نے شمالی کوریا کے ساتھ لفظی جنگ کو پوری انتہا تک پہنچایا ۔اِدھر ٹرمپ نے ٹویٹر کے ذریعے بم اُچھالا تو اُدھر شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان کی طرف سے جوابی گولہ لہراتا ہوا ٹویٹر پر نمودار ہوا۔اس لفظی گولہ باری میں بات نیوکلئیر ہتھیاروں کے بٹنوں اور میزائلوں تک پہنچ گئی تھی مگر اچانک ٹرمپ نے گولہ باری بند کرکے مسٹر کم سے ملاقات کی خواہش کااظہار کرکے دنیا کو سرپرائز دے دیا ۔دنیا شمالی کوریا اور امریکہ کے درمیان میزائلوں کے تبادلے کے نظارے دیکھنے کو تیار تھی کہ اچانک دونوں راہنما ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر ایک نیا منظر تخلیق کرتے دکھائی دے رہے تھے اور اس منظر کو دنیا مرزا غالب کے اس شعر کے انداز میں حیرت سے دیکھ رہی تھی

ہم نے سوچا تھا کہ غالب کے اُڑیں گے پُرزے

دیکھنے ہم بھی گئے پۂ تماشا نہ ہوا

ڈونلڈ ٹرمپ نے حیران کردینے والی اس صلاحیت کا مظاہرہ نریندر مودی کے معاملے میں افغانستان میں لائبریری کی تعمیرپر ایک طنز کی صورت میں بھی کیا جس سے بھارتی حکمران جل بھُن کر رہ گئے مگر وہ اس کڑوے گھونٹ کو خاموشی سے سہہ گئے ۔حیران کر دینے والے اس رویے کا مظاہرہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں بھی ہوا ۔

ٹرمپ صدر بنتے ہی پاکستان کو یک طرفہ لفظی گولہ باری کا نشانہ بنائے ہوئے تھے ۔وہ پاکستان پر کبھی دھوکہ دہی تو کبھی احسان فراموشی کا الزام عائد کرتے کبھی سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتے تو کبھی امداد روک دینے کی باتیں کرتے ۔پاکستان پہلے پہل فدویا نہ انداز میں دھیمے سُروں میں اس کا جواب دے کر ریکارڈ درست رکھنے کی کوشش کرتا مگر اس فدویانہ اندازمیں ٹرمپ کی تندخوئی کا جواب اپنا رنگ نہیں جما رہا تھا ۔عمران خان کے وزیر اعظم بننے کے بعد صدر ٹرمپ نے ایک ٹی وی انٹرویو میں اپنے روایتی انداز میں ہی الزام تراشی پر مبنی لفظی گولہ باری جاری رکھی کہ ٹھیک اسی انداز میں لمحوں کی تاخیر کئے بغیر عمران خان کی ٹویٹ نے امریکیوں کو یہ باور کرایا کہ اب ان کا واسطہ ایک بدلے ہوئے پاکستانی حکمران سے ہے جو کم ازکم ترکی بہ ترکی جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔صدر ٹرمپ اور ان کا حلقہ اثر اس تبدیلی کو محسوس کر گیا اور پاکستان کے بارے میں ان کے لب ولہجے میں تبدیلی آتی چلی گئی۔یہاں تک کہ اب ڈونلڈ ٹرمپ اور عمران خان کے درمیان ملاقات کے امکانات بھی پیدا ہو رہے ہیں۔چند دن قبل شیخ رشید نے اپنے روایتی جوتشیانہ انداز میں کہا تھا کہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کو پاکستان کا دورہ کرتے دیکھ رہا ہوں۔

امریکی سینیٹر کی طرف سے عمران خان اور ٹرمپ کی شخصیات کا موازنہ اپنی جگہ مگر پاک امریکہ تعلقات میں اصل خرابی ریاستی تعلقات ،مفادات اور سوچوں کی تبدیلی پر ہے ۔بل کلنٹن بھی نوازشریف کے ذاتی دوست کہلاتے تھے مگر وہ پاک امریکہ تعلقات کے بگاڑ کو کم نہ کر سکے ۔بش جونیئر شنگریلا میں جنرل مشرف کا استقبال کیا کرتے مگر یہ تعلق زوال کے سفر کو روک نہ سکا تھا۔ان ذاتی تعلقات ،مماثلتوں اور مشابہتوں سے پاکستان کے حکمران حد سے زیادہ پراعتماد تو ہوجاتے رہے مگراس سے دونوں ملکوں کے تعلقات میں حقیقی بہتری نہ آسکی۔ اب امریکی میڈیا اورسیاسی قیادت نے عمران خان اور ٹرمپ کی شخصیات کی مماثلت اور مطابقت تو’’ دریافت ‘‘ کر لی مگر اس سے حقیقی مسائل کے حل میں مدد ملنے کا زیادہ امکان نہیں کیونکہ معاملہ مائنڈ سیٹ کی تبدیلی اور برسوں کے منجمد تصورات ہیں۔

متعلقہ خبریں