Daily Mashriq

سرعام انصاف ہی حل ہے

سرعام انصاف ہی حل ہے

کوئی نوحہ لکھوں لیکن لفظ نہیں ملتے۔ کوئی دہائی دوں لیکن آواز نہیں نکلتی۔ کوئی بین کروں لیکن دل پھٹتا ہے۔ کربلا کتنی بار دہرایا جائے گا۔ کب تک مظلوموں کے سر ایسے ہی یزیدوں کی انا کی بھینٹ چڑھتے رہیں گے۔ کب تک بے گناہوں کی نقشوں کا مُصلا ہوتا رہے گا۔ کب تک بے وجہ خون بہے گا۔ میں نے تو سُنا تھا کہ بے گنا ہ مارا جائے تو سرخ آندھی آیا کرتی ہے اب تو کہیں سے آہ تک نہیں اُبھرتی۔ کوئی نوحہ کسی حجاج بن یوسف کے دامن گیر نہیں ہو جاتا۔ کسی بیٹی کے آنسو وارث شاہ کے قلم میں خون کو سیاہی بنا کر بھر نہیں دیتے۔ اب کچھ نہیں ہوتا حالانکہ روز کربلا دہرایا جاتا ہے۔ ہر روز ظالم مظلوموں کا خون نہایت آسانی سے، کسی گناہ کے احساس کا بوجھ اٹھائے بنا ہی بہاتے ہیں۔ ہم میں سے اکثر ان مظالم کے عادی ہو چکے ہیں۔ ہم میں سے اکثریت اب اونچی آواز میں آہ بھی نہیں بھرتی۔ ہم خاموش رہتے ہیں کیونکہ خاموش رہنا ہماری عادت بن چکا ہے ۔ ہم گلہ نہیں کرتے کیونکہ ایک عرصے سے انصاف کی امید ہی ہم نے چھوڑ دی ہے۔ اس حکومت نے جس امید کو ہماری گود میں سورج کی نئی کرن کی طرح اُلجھایا تھا، اب اس میں بھی ایک عجب سی خاموشی اور سکون جنم لے رہا ہے۔ اس میں وہ توانائی اور الھڑپن محسوس نہیں ہوتا، جو ان لوگوں کے اقتدار میں آنے سے پہلے تھا۔ عجب سی چپ ہے جو دلوں کی امنگوں کے منہ پر انگلی رکھ دیتی ہے۔ وہ جو مخالفین ہیں وہ بڑے منہ زور ہوئے جاتے ہیں۔ ان لوگوں کا دفاع کرتے ہیں جنہوں نے صرف اس حکومت کے حامیوں کو ہی نہیں اُن کو بھی لوٹا تھا جو خود انہیں ووٹ دینے والے تھے۔ ہم عجب قوم ہیں بے وجہ جذباتی اور بے وجہ خاموش۔ ہمارے رویوں کا کوئی سر پیر نہیں۔

ساہیوال کے اس واقعے نے ہمارا دل دہلا دیا ہے۔ یہ وہ درندے ہیں جنہیں تخلیق کرنے میں ان لوگوں کا بڑا اہم کردار ہے جو آج اپوزیشن میں بیٹھے دہائیاں دیتے ہیں کہ انہیں انصاف نہیں مل رہا۔ ان کیساتھ زیادتی ہورہی ہے۔ وہ درست کہتے ہیں ان کیساتھ واقعی زیادتی ہورہی ہے اور صرف ان کیساتھ کہاں اس ملک کیساتھ، اس قوم کیساتھ بھی زیادتی ہورہی ہے۔ وہ یہ بھی سچ کہتے ہیں کہ انہیں انصاف نہیں مل رہا اور محض انہیں ہی نہیں اس ملک وقوم کو بھی انصاف نہیں ملتا۔ جس ملک میں مجرموں کو قرار واقعی سزائیں نہ ملیں وہاں کسی کو بھی کہاں انصاف ملتا ہے؟ جہاں مجرموں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو یوں خرید رکھا تھا کہ وہ ان کیلئے، ان کے مفادات کیلئے ماورائے عدالت قتل کیا کرتے تھے۔ جہاں بیوروکریسی ان مجرموں کے جرائم کے نشان مٹانے میں پیش پیش رہا کرتی تھی، وہاں یہ مجرم درست کہتے ہیں کہ انہیں انصاف نہیں مل رہا۔ انہیں تو چوراہوں میں لٹکا کر پھانسیاں دی جانی چاہئے۔ جب قصور میں قتل ہوئی زینب کے مجرم کا فیصلہ کیا گیا تو اس ملک کے لوگوں کیلئے ایک اچنبھے کی بات تھی۔ شاید ساہیوال میں ہوئے واقعے میں خلیل اور اس کے خاندان کا بے گناہ ثابت ہونا بھی حیران کن ہے لیکن سی ٹی ڈی کے اہلکاروں کے حوالے سے کتنی ہی باتیں ہورہی ہیں۔ اس حکومت پر مخالفین جیسے بھی اعتراضات کرے جیسی بھی باتیں کرے، یہ بھی فراموش نہیں کرنی چاہئے کہ اس سے پہلے کسی بھی حکومت کے دور میں ایسا کچھ بھی ممکن نہیں تھا۔ وہ پولیس جسے اس وقت کی حکومتیں اپنے ذاتی معاملات کیلئے استعمال کرتی رہی ہے اس پولیس کو آج تک کسی نے قانون کے دائرہ کار میں واپس لانے کی کوشش نہیں کی تھی۔ شاید ساہیوال واقعے پر اس قدر شور نہ مچ جاتا تو اس کا بھی کوئی حل نہ ہوتا، کوئی مظلوم کبھی مظلوم ثابت نہ ہوتا۔ ان بچیوں کے معصوم چہرے دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ ان کے معصوم ذہنوں پر کیا بیت رہی ہوگی وہ کس طرح اس بھیانک منظر کو بھولیں گے۔ ان کے ننھے ذہن کس بری طرح مجروح ہوئے ہوں گے۔ میں تو ان بچوں کے حوالے سے بات کرنا بھی مشکل سمجھتی ہوںکیونکہ وہ غم کے کس دلدل میں دھکیل دیئے گئے ہیں وہ پوری طرح اس سے آگاہ ہی نہیں۔ ان کے ننھے ذہن ابھی تک یہ سمجھنے سے قاصرہوں گے کہ ان کیساتھ دراصل کیا ہوچکا ہے۔ میں اپنے بچوں کو دیکھتی ہوں تو میرا دل خون کے آنسو روتا ہے اور پھر قصور کی زینب کے والد کی ان بچوں کیساتھ تصاویر دیکھ کر اور بھی زیادہ تکلیف ہوئی۔ یہ مظلوم کا مظلوم سے اظہار یکجہتی تھا افسوس صرف اس بات کا ہے کہ زینب کے والد کو اپنی تکلیف کا پورا ادراک ہے اور ان بچوں کو ابھی تک حقیقت معلوم ہی نہیں۔ میں نہیں جانتی کہ سی ٹی ڈی کی ٹیم نے کیا سوچ کر یہ ظلم کمایا اور تحقیقاتی کمیشن ایک مہینے میں کیا تلاش کرے گا لیکن اتنا ضرور جانتی ہوں کہ جب تک اس معاشرے میں سرعام سزائیں نہ دی جائیں گی اس وقت تک درندے بن جانے والے لوگ درست راہ پر گامزن ہونے کی کوئی جدوجہد نہ کریں گے۔ انہیں جیل کی چاردیواروں کے درمیان دی جانی والی سزائیں ڈرا نہ سکیں گی۔ جب تک کسی ظالم کو سرعام سزا نہ ملے گی، تب تک زینب کو انصاف نہ ملے گا۔ خلیل کے خاندان کو انصاف نہ ملے گا۔ سرعام انصاف ہی اصل حل ہے۔

متعلقہ خبریں