Daily Mashriq


پاکستان کی درست سمت

پاکستان کی درست سمت

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی صدرماریہ فرننڈا اسپنوزا نے پچھلے دنوں پاکستان کا دورہ کیا تو آرمی چیف کے علاوہ عمران خان اور حکومت کے دیگر اہم عہدیداروں سے ملاقاتیں کیں، اُنہوں نے اپنے چند روزہ دورہ میں پاکستان اور حکومت پاکستان سے متعلق اپنے تاثرات ومشاہدات سرکاری ریڈیو کو انٹرویو دیتے ہوئے بیان کئے۔انہوں نے دوٹوک الفاظ میں پاکستان کے خوبصورت مناظر اور علاقوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ اور علاقائی امن وسلامتی میں جو کردار ادا کیا ہے وہ بہت اہم اور قابل تعریف ہے ، اُنہوں نے اقوام متحدہ کے امن مشن میں پاک افواج کے کردار اور قربانیوں کی بھی تعریف کی ۔عمران خان کی حکومت کے بارے میں کہاکہ حکومت کی سمت درست ہے اور عمران خان تندہی کے ساتھ پاکستان اور عوام کا مستقبل سنوارنے کے لئے ہر ممکن تگ ودو میں لگے ہوئے ہیں اور مجھے اُن کی پُرخلوص جدوجہد سے خوشی حاصل ہوئی ہے۔ پاکستان کی موجودہ حکومت میں خواتین کوبا اختیار بنانے کے حوالے سے بھی حکومت کی تحسین کی۔مندرجہ بالا تاثرات ایک ایسی شخصیت کے ہیں جن کا براہ راست پاکستان کی کسی حکومت یا سیاستدان سے کوئی لینا دینا نہیں ، لہٰذا کہا جا سکتا ہے کہ جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے۔ عمران خان کی شخصیت اور سیاست سے اختلاف اور اُس پر تنقید ہر پاکستانی کا حق ہے اور اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ اب تک عمران خان کی ذات کے علاوہ ایک آدھ اور رکن کے سوا دیگر کو عوام میں بہت کم پذیرائی ملی ہے ۔ شاہ محمود قریشی اپنی شخصیت ،خاندانی پس منظر اور سابقہ تجربات کی بناء ٹھیک جارہے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے اور بہت کڑوی بھی ہے کہ عثمان بزدارہزار شریف النفس ہوں، لیکن بطور وزیراعلیٰ اُن سے پاکستان کا سب سے اہم اور بڑا صوبہ ابھی تک سنبھالا نہیں جا سکا ہے ۔ اور پھر اس پر مستزاد پے درپے جو واقعات و سانحات بر پا ہوئے ، بالخصوص سانحہ ساہیوال، اس نے تو نالائق اور عاقبت نا اندیش وزیروں اور مشیروں کے سبب حکومت کو اس قدر شدید مشکلات میں پھنسا دیا ہے کہ اپوزیشن کے رہنما اور سیاستدان ماڈل ٹائون لاہور کے سانحہ پر عمران خان کے مطالبات کے تناظر میں وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب کے استعفوں کا مطالبہ کر چکے ہیں ۔جو خدالگتی بات یہ ہے کہ قرین انصاف وصواب نہیں ۔۔۔کیونکہ ماڈل ٹائون اور سانحہ ساہیوال میں زمین وآسمان کا فرق ہے۔ سانحہ ساہیوال پر اس میں شک نہیں پنجاب کے وزیراعلیٰ، وزیرقانون اور بعض دیگر عہدیداروں اور اراکین اسمبلی نے بغیر تحقیق وشواہد کے متضادبیانات دیکر معاملے کو مشکوک بنا کر اُلجھا دیا ہے ، لیکن اس بات میں بھی کوئی دورائے نہیں کہ عمران خان نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ قانونی کارروائی کے تحت جو کوئی بھی قصوروار ٹھہرا، قرار واقعی سزا پائے گا۔ لیکن یہ سیاست بھی کیا چیز ہے! کہ سیاستدان اقتدار میں ہوں تو نقطہ ہائے نظر اور عمل کچھ اور حزب اختلاف میں ہوں تو اپنا سب کچھ بھول کر حزب اقتدار کے پیچھے لگ جاتی ہے۔ پی پی پی(شہید بے نظیر بھٹو) کی حکومت میں اُن کے قریب ترین اور عزیز رشتہ دار مرتضیٰ بھٹو جس بے دردی کے ساتھ بھر پور اور کڑیل جوانی کی عمر میں دن دیہاڑے سرراہ شہید کئے گئے ، کیا آج تک معلوم ہوسکا کہ اُن کو کس گناہ کی پاداش میں راہ سے ہٹایا گیا۔ خود شہید بے نظیر بھٹو کا بھی یہی حال ہے ۔ سندھ ہی میں نقیب اللہ محسود کا قتل اور اس طرح بلوچستان ،کے پی اور پنجاب الغرض پاکستان کا کونسا صوبہ اور حکومت اس قسم کے واقعات سے مبرا ہیں؟۔اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان کے عوام کو اس قسم کے سانحات سے محفوظ بنانے کے لئے لاء انفورسمنٹ ایجنسیز اور بالخصوص پولیس کی نشاۃ ثانیہ(سرے سے نئی اور تعلیم یافتہ)کی جائے اور پارلیمنٹ کے ذریعے ایسی قانون سازی کی جائے جس کے تحت پولیس سیاسی اثرورسوخ سے محفوظ رہ سکے۔ عمران خان کا دعویٰ رہا ہے کہ پختونخوا کی پولیس کو سیاسی دبائو سے آزاد کر دیا گیا ہے ۔ دیگر صوبوں کے مقابلے میں نسبتاً کچھ فرق ہوگا، ورنہ باقی پورے پاکستان کی پولیس کی نفسیات ایک ہی تھیلے کے چٹے بٹے معلوم ہوتے ہیں البتہ یہ بات ضرور عمران خان ہی کے دور حکومت میں شدومد کے ساتھ سامنے آئی ہے کہ پولیس فورس اور دیگر اداروں میں معاملات بالخصوص بھرتیاں میرٹ کی بنیاد پر ہونگی تو اس قسم کے مسائل بتدریج کم ہوں گے۔اس نظر سے یہ بات پوشیدہ نہیں کہ پاکستان کے چاروں صوبوں کی اشرافیہ(پنجاب کے جاگیردار، صنعت کار وکارخانہ دار، سندھ کے وڈیرے جاگیردار، بلوچستان کے سرداراور کے پی کے خوانین)کی معاشرے پر گرفت اتنی مضبوط ہے کہ غریب اور متوسطہ طبقات کے افراد پولیس میں ہوں یا بیورو کریسی میں اُن سے تعاون پر مجبور ہوتے ہیں ورنہ ہر ڈیپارٹمنٹ میں اُن کے ایسے مہرے ہوتے ہیں جو قانون و میرٹ پر اصرارکرنے والے سر پھروں کو بہت عبرت ناک انداز میں سبق سکھانے میں دیر نہیں لگا تے ۔عمران خان کو اپنی اکیس برس کی سیاست کے دوران یہ سب کچھ معلوم ہوچکا ہے ۔اور اُن کی ٹیم میں بھی اکا دکا اس قسم کے لوگ ہیں،لیکن عمران خان کی سحر انگیز شخصیت میں یہ قوت ہے کہ وہ اُن کے راستے کی رکاوٹ بننے کی اہلیت وصلاحیت نہیں رکھتے ۔

(بقیہ صفحہ نمبر 7)

متعلقہ خبریں