Daily Mashriq


تعلیمی اداروں میں آئس نشے کا بڑھتا رجحان

تعلیمی اداروں میں آئس نشے کا بڑھتا رجحان

جو قوم عریانی‘ فحاشی اور نشہ آور چیزوںکے استعمال کی لت میں پڑ جاتی ہے پھر اس قوم اور ملک کو دشمن کی ضرورت نہیں ہوتی ، سمجھ لیں پھر وہ قوم، ملک اور اس کے نوجوان خودبخود تباہی وبربادی کے دھانے پر ہیں۔ گزشتہ دنوں وزیر مملکت برائے خارجہ اُمور شہریارآفریدی نے دعویٰ کیا کہ اسلام آباد کے تعلیمی اداروں میں 75فیصد خوشحال خاندانوں کی طالب علم لڑکیاں آئس استعمال کرتی ہیں۔ آئس ایک انتہائی مہلک نشہ ہے جو کسی بھی انسان کی صحت کو چند سالوں میں مکمل تباہ وبرباد کر دیتا ہے۔ شہریار آفریدی نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ 75 فیصد لڑکیوں کے علاوہ تعلیمی اداروں میں 45فیصد طالب علم آئس نشہ استعمال کرتے ہیں۔ میں یہاں یہ بات بتاتا چلوں کہ اقوام متحدہ کے منشیات اور جرائم سے متعلق ادارے کا کہنا ہے کہ پوری دنیا میں تقریباً 500میٹرک ٹن آئس کا نشہ کیا جاتا ہے۔ آئس کو انسانی صحت کیلئے انتہائی مہلک نشہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ کسی انسان کو جسمانی، ذہنی، اس کے روئیے اور خیالات میں انتہائی خراب اور مہلک تبدیلیاں پیدا کرتا ہے۔ آئس ایک کیمیکل میتھام فیٹانین کی خالص شکل ہے جس کو عام طور پر حقے، سگریٹ یا قلعی پر رکھ کر پیا جاتا ہے جس کا مقصد ان کے ذہن میں یہ ہوتا ہے کہ اس سے نوجوان نسل سکون حاصل کر سکیں گے۔ عام طور پر یہ کسی انسان کو مصنوعی طور پر توانا، طاقتور، پراعتماد اور خوش کر دیتا ہے مگر اس کی خوشی اور پراعتمادی عارضی اور حقائق پر مبنی نہیں ہوتی بلکہ یہ ان کیمیکل کا اثر ہوتا ہے جو ایک نشئی کو ایسی طرح حالت پر لے آتا ہے۔ یہ خوشی عام طور پر کچھ گھنٹے یا ایک دن تک ہوتی ہے۔ جب آئس کا نشہ ختم ہوتا ہے تو آئس کا عادی تھکا ہوا، پریشان، تناؤ اور کھچاؤ میں رہتا ہے۔ عام طور پر آئس کا عادی پرتشدد اور انتہا پسند ہوتا ہے اور اس کے مزاج میں تغیر وتبدل اور بے چینی پائی جاتی ہے۔ اگر آئس پینے والا کسی جرم کا تہیہ کرتا ہے تو وہ اس جرم کرنے میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتا اور کسی قسم کی جرم کیلئے پُراعتماد اور پرعزم ہوتا ہے۔ آئس استعمال کرنے والے لوگوں کو جسمانی مسائل ہوتے جس میں وزن میں کمی، دل کی انتہائی تیز دھڑکن، علاوہ ازیں ان کو انتہائی مہلک قسم کی خارش ہوتی ہے اور ان کے دانتوں پر کالے نشان پڑ جاتے ہیں اور کچھ عرصے بعد ان کے تمام دانت مضر صحت نشے سے جڑ سے نکل جاتے ہیں۔ آئس استعمال کرنے والوں کو گردوں، پھیپھڑوں کی بیماری، دماغ کا کام نہ کرنا، زندگی سے بور ہونا اور بغیر تسلسل اور ڈسپلن کی زندگی گزارنا، معاشرتی معاملات سے لاتعلقی کا اظہار کرنا، بیماریوں کی صورت میں مدافعتی نظام کا انتہائی کمزور ہونا اور یا نہ ہونے کے برابر ہونا، جگر کے امراض اور اس کے علاوہ ذہنی امراض حد سے زیادہ پائے جاتے ہیں۔ جو لوگ آئس کے خرید وفروخت میں ملوث ہوتے ہیں وہ نوجوانوں کو اس کے استعمال کی طرف مختلف طریقوں سے ورغلاتے ہیں اور کہتے ہیںکہ اس کے استعمال سے نوجوان نسل کی ذہنی استعداد بڑھ جاتی ہے اور وہ خوش رہتے ہیں۔ اگر ہم آئس کے دوسرے نقائص پر غورکریں تو جو لوگ آئس استعمال کرتے ہیں وہ 24گھنٹے تک بغیر کسی تھکاوٹ کے جاگ سکتے ہیں مگر لمبے عرصے میں اس قسم کے نشئی کو مندرجہ بالا تکالیف کا سامنا کرنا پڑے گا۔ جہاں تک آئس کی قیمت کا سوال ہے تو خالص آئس کی ایک گرام کی قیمت 5ہزار سے 8ہزار تک ہے۔ جس میں ملاوٹ ہوتی ہے یا خالص نہیں ہوتی اس کی ایک گرام کی قیمت 2ہزار سے 3ہزار روپے تک ہوتی ہے۔ جن جن ممالک میں آئس استعمال ہوتی ہے ان میں چین، روس، ایران، بھارت اور افغانستان وغیرہ شامل ہیں۔ پاکستان کے پڑوسی ممالک چین، ایران اور بھارت جو ایفیڈرین اور دوسرے کیمیکل جس سے ایفیڈرین بنتے ہیں، پیدا کرنے والے بڑے ممالک میں شمار ہوتے ہیں۔ ان میں بھارت اور چین شامل ہیں۔ چین جو ایفی ڈرین پیدا کرنے والا بڑا ملک ہے وہ اپنی ایفی ڈرین سے چین کے صحرا زنگ زیانگ علاقے میں اور پاکستان میں یہ جڑی بوٹی بلوچستان کے پہاڑوں پر 500سے لیکر600فٹ پر پائی جاتی ہے جبکہ بھارت میں ایفی ڈرین جو آئس بنانے میں استعمال ہوتا ہے گنے کے شیرے سے بنایا جاتا ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت کو چاہئے کہ وہ تمام نشہ آور اشیاء کے بیچنے، ان کی سمگلنگ اور پروموشن پر پھانسی کی سزا رکھیں۔ جہاں تک میں نے نوٹ کیا ہے تو تمام نشہ آور اشیاء کی سمگلنگ، اس کی مارکیٹنگ اور اس کے فروع میں مختلف علاقوں کے بااثر ٖافراد اور قانون نافذ کرنے والے شامل ہوتے ہیں۔ پولیس اور بااثر لوگوں کی ملی بھگت کے بغیر اس کا کاروبار نہیں ہو سکتا۔ جہاں تک عدالتوں کا تعلق ہے تو قانون میں سقم کی وجہ سے ٹنوں نشہ آور اشیاء رکھنے والے سمگلرز اور ریٹیلرز بچ جاتے ہیں۔ سکولوں اور کالجوں میں نشہ آور اشیاء کے مہلک اثرات سے بچنے کے بارے میں ایک مضمون ہونا چاہئے۔ اگر قانون میں سقم ہے تو قانون ساز اداروں سے اس میں ترامیم کرکے جلد سے جلد اور سخت سے سخت سزائیں دی جائیں۔ بے راہ روی سے ہم اس وقت بچ سکتے جب ہم بچوں کی کردار سازی پر توجہ دیں اور ان کو دین کی طرف راغب کریں اور بلوغت تک پہنچتے ہی بچوں کو رشتہ ازدواج میں منسلک کرلیں۔

متعلقہ خبریں