Daily Mashriq


آج یوم انتخاب بھی یوم احتساب بھی

آج یوم انتخاب بھی یوم احتساب بھی

الیکشن 2018ء کی پھیکی اور خونریز انتخابی مہم انتخابات میں کامیابی وناکامی کی بنیاد عوامی حمایت کیساتھ ساتھ غیر عوامی حمایت کے بھی ناگزیر سمجھنے کیساتھ اختتام پذیر ہونے کے بعد آج ووٹر آئندہ پانچ برسوں کیلئے ملک کے نئے حکمرانوں کا انتخاب کر رہے ہیں۔ اس مرتبہ انتخابی مہم میں امید اور یقین پر نااُمیدی اور غیریقینی کی صورتحال کا غالب رہنا انتخابات کے رنگ کو پھیکا اور بدمزہ کرنے کا باعث ضرور دکھائی دیا لیکن اختتامی باب میں عوام فیصلہ دے کر اس منظرنامے میں کیا رنگ بھریں گے اور حکومت سازی کیلئے جوڑ توڑ میں ہما کس کے سر بیٹھے گا اس حوالے سے دو قسم کی آراء ہیں۔ ایک یہی کہ مکمل غیریقینی اور انہونی کا امکان ہے جبکہ ایک اور رائے کے مطابق ملک میں حکمرانی کس کو ملنے والی ہے وہ تقریباً طے ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ محولہ دونوں آراء عوامی رائے کی اکثریت کے احترام پر مبنی نہیں۔ اس حوالے سے یہ واضح رائے کیوں نہیں کہ جو پیا من بھائے وہی سہاگن یعنی جسے عوام منتخب کریں حکمرانی واقتدار ان کا۔ شکوک وشبہات بلاوجہ نہیں ہوتے اور نہ ہی شکوک وشبہات ہمیشہ درست ثابت ہوتے ہیں۔ یہ خدشات واحساسات اور تجربات ہوتے ہیں جو اس کی وجہ بنتے ہیں۔ اس سب کے باوجود بھی یہ بات بہرحال طے ہے کہ 2018ء کے عام انتخابات اس اعتماد کیساتھ نہیں ہو رہے ہیں جس کا ماحول اور صورتحال متقاضی ہوتا ہے۔ اس کے کئی ایک ظاہری وجوہ ہیں جس میں سرفہرست بعض سیاسی جماعتوں کو سیاسی اکھاڑے میں میدان گرمانے کا بھرپور موقع نہیں ملا اور ان کو خوف وخدشات اور سیکورٹی تنبیہات نے محدود ہونے پر مجبور کیا جبکہ بعض کو کھلی چھٹی ملی۔ یہ واضح بات ضرور رہی، اس کا عام ووٹر کی سوچ اور رائے پر اثرانداز ہونا بھی عجب نہیں لیکن ضروری نہیں کہ اس سے ووٹر کی رائے تبدیل ہو، جو لوگ جس جماعت سے وابستہ ہوں گے وہ اپنے ہی امیدوار کو ووٹ دیں گے لیکن سروے کے مطابق فیصلہ کن ووٹر وہ ہیں جو آخری وقت پر رائے قائم کرتے ہیں اور کسی جماعت یا امیدوار کے حق میں ووٹ کا استعمال کرتے ہیں۔ حالات کے باعث اس مرتبہ اس قسم کے ووٹروں کی اہمیت جہاں بڑھ گئی ہے وہاں رائے قائم کرنے کیلئے ان کو حالات ومشاہدات اور غور وفکر کے مواقع بھی پہلے انتخابات کی بہ نسبت زیادہ ہے گوکہ انتخابات کے عین روز کسی اندازے کا اظہار اور پیشگوئی ممکن نہیں لیکن مبصرین کی رائے ہے کہ حکومت مخلوط ہی بنتی دکھائی دے رہی ہے۔ اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ ملک کے بیس قابل ذکر انتخابی قوت رکھنے والے جماعتوں اور گروپوں کو نمائندگی ملے گی یہ نمائندگی اگر حصہ بقدر جثہ ملتی ہے اور اندازے زیادہ غلط ثابت نہیں ہوتے اور خاص طور پر غیر ملکی مبصرین انتخابات کی شفافیت بارے مثبت رائے کا اظہار کرتے ہیں تو ان انتخابات کی وقعت پر سوال نہیں اٹھے گا اور اگر ایسا نہیں ہوتا اور اگر پہلے سے موجود خدشات اور شکوک وشبہات کو مزید تقویت ملتی ہے تو یہ ملک وقوم کیلئے کوئی اچھی صورت نہ ہوگی۔ انتخابات میں غیر سیاسی قوتوں کی مداخلت کی چھاپ سے ووٹرز میں جو بددلی پھیلی ہے اس کا اثر اگر ٹرن آؤٹ پر پڑا اور عوام کی ممکنہ خطرات، عدم تحفظ اور دھاندلی کے خدشات کے باعث عدم دلچسپی سامنے آئی تو انتخابات کا نتیجہ عوامی نقطہ نظر سے بے معنی اور لاحاصل ہوگا لیکن ایسا ہونا نہیں چاہئے اور نہ ہی ایسا ممکن ہوگا کہ عوام کی خواہشات کے مکمل برعکس صورتحال سامنے آئے۔ جن جن ووٹروں کے ذہن میں کسی قسم کے خدشات ہوں ان کو سوچنا چاہئے کہ اگر ان کی طرح ہر ووٹر ایک خود ساختہ کیفیت اور سوچ کے زیراثر اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے سے کترائے گا تو ان کا یہ رویہ غیرجمہوری ہی نہیں ہوگا اور وہ قومی فریضہ کی ادائیگی سے احتراز کا قصوروار ہی نہیں ٹھہر ے گا بلکہ ہر خالی چھوڑی ہوئی جگہ غیر سیاسی قوتوں کیلئے خلاء پر کرنے کی دعوت دینے کے مترادف ہوگا۔ اسلئے آج کے دن صبح آٹھ سے شام چھ بجے تک قومی شناختی کارڈ کے حامل اور ووٹرز لسٹ میں نام رکھنے والے ہر شہری کا بنیادی فریضہ ہے کہ وہ اپنے حق رائے دہی کا استعمال لازمی کرے تاکہ وطن عزیز میں جمہوریت اور جمہوری قوتوں کو مضبوط بنایا جا سکے۔ اس عمل میں مرد وخواتین کی قید نہیں۔ ووٹر خواہ وہ مرد ہو یا خاتون ووٹ ڈالنا دونوں ہی کا قومی فریضہ ہے اور ایسے اُمیدوار کو ووٹ دینا ہے جسے وہ اپنی دانست اور شعور کے مطابق بہتر اُمیدوار سمجھتے ہوں چونکہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں روایات اور حالات کے باعث خواتین ووٹروں کی پولنگ سٹیشنوں پر آنے کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی اسلئے الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ایک خاص تناسب میں خواتین کی پولنگ سٹیشنوں پر آمد اور ووٹ ڈالنے کی لازمی شرط عائد کرکے اُمیدواروں اور سیاسی جماعتوں کو خواتین ووٹروں کو بخوشی یا طوعاً وکرھاً جو بھی صورت ہو ووٹ ڈالنے پر آمادہ کرنے کا پابند کر چکی ہے۔ خواتین کا خواتین کی پولنگ سٹیشنز پر جا کر ووٹ ڈالنا کوئی مشکل کام نہیں، سارے انتظامات کی تکمیل ہو چکی، اب ووٹر بالخصوص خواتین کی جھجھک ہی وہ عامل ہے جو ان کو روک سکتی ہے لیکن ایسا ہونا نہیں چاہئے۔ آج پاکستان کے عوام آئندہ پانچ برسوں کیلئے مسند اقتدار سونپنے کی اہم ذمہ داری پوری کر رہے ہیں۔ اس ذمہ داری کی ادائیگی اور فرض پوری کرنے میں نہ صرف پیش پیش ہونا ہر باشعور شہری کی ذمہ داری ہے بلکہ اس کیلئے مکمل طور پر کوشاں ہونا بھی ہر ایک کا قومی فریضہ ہے۔ کوتاہی کی گنجائش نہیں آج کا دن بجا طور پر یوم حساب اور یوم احتساب بھی ہے۔ اس دن کی اہمیت ہم سے جس شعور اور درست فیصلے کا متقاضی ہے وہ درست فیصلہ ہی ملک کو آنیوالے حالات میں مستحکم یا خدانخواستہ انتشار کا باعث بنا سکتا ہے اسلئے فیصلہ سوچ سمجھ کر سمجھداری کیساتھ اور مثبت قومی سوچ کے جذبے سے ہونا چاہئے۔

متعلقہ خبریں