Daily Mashriq

بعد ازخرابی بسیار، یونیورسٹی انتظامیہ کی کارروائی

بعد ازخرابی بسیار، یونیورسٹی انتظامیہ کی کارروائی

جامعہ پشاور کے ہاسٹلوں میں غیر قانونی طور پر مقیم دوسو افراد کی گرفتاری اور گیارہ سو افراد سے ہاسٹل خالی کرانے کا اقدام دیر آید درست آید کے مصداق ہے۔ غیرقانونی طور پر مقیم افراد کی جانب سے مختلف صورتوں میں جامعہ پشاور کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچانے کا اقدام صرف مالی نقصان پہنچانا نہیں تھا بلکہ اس طرح سے جامعہ کے حقیقی طالب علموں کی حق تلفی دو طرح سے ہوئی۔ اول یہ کہ ان کو رہائش کی جگہ اور مناسب ماحول نہ ملا جبکہ دوم یہ کہ بجلی کے اضافی بلوں اور جامعہ کو آمدنی سے محروم کرکے طالب علموں کا حق مارا گیا۔ اتنے بڑے پیمانے پر غیر طالب علم افراد کا مقیم ہونا اور یونیورسٹی انتظامیہ کا ان کی تعداد بڑھتے بڑھتے سینکڑوں ہونے تک کوئی راست قدم نہ اُٹھانا اگر ملی بھگت اور دباؤ کے زمرے میں نہیں آتا تو صرف نظر کے زمرے میں تو ضرورآتا ہے۔ اتنے غیر قانونی افراد کی موجودگی میں ایسے عناصر کی موجودگی بعید نہیں جو یونیورسٹی ہاسٹلز کو محفوظ پناہ گاہوں کے طور پر استعمال کرتے ہوں اور غیر قانونی کاموں میں ملوث ہوں۔ بہت سارے سوال اُٹھتے ہیں اور بہت سارے سوالات اُٹھائے جاسکتے ہیں۔ اس ضمن میں گورنر خیبر پختونخوا اقبال ظفر جھگڑا کو یونیورسٹی انتظامیہ جبکہ پولیس کے اعلیٰ حکام کو کیمپس پولیس سے اس امر کی جواب طلبی ضرور کرنی چاہئے کہ پانی سر سے اونچا ہونے تک ان کی جانب سے کوئی سخت قدم کیوں نہیں اُٹھایا گیا۔ اگر پشاور میں انتخابی اُمیدوار کو خودکش حملے کا نشانہ نہ بنایا جاتا اور انتخابی ماحول کا تحفظ مطلوب اور ضرورت نہ ہوتی تو شاید اب بھی ان کیخلاف انتظامیہ سخت اقدام نہ کرتی اب جبکہ بخیر وخوبی یہ قدم اُٹھایا جا چکا تو اس امر کو یقینی بنانا چاہئے کہ یہ لوگ لوٹ کر نہ آئیں۔

سرکاری کالجوں میں داخلوں کا سنگین ہوتا ہوا مسئلہ

پشاور کے سماجی اور عوامی حلقوں کی جانب سے یہ مطالبہ زور پکڑ گیا ہے کہ پشاور میں سرکاری کالجوں کی تعداد بڑھائی جائے اور سرکاری کالجوں میں نشستوں کی تعداد میں خاطرخواہ اضافہ کیا جائے۔ ہر سال سینکڑوں طالب علموں کا سرکاری کالجوں میں داخلوں سے محرومی اور نجی کالجوں میں استطاعت نہ رکھنے کی بناء پر داخلوں سے محرومی اور مزید تعلیم حاصل نہ کر سکنا تکلیف دہ امر اور بڑا المیہ ہے۔ صوبائی دارالحکومت کی آبادی جس تیز رفتاری کیساتھ بڑھ رہی ہے اور شہراؤ کا عمل جس طرح سے جاری ہے اس کے پیش نظر سالانہ کی بنیاد پر نہ صرف نئے سرکاری کالجز قائم کئے جائیں بلکہ موجودہ سرکاری کالجوں میں بھی عمارات اور داخلوں میں مزید گنجائش پیدا کی جائے۔ سرکاری کالجوں کی عدم موجود گی کے باعث تعلیم کے کاروبارکو جس طرح وسعت حاصل ہو رہی ہے اس کا اندازہ صوبائی دارالحکومت میں برسات میں اُگنے والے کھمبیوں کی مدد کالجوں کے قیام کی صورت میں نظر آرہا ہے۔ مضافات میں آبادی کی رفتار دیکھ کر جس طرح نجی طور پر سکولوں اور کالجوں کی وہاں ضرورت محسوس کرکے قیام عمل میں لایا جا رہا ہے کیا اس کی صوبائی حکومت نقل کرنے کے بھی قابل نہیں۔ ہماری تجویز ہوگی کہ آئندہ جہاں بھی کوئی بھی بڑی سکیم کی این او سی کی درخواست آئے متعلقہ حکام اس میں سکول کالج اور ڈسپنسری کی عمارت کیلئے نقشے میں ترجیحی بنیادوں پر جگہ مختص کروائیں۔ اس کے بغیر نقشے کی منظوری نہ دی جائے اس امر کو بھی قانون کا حصہ بنایا جائے کہ ہر بڑے رہائشی پراجیکٹ میں محولہ لوازمات کیلئے محکمہ تعلیم اور محکمہ صحت کو قیمت خرید پر بغیر کسی نفع کی وصولی کے مالکان ہاؤسنگ سکیم اراضی دینے کے پابند ہوں گے۔ سرکاری رہائشی کالونیوں میں اس امر کا اگر خیال رکھا جا سکتا ہے تو پرائیوٹ کمپنیوں اور گروپوں سے اس کی پابندی کیوں نہیں کرائی جا سکتی۔ صوبائی دارالحکومت میں طالب علموں کو داخلوں اور تعلیم سے محروم ہونے سے بچانے کیلئے مرکزی مقامات پر سرکاری سکولوں میں سیکنڈ شفٹ کا اجراء کر کے اعلیٰ ثانوی تعلیم کی کلاسیں شروع کرائی جائیں اور ان کولوں میں مختلف قسم کے دیگر کورسز کا اہتمام کیا جائے تاکہ طالب علموں کو حصول روزگار کی مناسب تربیت ملے اور ان کو ہنرمند بنایا جا سکے۔

متعلقہ خبریں