Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

ابو حمزہ محمد بن میمون سکریؒ مشہور محدث ہیں ’’سکری‘‘ کے لفظی معنی ہیں ’’نشے والا‘‘ اصل میں سکری نشہ آور اشیاء فروخت کرنے والے کو کہتے ہیں لیکن حضرت ابو حمزہؒ کے لئے یہ لقب اس لئے مشہور ہوا کہ ان کا انداز گفتگو بڑا شیریں اور موثر تھا۔سننے والے کے دل پر اثر کرتا اور وہ ان کے بیان میں اس طرح ڈوب جاتا ہے اپنے آس پاس سے بے خبر ہوجاتاہے۔ حضرت ابو حمزہؒ کا معمول تھا کہ اگر ان کے پڑوس میں کوئی شخص بیمار ہوتا تو اس کی جتنی رقم علاج معالجے پر صرف ہوتی یہ اتنی ہی رقم خدا تعالیٰ کی راہ میں صدقہ کردیا کرتے تھے کہ خدا تعالیٰ نے مجھے اس بیماری سے بچا کر مجھ پر احسان فرمایا۔ اس کا شکر یہ ہے کہ کم از کم اتنی رقم صدقہ کردی جائے۔ حضرت ابو حمزہؒ کے پڑوسی ان سے اس قدر خوش تھے کہ ان کے ایک پڑوسی نے اپنا مکان بیچنے کا ارادہ کیا تو خریدار نے قیمت پوچھی‘ اس نے جواب دیا ’’دو ہزار تو گھر کی قیمت ہے اور دو ہزار ابو حمزہؒ کے پڑوس کی۔‘‘ حضرت ابو حمزہؒ کو پڑوسی کے اس جملے کی اطلاع پہنچی تو انہوں نے چار ہزار روپے اپنے پاس سے پڑوسی کے پاس بھیج دئیے اور فرمایا : ’’ یہ رکھ لو اور گھر مت بیچو‘‘۔ (خطیبؒ: تاریخ بغداد ج3:ص 268:‘269‘ مطبوعہ دارالکتاب العربی‘ بیروت)

سلطان محمد تغلق (متوفی 752ھ) ہندوستان کا مشہور بادشاہ ہے جو ہندوستان کی تاریخ میں اپنی سطوت اور خون ریزی کے حوالے سے بہت مشہور ہے۔ ایک مرتبہ وہ صوفی بزرگ حضرت شیخ قطب الدین منورؒ کی رہائش گاہ کے قریب سے گزرا۔ حضرت قطب صاحبؒ اپنی جگہ بیٹھے رہے اور اس کے استقبال کے لئے باہر نہیں نکلے۔سلطان کو یہ بات بہت ناگوار گزری اور اس نے بار پرس کے لئے حضرت قطب صاحبؒ کو اپنے دربار میں طلب کرلیا۔ حضرتؒ دربار میں داخل ہوئے تو ملک کے تمام بڑے بڑے امراء‘ وزراء اور فوجی افسر بادشاہ کے سامنے مسلح ہو کر دو رویہ کھڑے تھے۔ دربار کے رعب داب کا عالم یہ تھا کہ لوگوں کے کلیجے پگھلے جا رہے تھے۔ حضرت قطب صاحبؒ کے ساتھ ان کے نو عمر صاحب زادے نور الدینؒ بھی تھے‘ انہوں نے اس سے قبل کبھی بادشاہ کا دربار نہیں دیکھا تھا‘ ان پر یہ پرہیبت منظر دیکھ کر رعب طاری ہوگیا۔ حضرت قطب صاحبؒ نے بیٹے کو مرعوب دیکھا تو زور سے پکار کر کہا۔

’’عظمت تمام تر خدا کے لئے ہے‘‘

حضرت نور الدینؒ فرماتے ہیں کہ جونہی اپنے والد کی یہ آواز میرے کانوں میں پڑی میں نے اپنے اندر ایک عجیب و غریب قوت محسوس کی‘ میرے دل سے دربار کی ساری ہیبت زائل ہو کر رہ گئی اور تمام حاضرین مجھے ایسے معلوم ہونے لگے جیسے وہ بھیڑ بکریوں کا کوئی ریوڑ ہو۔ (الارکان الاربعہ ‘ للاستاذ ابی الحسن علی ا لندوی ص73 بحوالہ اولیاء ص 353 تا355)

دنیاوی شان و شوکت اور رعب داب عارضی ہے اور سب ختم ہونے والا ہے ۔ اگر یہ بات ہمیں سمجھ آجائے تو کبھی بھی باطل سے نہ گھبرائیں۔

متعلقہ خبریں