Daily Mashriq

انتخابی معرکہ، رگنگ کے الزامات اور مابعد

انتخابی معرکہ، رگنگ کے الزامات اور مابعد

وہ جو ہنگامہ ہاؤہو ایک عرصے سے جاری تھا وہ تھم گیا ہے یعنی گزشتہ رات بارہ بج کر ایک منٹ پر سیاسی جماعتوں کی جانب سے الیکشن کے حوالے سے انتخابی مہم قانونی طور پر بند ہو چکی ہے اور اب ایک نیا ہنگامہ انتخابات کے روز یعنی پولنگ کے دن دیکھنے کو ملے گا۔ انتخابی مہم کے دوران سیاسی جماعتوں کے اہم رہنماؤں نے بڑے بڑے جلسوں اور جلوسوں کے ذریعے جو ایک ہنگامہ برپا کر رکھا تھا اس حوالے سے مرزا غالب نے بھی تو کہا تھا

ایک ہنگامے پہ موقوف ہے گھر کی رونق

نوحہ غم ہی سہی نغمہ شادی نہ سہی

مرزا کے اس شعر میں زندگی کا فلسفہ نمایاں ہوکر سامنے آتا ہے، مصرعہ اولیٰ تو انتخابات سے پہلے اور ازاں بعد بھی پوری طرح بروئے کار آتا ہے البتہ مصر عہ ثانی صرف انتخابی عمل کے بعد کی صورتحال کو زیادہ بہتر انداز سے واضح کر دیتا ہے، یعنی جیتنے والوں کیلئے نغمہ شادی والی کیفیت ہوگی جبکہ ناکام ہونیوالوں کیلئے نوحہ غم سے زیادہ اور کیا صورتحال ہو سکتی ہے۔ رہ گئے عوام تو وہ بے چارے گزشتہ 70برس سے ان ہنگامہ آرائیوں میں ان تماشائیوں کی صورت شامل ہوتے ہیں جن کو میلے کے اگلے روز پتہ چلتا ہے کہ ان کا کمبل چوری ہوگیا ہے اور اب آئندہ پانچ سال تک وہ اپنے کمبل کی بازیافت کیلئے سرگرداں رہیں گے اور جب پانچ سال بعد ایک بار پھر جمہوریت نام کا یہ تھیٹر لگے گا تو وہ ایک بار پھر اس امید میں کہ شاید ان کا چوری شدہ کمبل بازیافت ہوجائے شامل باجہ ہو کر بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ کا کردار ادا کرنے پر بخوشی آمادہ ہوجائیں گے۔ یہ الگ بات ہے کہ ہر پانچ سال بعد (کبھی کبھی اس مدت میں کمی بیشی بھی ہوتی رہی ہے) وہ اپنی خواہشات کے کمبل کو تلاش کرنے کیلئے ہمیشہ کی طرح سراب کے پیچھے دوڑنے پر مجبور کئے جاتے رہے ہیں اور اب بھی صورتحال جوں کی توں ہی رہے گی۔ کمبل تو کب کا گم ہو چکا ہے اور دراصل یہ تو بزکشی کا کھیل بن چکا ہے جس میں متحارب سیاسی قوتیں اسی کمبل کے پیچھے دوڑ دوڑ کر اس کو قابو میں کرنے کی کوشش کرتی ہیں، عوام بے چارے صرف تالیاں بجا کر، ناچ گا کر، زندہ باد مردہ باد کے نعرے لگا کر بلکہ اب تو گالم گلوچ کا مقابلہ کر کے اسی خوش فہمی کا شکار رہتے ہیں کہ ان کی پسندیدہ جماعت کے ہاتھ یہ کمبل لگ گیا تو وہ یقیناً یہ عوام کو واپس کر دیں گی لیکن سراب کے پیچھے بھاگنے والے کب بامراد ٹھہرے ہیں۔ حقیقت بھی تو یہی ہے کہ جمہوریت کے نام پہ جو کھیل اس ملک کے عوام کیساتھ کھیلا جا رہا ہے اسے ماسوائے کھلواڑ کے دوسرا کوئی نام نہیں دیا جا سکتا جبکہ دراصل یہ سارے خرخشے دولت کے بل پر کھیلے جاتے ہیں، اس کی وضاحت کی چنداں ضرورت بھی نہیں ہے کہ یہ ہماری معلوم تاریخ ہے، اسی لئے وہ جو اوپر کی سطور میں گزارش کی جا چکی ہے کہ انتخابی مہم کے اختتام پر پولنگ کے دن کا ہنگامہ الگ نوعیت کا ہوتا ہے جہاں کسی بھی سیاسی جماعت کا سربراہ یا اہم لیڈران بھی اپنے اپنے بارے میں سوچتے ہیں یعنی انہیں بھی اپنی پڑی ہوتی ہے جبکہ ہر پارٹی کے دیگر اُمیدوار بھی اپنے اپنے طور پر اپنی جیت کو یقینی بنانے کیلئے کوشاں رہتے ہیں گویا قیامت کا سماں ہوتا ہے، جہاں نفسی نفسی کی صداؤں سے ایک الگ قسم کا ہنگامہ سٹیج ہو رہا ہوتا ہے۔ البتہ ووٹوں کی گنتی کا عمل شروع ہوتے ہی یہ ہنگامہ آرائی ایک گمبھیر خاموشی کا روپ اس وقت تک دھارے رہتی ہے جب تک کہ مختلف پولنگ سٹیشنوں کے نتائج آنا شروع نہ ہو جائیں اور جب ایک خاص وقت کے بعد ہار اور جیت کی صورتحال نمایاں ہونے لگتی ہے تو پھر ہارنے والوں کے چہروں پر مایوسی اور ان کے انتخابی کیمپوں میں قدرے سراسیمگی سے ’’نوحہ غم‘‘ کی کیفیت رہتی ہے جبکہ جیتنے والے کی کیمپ سے کلاشنکوفوں، کلاکوفوں اور پستولوں کی گولیوں کی آوازوں کیساتھ ڈھول کی آوازیں بھی علاقے کے مکینوں کیلئے وبال جان بن جاتی ہیں۔ تاہم ماضی میں ایسا بھی ہوتا رہا ہے کہ رات گئے تک جن کی کامیابی کی خبریں نہ صرف مقامی سطح بلکہ ٹی وی چینلز پر بھی سامنے آتی رہتی ہیں، اچانک مزید خبریں یعنی حتمی نتیجے کے اعلان تک رک جاتی تھیں اور پھر چند گھنٹے بعد جیتنے والوں کے ہارنے جبکہ ہارنے والوں کی جیت کے اعلانات سے درحیرت کھلنے کو بھی دیکھا جاتا رہا ہے، اس کے بعد ایک اور قسم کی ہنگامہ آرائی کا آغاز ہو جاتا ہے یعنی زبردستی ہار جانے والوں کی جانب سے نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار اور نتائج کو چیلنج کرنے کی نوبت آتی رہی ہے، تاہم ایسے بہت کم کیسز ہوتے تھے جن کے فیصلے چیلنج کرنے والوں کے حق میں آئے اور اگر ایسا ہوا بھی تو اکثر یہ فیصلے پارلیمنٹ کی مدت کے اختتامی لمحات ہوتے تھے یعنی وہ جو دودھ پر بالائی اور مکھن ہوتا تھا تو وہ جیت کے نام پر ہارنے والا ہضم کر چکا ہوتا ہے اور جو حقیقی جیت کا حقدار ہوتا ہے بے چارہ آخری چند ماہ کیلئے اگر اس نے اپنا حق پا بھی لیا تو کیا فائدہ؟ ماضی میں اکثر اوقات انجنیرڈ انتخابی نتائج کے ذریعے بھی جیتنے والوں کو ہارنے پر مجبور کیا جاتا رہا، جس کے بعد ایک اور قسم کی ہنگامہ آرائی جنم لیتی ہے جس کے بعد اگلے انتخابات تک الزامات کا طومار باندھ جاتا ہے اور ایسے حالات ہم دیکھ بھی چکے ہیں، ایک الگ قسم کی ہنگامہ آرائی گزشتہ انتخابات کے بعد بھی اس ملک میں برپا رہی ہے جو چار حلقوں اور پھر 35پنکچر ز سے ہوتے ہوئے طویل دھرنوں میں ڈھلتی چلی گئی۔ اب کے جو صورتحال سامنے آئی ہے اور پری پول رگنگ کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں، خدا کرے کہ انتخابی نتائج کے بعد ایک بار پھر کسی مسئلے کا قوم وملک کو سامنا نہ کرنا پڑے اور امن وسکون سے آنیوالے پانچ سال گزر جائیں جبکہ حالات برعکس ہونے کی چغلی کھا رہے ہیں، بقول دلاور فگار

ملی تھی راہ میں جمہوریت کل

جو میں نے خیریت پوچھی تو رو دی

وہ بولی میں بھی باعزت تھی پہلے

مگر لوٹوں نے لٹیا ہی ڈبو دی

متعلقہ خبریں