Daily Mashriq

ووٹ برائے علم انصاف ومساوات

ووٹ برائے علم انصاف ومساوات

بدھ کی صبح جب آپ یہ سطور پڑھ رہے ہوں گے ملک بھر میں عام انتخابات کے آخری مرحلہ (پولنگ) کا آغاز ہو چکا ہوگا۔ بائیس کروڑ دوسرے پاکستانیوں کی طرح ا س تحریر نویس کی بھی ذاتی پسند وناپسند ہوگی، غیرجانبداری نام کی دنیا میں کوئی چیز نہیں ہوتی۔ اعتدال توازن اور آرا، کے احترام کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ آپ کا ووٹ آپ کا فیصلہ ہے۔ یہ فیصلہ اگلے پانچ سال کیلئے آپ کی امیدوںکو پر بھی لگا سکتا ہے اور اس کی بدولت آپ کو پھر سے ان حالات سے دوچار بھی ہونا پڑسکتا ہے جو پچھلے پانچ دس پندرہ یا پھر ستر سال سے بھگت رہے ہیں۔ مناسب یہ ہے کہ ووٹ کی پرچی لینے کے بعد چند ساعتیں نکال کر اس امر پر غور ضرورکیجئے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔ یہ کوئی مقام فخر ہے یا شرمندگی؟۔ دونوں میں سے جو بھی ہے اس کا ذمہ دار کون ہے۔ انفرادی نہیں اجتماعی امور میں ذمہ دار کا تعین کیجئے۔ جاگتی آنکھوں میں خواب کاشت کرنے والوں نے انتخابی مہم کے دوران خواب خوب بیچ لئے۔

ستر برسوں کے دوران کتنے خوابوں کو تعبیر ملی اور کتنے تعبیروں سے پہلے چوری ہوئے، سارا حساب آپ کے سامنے ہے۔ چار مارشل لاؤں بھٹو کی عوامی جمہوریت، لولی لنگڑی طبقاتی جمہوریت یا پھر جرنیلی جمہوریت، بہت دیکھ سن برداشت کر چکے۔ بہت سارے خواب ہماری آنکھوں میں ٹوٹے، کچھ کی کرچیوں نے آنکھیں زخما دیں۔ زندگی کے سفر کی شاہراہ پر کانٹے بونے والوں نے بھی کسر نہیں چھوڑی۔ دستور بنے پامال ہوئے اور بحال بھی۔ سچ یہ ہے کہ اس ملک کے لوگوں نے جمہوریت کیلئے بہت قربانیاں دی۔بدقسمتی یہ ہے کہ ان کی قربانیاں رائیگاں گئیں۔ جمہوریت کی جگہ طبقاتی بالادستی کا نظام مقدر ہوا، غربت وامارت کے درمیان کی خلیج ہر گزرنے والے دن کیساتھ وسیع تر ہوتی چلی گئی۔ اس دوران یہ بھی ہوا کہ چند سیاستدانوں اور سیاستکاروں کی غلطیوں کا ملبہ سیاستدانوں پر اجتماعی طور پر ڈالا گیا۔ اس شور شرابے اور پروپیگنڈے کی دھول کا فائدہ ان قوتوں نے اٹھایا جو عوام کے حق حکمرانی کو کھلے دل سے تسلیم کرنے سے انکاری ہیں۔ یہ کونسی قوتیں ہیں ان کے مقاصد کیا ہیں اور کیوں وہ طبقاتی جمہوریت کا ڈھول بائیس کروڑ لوگوں کے گلوں میں بہرطور لٹکائے رکھنے پر بضد ہیں۔ یہ ایسا راز نہیں جو سمجھ میں نہ آتا ہو۔

برصغیر کی تقسیم کے نتیجے میں بننے والے پاکستان میں ایک خاص فہم کیساتھ فکری انتشار کو ہوا دی گئی۔ ذات پات، برادریوں اور فرقہ پرستی کے بتوں کی پوجا کو رواج دینے والے درحقیقت ان قوتوں کے آلہ کار ہیں جو عوام کے حق حاکمیت کو اپنی بالادستی اور کاروبار کی راہ میں رکاوٹ سمجھتی ہیں۔ اب بھی ایک منصوبے کے تحت سستی قسم کی حب الوطنی کا دھندہ ہو رہا ہے۔ ابدی سچائی یہ ہے کہ ہر وسیب زادہ (فرزند وطن) اپنی دھرتی، تاریخ، ثقافت، تہذیب وتمدن اور روایات کا وفادار ہوتا ہے۔

حب الوطنی کاشت نہیں ہوتی یہ فطری جذبہ ہے۔ بات کچھ دور بلکہ بہت دور نکل گئی۔ عرض یہ کرنا تھا کہ 25جولائی 2018ء کا دن ہمارے اور آئندہ نسلوں کیلئے خصوصی اہمیت کا دن ہے۔ اپنے ووٹ کی پرچی سے ہم اسے یاد گار بنا سکتے ہیں اور خود کو تاریخ کے کوڑے دان کا رزق بھی۔ فیصلے ہمارے یوں کہیں ہم سب کے ہاتھ میں ہے۔ ہم ایک سماج میں جی رہے ہیں جسے علم وشعور، ترقی، علاج معالجے کی جدید سہولتوں، سماجی ومعاشرتی اور عدالتی انصاف کیساتھ مساوات کی ضرورت ہے۔ کھلواڑ بہت ہو چکے، نعرے بلند وبانگ دعوے اور سازشوں کے ٹرک کی بتی کے پیچھے بہت بھاگ لئے، ووٹ ڈالنے سے قبل تھوڑا سا سستا لیجئے چار اور کے حالات اور مسائل کو سمجھنے کی کوشش کیجئے اور پھر ووٹ کی پرچی کا استعمال کیجئے، پوری فکری دیانت کیساتھ ووٹ کا استعمال ضروری ہے۔ اندھی تقلید جنونیت بھری شخصیت پرستی، ذات برادری اور مسلک کی صلیب اُٹھانے کی نہیں انسانیت پروری، امن، علم، انصاف، مساوات، احتساب بلاامتیاز، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور عوام کا شریک اقتدار ہونا ازبس ضروری ہے۔ یہ ضرورتیں ہیں انہیں نظر انداز کرنا مشکل ہے۔ اسلئے بہت سوچ سمجھ کر پارٹی اور امیدوار کا انتخاب کیجئے تاکہ اگلے پانچ سال پشیمانی نہ ہو۔ یاد رکھنے والی بات یہ ہے کہ گمبھیر داخلی مسائل کیساتھ علاقے کے معروضی حالات بھی اس امر کے متقاضی ہیں کہ ہم ایک ایسی قیادت کا انتخاب کریں جو کم سے کم وقت میں گمبھیر تر ہوئے داخلی مسائل سوفیصد نہیں تو پچاس فیصد ہی حل کر دے۔ علاقائی صورتحال کا ادراک کرتے ہوئے پڑوسیوں سے بہتر تعلقات کار کے قیام کی حکمت عملی کو یقینی بنائے۔

فقیر راحموں کافی دیر سے کہہ رہے ہیں کہ شاہ جی! اپنے قارئین سے کہیں کہ ووٹ کی پرچی کسی چور لٹیرے، لوٹے، طبقاتی نظام کے مجاور، انسانیت دشمن، فرقہ پرست اور ذات برادری کے پجاری کے حق میں استعمال نہ کریں۔ فقیر کی باتیں اور رمزیں وہی جانے مجھ طالب علم کی تمنا یہی ہے کہ ووٹ دیجئے ضرور دیجئے لیکن علم وامن، انصاف مساوات، بلاامتیاز احتساب، ترقی، دستور میں دی گئی شہری آزادیوں کے تحفظ کیلئے، فیصلہ آپ کو کرنا ہے کہ کونسی جماعت اور امیدوار نفس پرستی اور تعصبات سے محفوظ رہ کر آپ کی نمائندگی کا حق ادا کر پائیں گے۔

متعلقہ خبریں