Daily Mashriq

میں تیار ہوں

میں تیار ہوں

وقت ہے جب ہم بحیثیت قوم اس ملک کے بیانیئے کا فیصلہ کریں۔ نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) کا بیانیہ، عمران خان اور تحریک انصاف کا بیانیہ، مولانا فضل الرحمن اور جے یو آئی کا بیانیہ، آصف زرداری، بلاول بھٹو اور پیپلز پارٹی کا بیانیہ سُنتے سُنتے ہمیں ایک عمر گزر گئی۔ نہ ان بیانیوں میں کہیں کوئی پاکستانی نظر آیا نہ پاکستان کی بہتری کی کوئی آواز سنائی دی۔ افسوس اس بات کا ہے کہ مایوسیوں کی اس فہرست میں دھیرے دھیرے جانے کیسے عمران خان کا نام بھی شامل ہوتا جا رہا ہے۔ جب عمران خان ملک میں بطور سیاستدان سامنے آئے تھے اور جب ان کی سیاست نے قد نکالنا شروع کیا تھا، میں نے کالموں کی ایک سیریز لکھی تھی جس میں عمران خان کے حکومت میں نہ آسکنے کی وجوہات کا تفصیلی تجزیہ کیا تھا۔ میں نے جن بنیادی وجوہات کا ذکر کیا تھا اس میں عمران خان کے دھڑے میں منتخبین کا نہ ہونا اور عمران خان کا عوام تک پہنچنے میں سست رفتار ہونا بنیادی وجوہات بیان کی تھیں۔ اپنے ان کالموں میں، میں نے ذوالفقار علی بھٹوکے طریقہ کار اور عمران خان کے طریقہ کار کا تقابلی جائزہ بھی لیا تھا کیونکہ دونوں ہی تبدیلی کے علمبردار تھے۔ اس وقت میں اور آج میں بہت فرق ہے۔ اس وقت عمران خان سیاست میں نوآموز تھے۔ انہیں انتخابات میں جیتنے کی ضرورت تھی۔ پی ٹی آئی صرف ایک ہی نشست جیتنے میں کامیاب ہوئی تھی جو عمران خان کی اپنی نشست تھی۔ عمران خان اس کے بعد بھی سیاست میں موجود رہے اور آہستہ آہستہ اپنی سیاسی حماعت کا ایک بیانیہ بنایا۔ وہ بیانیہ مستقلاً ایک ہی جیسا رہا۔ ان کے اپنے طرز فکر میں بھی کوئی تبدیلی محسوس نہ ہوتی تھی نہ ہی ان کے طرز عمل میں کسی قسم کا کوئی بدلاؤ تھا۔ عمران خان کی بائیس سالہ سیاسی زندگی میں خیالات کے حوالے سے کوئی تبدیلی نہیں، تبھی لوگ ان کی بات پر یقین رکھتے تھے۔ اس وقت جب میں نے یہ کالم لکھے تھے کم ازکم ایک دہائی گزر چکی ہے۔ اس وقت کے اور آج کے حالات میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ اس وقت عوام نے عمران خان کے بیانیئے سے کوئی جذباتی وابستگی پیدا نہ کی تھی۔ ان انتخابات میں اتنے سالوں کی مسلسل تلقین کے بعد جب عمران خان کو منتخبین اکھٹے کرنے کی سوجھی تو وہ لوگ جو عمران خان کے حوالے سے ایک عمومی مثبت رائے رکھتے تھے اور یہ سمجھتے تھے کہ چونکہ عمران خان نے برس ہابرس سے ایک ہی بیانیہ رکھا ہے، وہ چوروں کے ساتھی نہیں اسلئے انہیں بھی آزما لینا چاہئے، وہ لوگ اک عجب کشمکش کا شکار ہیں۔ وہ سمجھ نہیں سکتے کہ انہیں کیا سوچنا چاہئے اور اس سوچ کی اصل بنیاد کیا ہونی چاہئے۔ عمران خان سے ان کی وابستگی کی بنیاد کو خود عمران خان نے بدل دیا ہے۔ اس ساری صورتحال کے نتیجے میں ان لوگوں کا ووٹ بینک عمران خان کے حق میں کمی کا شکار ہو سکتا ہے لیکن پھر وہ منتخبین جو اب عمران خان کی صفوں میں شامل ہیں، وہ اپنے چاہنے والوں کا وزن بھی تو ساتھ لیکر آئینگے، سو اُمید یہی ہے کہ عمران خان کا سیاسی وزن اب کی بار خاصا زیادہ ہوگا۔ اگر عمران خان ان منتخبین کو اپنی اصلی فطرت اور لوٹ مار کی خواہش سے روک سکیں۔ وہ لوگ جو جانے مانے لینڈ مافیا کنگ ہیں وہ اپنی خواہشات پر قابو رکھ سکیں اور اگر محض لوگ عمران خان کو آزمانے کی خواہش لئے عمران خان کو ووٹ دیں اور تبدیلی دکھائی دے جائے تو میں سمجھتی ہوں واقعی ایک نیا پاکستان وجود میں آسکتا ہے۔ 

مسلم لیگ (ن) اور نواز شریف کو ہم بہت آزما چکے، پیپلز پارٹی کی خواہشات سے بھی ہم بخوبی واقف ہیں، ایم ایم اے پر جے یو آئی کے حاوی ہونے کے باعث ان سے بھی کوئی اُمید وابستہ نہیں کی جا سکتی۔ اے این پی کی وطن دوستی کے حوالے سے شکوک ہیں۔ ایم کیو ایم کی گزشتہ صورت پر تو ملک دشمنی کے داغ صاف دکھائی دیتے ہیں لیکن اس سب کے باوجود سب سے اہم بات یہی ہے کہ ہم سب مل کر بحیثیت قوم اپنا ایک بیانیہ طے کریں۔ وہ بیانیہ جو ہمیں ہماری منزل کا نشان دکھائے، وہ بیانیہ نہیں جو میڈیا ہمارے لئے تخلیق کرتا ہے، جو سیاسی جماعتوں کے بیانیئے ہیں، جن میں ڈرامہ زیادہ اور سچ کم ہوتا ہے۔ اگر ہمارا بیانیہ بحیثیت قوم روشن مستقبل، اُمید اور بدعنوانی سے آزادی ہو اور ہم اسے ہی اپنے لئے ووٹ دینے کی کسوٹی بنا لیں تو یقین مانئے فیصلہ کرنا بہت آسان ہوگا۔ میں نے ان باتوں کو بنیاد بنا کر اپنی ترجیحات ترتیب دینے کی کوشش کی تو میرے لئے فیصلہ کرنا آسان بھی ہو گیا اور میرا انتخاب بھی بدل گیا کیونکہ اس انتخاب میں، میں اپنے روشن مستقبل اپنے بچوں کیلئے ایک بہترین پاکستان کو ووٹ ڈالنا چاہتی ہوں، میں چاہتی ہوں میرے بچے کسی خوف کا شکار نہ ہوں، میں اپنے بچوں کو ایک خوبصورت سرسبز پاکستان میں پھلتے پھولتے دیکھنا چاہتی ہوں۔ میں کسی مایوسی کو گھر نہیں کرنا چاہتی۔ میں باہمت ہوں کہ اپنے بچوں کے مستقبل کا فیصلہ میں آج کرونگی۔ میں جانتی ہوں، میں پرعزم ہوں، میں جس کو بھی ووٹ دوں گی، وہ اگلے پانچ سال بدعنوان نہ ہوسکے گا کیونکہ اگر وہ بدعنوان ہوا تو اس ملک کی عدالت مضبوط بھی ہے اور لوگوں کے حقوق کی جنگ لڑنے کو تیار بھی۔ میں بھی تیارہوں۔ اب اس ملک کو کوئی نہیں لوٹے گا۔

متعلقہ خبریں