Daily Mashriq

2018ء کا الیکشن

2018ء کا الیکشن

جمہوریت کے ظہور سے قبل اقتدار کا فیصلہ جنگوں کے ذریعے ہوا کرتا تھا۔ آج یہ کام انتخابات کے ذریعے ووٹ کی پرچی سے ہوتا ہے لیکن آج بھی اس کو انتخابی معرکہ کہا جاتا ہے اور الیکشن میں حصہ لینے کی بجائے ’’الیکشن لڑنے‘‘ کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ اسلئے معرکہ جنگ کا ہو یا انتخاب کا فیصلہ کن قوت ’’مورال‘‘ کی ہوتی ہے۔ جس گروہ کا مورال بلند ہو وہ کئی گنا بڑے دشمن کو زیر کر لیتا ہے۔ تاریخ ان مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ ظہیرالدین بابر کی بارہ ہزار فوج نے لودھی کی ایک لاکھ سے زائد فوج کو پانی پت کے میدان میں چت کر لیا تو اس کی وجہ بابر کی فوج کے مقابلے میں لودھی کی فوج کا پست مورال تھا حالانکہ اس دور میں ’’تعداد‘‘ سب سے اہم فیکٹر تھا اور لودھی کے پاس آٹھ گنا بڑی فوجی طاقت تھی۔ ٹیکنالوجی کے اس دور میں تعداد کی اہمیت اب کم ہو کر رہ گئی ہے لیکن آج بھی سامنے سے حملہ کرنے کا اصول ایک کے مقابلے میں تین کا ہے‘ یعنی ایک فوجی کے مقابلے میں آپ کے پاس عددی قوت تین کی ہو تب آپ فرنٹ سے اٹیک کر سکتے ہیں وگرنہ پہلوؤں پر حملہ (Flank Strategy)کرنے کی حکمت عملی ترتیب دینی پڑتی ہے۔ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ جذبہ ایک ایسی بڑی قوت ہوتی ہے جو زمینی حقیقتوں کو روندتے ہوئے آگے بڑھ سکتی ہے۔ مورال پست ہوں تو وسائل کی اہمیت ہوتی اور نہ تعداد کی۔ مسلم لیگ ن کو الیکشن 2018ء میں اس کیفیت کا سامنا ہے۔ مسلم لیگ ن کے ووٹرز اور سپورٹرز کے حوصلے پست ہیں اور وہ برملا اس بات کا اظہار کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں کہ ن لیگ کو خفیہ قوتوں نے اقتدار میں نہیں آنے دینا۔ نواز شریف نے ان خفیہ قوتوں کا نام خلائی مخلوق رکھا ہے جبکہ شہباز شریف کہتے ہیں کہ وہ کسی خلائی مخلوق کے وجود کو نہیں مانتے۔ شہباز شریف نے بہت کوشش کی مگر نواز شریف نے اپنا بیانیہ نہ بدلا جس کا نقصان بحیثیت جماعت مسلم لیگ ن کو ہوگا۔ جس جماعت کے بارے میں یہ رائے عام ہو جائے کہ اسٹیبلشمنٹ اس کیخلاف ہے پاکستانی ووٹرز کی ایک بڑی تعداد اس کا ساتھ چھوڑ جاتی ہے‘ خاص طور پر پنجاب کے ووٹر ز کا مزاج اسی نوعیت کا ہے اور وفاقی حکومت سازی میں پنجاب فیصلہ کن کردار کا حامل ہے۔مسلم لیگ ن کی نسبت پاکستان تحریک انصاف کے ووٹرز بڑے گرمجوش (Charged)ہیں۔ انہیں دکھائی دے رہا ہے کہ اس مرتبہ تحریک انصاف کی حکومت قائم ہوگی۔ عمران خان نے اس بار زبردست حکمت عملی اپنائی ہے۔ ان کا مؤقف پرواسٹیبلشمنٹ رہا جس کی وجہ سے تاثر بنا کہ درپردہ قوتیں عمران خان کیساتھ ہیں اور وہ عمران خان کو اقتدار میں لانے کیلئے سرگرم ہیں۔ اس تاثر کی وجہ سے پنجاب سے بڑی تعداد میں امیدوار تحریک انصاف میں شامل ہوئے۔ 2018ء کے بعد قومی اسمبلی کا الیکشن لڑنے کی خواہش لئے جو امیدوار تحریک انصاف میں آئے ان کی تعداد 80کے لگ بھگ ہے۔ مسلم لیگ ن‘ پیپلز پارٹی‘ مسلم لیگ ق اور آزاد ودیگر جماعتوں سے آنیوالے ان الیکٹیبلز کو 74سے زائد حلقوں میں اکاموڈیٹ کیا گیا۔ پنجاب سے 2013ء میں تحریک انصاف کی صرف چھ نشستیں تھیں جبکہ 2018ء کے الیکشن میں تحریک انصاف نے ہر انتخابی حلقے میں مضبوط امیدوار کھڑے کئے ہوئے ہیں۔ شمالی پنجاب اور جنوبی پنجاب کے علاوہ وسطی پنجاب میں بھی تحریک انصاف مسلم لیگ ن کے مقابلے میں بڑی قوت دکھائی دیتی ہے چنانچہ کہا جاسکتا ہے کہ تحریک انصاف کے 80 سے 90سیٹوں پر کامیابی حاصل کرنے کے قوی امکانات ہیں۔ پنجاب میں مسلم لیگ ن کو اس بار شکست کا سامنا ہے۔ مسلم لیگ ن نے بڑا تیر مارا تو 35سے 40سیٹوں پر امیدوار الیکشن جیتنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں ن لیگ کے حصے میں 4سے 5سیٹیں آ سکتی ہیں جبکہ سندھ وبلوچستان سے کسی سیٹ کے جیتنے کے امکانات نہایت معدوم ہیں۔ تحریک انصاف کی مقبولیت خیبر پختونخوا میں اپنے عروج پر ہے۔ پختونخوا کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہوگا کہ کسی برسراقتدار جماعت کو عوام دوبارہ اعتماد کا ووٹ دیں گے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ تحریک انصاف 30سے زائد نشستوں پر کامیابی حاصل کرے گی۔ بلوچستان سے بھی پانچ چھ نشستوں پر تحریک انصاف کے امیدوار جیت سکتے ہیں اور سندھ سے یہ تعداد دس کے قریب ہو سکتی ہے۔ یوں اس بات کا روشن امکان ہے کہ تحریک انصاف باآسانی سادہ اکثریت حاصل کر لے گی۔پاکستان کے استحکام کیلئے ازحد ضروری ہے کہ 2018ء کے الیکشن کے نتیجے میں ایک مضبوط حکومت وجود میں آئے۔ اگر خدانخواستہ معلق پارلیمنٹ بنی تو یہ پاکستان کے عوام کیلئے بڑے افسوسناک صورتحال ہوگی۔ عمران خان متعدد بار یہ بات کہہ چکے ہیں چونکہ انہیں حالات کی نزاکت کا احساس اور اندازہ ہے۔ الیکشن کے نتیجے میں بننے والی کمزور حکومت پاکستان کو درپیش مسائل کو دور کرنے کیلئے دلیرانہ فیصلے کیسے کر سکے گی؟ پاکستان بھر میں عمران خان کی کامیابی اگرچہ نوشتہ دیوار ہے مگر انہیں سادہ اکثریت نہ ملی تو یہ ادھوری کامیابی ہوگی جس کا نقصان پاکستان کو ہوگا۔ عمران خان نے اسٹیٹس کو کی قوتوں کیخلاف جس جدوجہد کی بنیاد رکھی تھی وہ اپنے آخری مرحلے میں ہے چنانچہ ان کی خواہش اور کوشش ہے کہ پاکستانی عوام اس موقع کو ضائع نہ ہونے دیں اور ان کا ساتھ دیں۔ تحریک انصاف کی مضبوط حکومت کے قیام کے بعد ہی نئے پاکستان کا خواب شرمندۂ تعبیر ہو سکے گا۔

متعلقہ خبریں