Daily Mashriq


دہشت گردی کی نئی لہر

دہشت گردی کی نئی لہر

ملک میں دہشت گردی کی نئی لہر نے پاکستان کے عوام کو ایک بار پھر لرزا کر رکھ دیا ہے۔ گزشتہ روز جہاں ایک طرف خیبر پختونخوا کے شہر پارہ چنار میں دو دھماکے ہوئے جن کے بارے میں خدشہ ہے کہ یہ خود کش دھماکے ہیں۔ ان کے علاوہ کوئٹہ میں ایک خود کش دھماکہ کیا گیا جبکہ کراچی میں شر پسندوں کی فائرنگ سے پولیس اہلکار قتل ہوئے۔ ان تینوں وارداتوں میں مجموعی طور پر 58افراد شہید' 85شدید زخمی ہوئے۔ پارہ چنار میں ایک دھماکے کے بعد جب لوگ جائے واردات کے قریب آئے تو ایک اور دھماکے سے مزید تباہی پھیلا دی گئی۔ اگرچہ ان دہشت گردانہ واقعات کی ذمہ داری تادم تحریر کسی تنظیم نے نہیں اٹھائی تاہم پاکستان کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ ان میں کس تنظیم کا ہاتھ ہوسکتا ہے اور آگے جا کر ان واقعات کے ڈانڈے کس ملک میں پیوست دکھائی دیں گے۔ اس ضمن میں صدر مملکت' وزیر اعظم' گورنر و وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے علاوہ اسفند یار ولی خان' مولانا فضل الرحمن' عمران خان اور دیگر سیاسی قیادت نے بھی شدید مذمت کی ہے۔ وزیر اعظم نواز شریف نے مدینہ منورہ سے جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ ظالمانہ حملے دہشت گردوں کی مایوسی کا اشارہ ہیں' رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں معصوم شہریوں کو نشانہ بنانا انتہائی بہیمانہ اقدام ہے۔ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف متحد اور پر عزم ہے۔ اس میں قطعاً شک نہیں کہ پوری قوم اس بہیمانہ اور مسلط کردہ دہشت گردی کے خلاف یکسو ہے تاہم یہ جنگ کب ختم ہوگی کوئی اس حوالے سے کچھ بھی کہنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ خبروں کے مطابق پارہ چنار میں سیکورٹی ہائی الرٹ تھی مگر اس کے باوجود دہشت گرد ایک نہیں دو دھماکے کرنے میں کامیاب ہوگئے اور عیدالفطر کے موقع پر درجنوں گھروں میں صف ماتم بچھا دی جبکہ بد قسمتی سے ہماری سیاسی قیادت حسب روایت ان دہشت گردانہ حملوں کی زبانی کلامی مذمت کرکے ہی اپنی ذمہ داری سے عہدہ برآ ہونے کی کوشش کر رہی ہے ان کا یہ وتیرہ کوئی نیا نہیں بلکہ ایسے مواقع پر یہ لوگ ہمیشہ سٹیریو ٹائپ بیانات دے کر عوام کو طفل تسلیاں دے دیتے ہیں۔ جہاں تک سیکورٹی اداروں اور سیکورٹی اہلکاروں کا تعلق ہے ملک میں رد الفساد کے نام سے دہشت گردی کے خلاف مشن شروع کیاگیا ہے۔ اس میں ان اداروں کی جانی قربانی اور عوام کو محفوظ رکھنے کے لئے اٹھائے جانے والے اقدامات نہایت اہمیت کے حامل ہیں اور ابتداء میں اس کے نتائج سے عوام کے اندر اطمینان کا پیدا ہوجانا فطری امر تھا۔ مگر ایسا لگتا ہے کہ دہشت گرد جس طرح شروع شروع میں تتر بتر ہو کر جائے پناہ ڈھونڈتے پھر رہے تھے اب انہوں نے ایک بار پھر خود کو مجتمع کرلیا ہے اور ٹکڑیوں میں بٹ جانے کے باوجود جہاں موقع ملتا ہے دہشت گردی پھیلا کر اپنے ہونے کا احساس دلا دیتے ہیں جس سے یہ سوال بھی ابھرتے ہیں کہ کیا ہمارا انٹیلی جنس کا نظام ان کی سر گرمیوں کو مانیٹر کرنے میں ناکام تو نہیں ہوگیا یا پھر آپریشن ردالفساد کی بے انتہا کامیابیوں کی وجہ سے ہمارے متعلقہ ادارے خدانخواستہ سست روی کا شکار تو نہیں ہوگئے ۔ دیگر یہ کہ جس طرح ہمارے سیکورٹی اداروں نے غیر ملکی اداروں کی پشت پناہی سے دہشت گردوں کی سرگرمیوں کا سراغ لگا کر ان کے خلاف موثر کارروائی سے ان کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے اور دہشت گردوں کی سرگرمیوں کی پشت پناہی کرنے والوں کے مذموم مقاصد کو ناکامی سے دو چار کیا ہے۔ اس سے ان سر پرستوں کی صفوں میں مایوسی کا اظہار مزید غصے کو جنم دینے لگا ہے اور پاکستان کے خلاف مزید شدت سے یہ لوگ حملہ آور ہونے اور افراتفری پھیلانے کے لئے سر گرم ہو چکے ہیں۔ اس ضمن میں پاکستان پر ڈرون حملوں میں ایک بار پھر تیزی کو جس طرح پاکستان نے مسترد کیا ہے اور کچھ قوتیں پاکستان کو تنہا کرنے کی کوششیں کر رہی ہیں ۔ ہمسایہ ممالک سے پاکستان مخالف آوازوں کا بلند ہونا بھی ان حملوں کی اصل وجوہات کی جانب اشارہ کرتا دکھائی دیتاہے۔ بہر حال یہ تو متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملک میں اچانک اٹھتی اس تازہ دہشت گردانہ لہر کے پیچھے چھپے عوامل اور ذمہ دار حلقوں کے بارے میں معلومات اکٹھی کریں اور اس قسم کے مزید حملوں کی روک تھام کرنے کے لئے ضروری اقدام اٹھائیں جبکہ سول سیکورٹی اداروں کو بھی مزید منظم طریقے سے شہروں کی سیکورٹی کے لئے اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برآہونے کی تدبیر کرنی چاہئے کیونکہ نہ صرف یہ کہ عید قریب آنے کی وجہ سے بازاروں میں خرید و فروخت کے لئے جانے والوں کی تعداد بڑھ چکی ہے جن میں نہ صرف مرد بلکہ خواتین اور بچوں کی بھی بہت بڑی تعداد شامل ہے اور پھر عید کے موقع پر مساجد اور امام بارگاہوں میں نماز عید کے اجتماعات کی حفاظت بھی بہت ضروری ہے کیونکہ دہشت گردوں کا تو نہ کوئی دین ہے نہ ایمان اور وہ ماضی میں بھی عبادت گاہوں میں وارداتیں کرتے رہے ہیں اس لئے ان سے یہ توقع عبث ہے کہ وہ اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لئے مزید کارروائیاں نہیں کریں گے۔ اس لئے خود ہمیں اپنی سیکورٹی بڑھانے کی فکر کرنی چاہئے۔

متعلقہ خبریں