Daily Mashriq

بلدیاتی ملازمین کی ہٹ دھرمی ؟

بلدیاتی ملازمین کی ہٹ دھرمی ؟

ایسا لگتا ہے کہ پشاور میں ڈبلیو ایس ایس پی کے افسروں اور سینی ٹیشن کے شعبے سے تعلق رکھنے والے ملازمین کے درمیان عید کی چھٹیوں کے حوالے سے اختلافات کی خلیج خاصی وسیع ہوگئی ہے ۔ واٹر اینڈ سینیٹیشن کے شعبے ملازمین کی یونین کے اس اعلان کے بعد جو چند روز پہلے اخبارات میں چھپ چکا ہے کہ عملہ صفائی عید کے دنوں میں شہر سے کوڑا کرکٹ اٹھانے کی بجائے عید اپنے گھروالوں کے ساتھ منائے گا تاہم پانی کی فراہمی کیلئے ٹیوب ویل آپریٹر ز باقاعدہ گی کے ساتھ اپنی ڈیوٹی انجام دیں گے تاکہ شہر یوں کو کسی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔ اس اعلان کے چھپنے کے تین دن بعد ڈبلیو ایس ایس پی کے افسران کو ہوش آیا اور انہوں نے یونین کے اس فیصلے کو یکطرفہ قرار دیتے ہوئے اسے رد کر دیا اور متعلقہ عملے کو عید کے دوران ڈیوٹیوں پر حاضر ہونے کا حکم دیتے ہوئے انہیں یاد دلا یا کہ لازمی سروس کے قوانین کی رو سے عملہ صفائی چھٹی نہیں کر سکتا ، بصورت دیگر لازمی سروس ایکٹ کا اطلاق کرتے ہوئے غیر حاضر ہونے والوں کے خلاف سخت تا دیبی کارروائی کی جائے گی جس میں ملازمت سے برطرفی کے ساتھ ساتھ بھاری جرمانہ اور قید کی سزا بھی دی جا سکتی ہے۔ اب تازہ اطلاعات کے مطابق ملازمین اور انتظامیہ کے درمیان اوور ٹائم تنازعہ کی وجہ سے چیف ایگز یکٹو ڈبلیو ایس ایس پی نے ڈپٹی کمشنر کو ایک مراسلہ ارسال کر کے انہیں عید کے موقع پر ڈیوٹی سے غیر حاضر ہونے والوں کے خلاف لازمی سروس ایکٹ 1958ء کے تحت کارروائی کی سفارش کی ہے ، یونائیٹڈ میونسپل ورکرز اور آل ڈبلیوایس ایس پی ورکرز یونین ملازمین بضد ہیں کہ دوگنا اوورٹائم دیا جائے جو چالیس لاکھ روپے سے زیادہ بنتا ہے ، جس کی منظوری صرف بورڈ آف ڈائریکٹرز ہی دے سکتا ہے ۔ جبکہ بورڈ آف ڈائر یکٹر ز کے چیئر مین سمیت دس ممبر ڈبلیو ایس ایس پی سے حیات آباد اور یونیورسٹی ٹائون واپس لینے کے فیصلے پر مستعفی ہو چکے ہیں اور ان کی غیر موجود گی میں ملازمین کو دوگنا اوور ٹائم نہیں دیا جا سکتا ۔ دوسری جانب یو نائیٹڈ میو نسپل ورکرز کے ترجمان نے لازمی سروس ایکٹ مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں نہ تو مارشل لاء ہے اور نہ ہی صوبے میں ایمر جنسی نافذ ہے نہ ہی ہم بیگار کیمپ میں کام کر رہے ہیں ، نہ گوانتا ناموبے جیل کے قیدی ہیں لہٰذا ہمیں وعدے کے مطابق مذہبی تہواروں پر تین گنا اوورٹائم دینا ہوگا بصورت دیگر ملازمین عید کی چھٹیاں اپنے بچوں کے ساتھ منائیں گے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ اوورٹائم کے قانون کے مطابق معاوضہ ہمیشہ ڈبل کر کے ادا کیا جاتا ہے ، اور اس کیلئے کسی بورڈ آف ڈائر یکٹرز سے اجازت لینے کی ضرورت بھی نہیں ہوتی بلکہ یہ قانون پہلے ہی ملک میں رائج ہے ، تاہم جس طرح یونائیٹڈ میونسپل ورکرز نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے ساتھ تین گنا اوور ٹائم کا وعدہ کیا گیا ہے تو اس سے صاف متر شح ہوتا ہے کہ یہ وعدہ بورڈ آف ڈائریکٹرز کی اجازت سے ہی یونین کے ساتھ مذاکرات کے نتیجے میں کیا جا چکا ہوگا ، اس لئے اگر صورتحال ایسی ہی ہے تو بورڈ آف ڈائریکٹرز کی بوجہ عدم موجودگی کا بہانہ بنا کر ملازمین کو ان کے جائز حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا ، تاہم اگر یونین کا استدلال غلط ہے تو پھر ملازمین کو دو گنا اوور ٹائم پر ہی راضی ہو جانا چاہیئے ، جبکہ اس حوالے سے عدالت عالیہ بھی موجود ہے اور اس تنازعہ کو حل کرنے کیلئے ڈبلیو ایس ایس پی پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کر کے حتمی فیصلہ لے سکتا ہے ، اور معاملہ افہام و تفہیم سے حل ہو جائے تو یہ نہ صرف ڈبلیو ایس ایس پی ، ورکرز یونین بلکہ شہریوں کے بھی مفاد میں ہے ، کیونکہ ڈبلیو ایس ایس پی اور یونین کی باہمی چیقلش میں عوام رگیدے جارہے ہیں جن کاکوئی قصور نہیں ہے۔ ادارے کے ترجمان کی اس بات میں بھی بہت دم ہے کہ یونین کے ساتھ اوورٹائم کے مسئلے پر مذاکرات ناکام نہیںہوئے نہ ہی کمپنی نے اوور ٹائم دینے سے انکار کیا ہے ، جبکہ اوور ٹائم کی ادائیگی کا مطالبہ بورڈ کے اجلاس میں دوبارہ پیش کرے گی ۔ اس صورتحال کے بعد ورکرز یونین کو بھی اپنی سوچ تبدیل کرتے ہوئے صبر سے کام لینا چاہیئے ۔
سٹیٹ بنک کے حکام توجہ دیں
یہ بات قابل افسوس ہے کہ سٹیٹ بنک کی واضح ہدایات کے باوجود کہ عید کی چھٹیوں کے دوران تمام بنک اے ٹی ایمز کو چالو رکھنے اور رقوم کی فراہمی کیلئے متعلقہ عملے کو الرٹ کر ے تاکہ عوام کومشکل صورتحال کا سامنانہ کرنا پڑے مگر شہر کے ایک اہم علاقے گل بہار کالونی میں عید کی چھٹیوں کو رکھئے ایک طرف بعض بنکوں کی جانب سے ہفتہ اور اتوار کی عمومی چھٹیوں کے دوران بھی اے ٹی ایمز میں کیش ختم ہوجاتا ہے ، بلکہ ایک دو بنکو ں کے عملے کا وتیر ہ تو یہ ہے کہ بعض اوقات عام دنوں میں بھی یہ مشینیں (Sorry)کے جلی حروف سے صارفین کی مشکلات میں اضافہ کرتے دکھائی دیتی ہیں ، اس لئے سٹیٹ بنک کے حکام اس کا نوٹس لیکر صورتحال کی اصلاح کیلئے اقدام اٹھائیں ۔

اداریہ