Daily Mashriq


منظر ہی نہیں موسم بھی بدلنے کو ہے

منظر ہی نہیں موسم بھی بدلنے کو ہے

محاذ آرائی کے دروازے کھلتے دکھائی دے رہے ہیں۔ مسلم لیگ(ن) طے کرچکی کہ پانامہ کیس کا حتمی نتیجہ قابل قبول نہیں ہوگا۔ ایک سوچ یہ ہے کہ بنگلہ دیش برانڈ انتظام میں بلا امتیاز احتساب کے لئے وقت لیا جائے۔ کیا نظریہ ضرورت کی باسی کڑی میں ابال لانے کی تیاریاں ہو رہی ہیں؟ دوسری سوچ یہ ہے کہ نواز شریف کو آمادہ کیا جائے کہ وہ درمیانی راستہ نکالیں۔ درمیانی راستہ یعنی وہ استعفیٰ دیں۔ اقتدار مسلم لیگ کے پاس رہے اور قبل از وقت انتخابات کا اعلان کردیا جائے۔ احتساب کے لئے وقت لینے اور قبل از وقت انتخابات پر غور کرنے والوں کے پیش نظر آئندہ سال مارچ میں ہونے والے سینٹ کے انتخابات بھی ہیں۔ سامنے کی حقیقت یہ ہے کہ مارچ 2018ء کے بعد نون لیگ سینٹ میں اکثریتی جماعت ہوگی۔ مطلب چیئر مین سینٹ اس کا۔ جس کے لئے وزیر خزانہ سینیٹر اسحٰق ڈار کے نام کو فائنل کر چکے ہیں۔ کھینچا تانی بہر طور ہو رہی ہے۔ سب کو جلدی ہے مگر سوچنے والی بات یہ ہے کہ کیا دستور سے ماورا انتظامات ممکن ہیں' بظاہر تو نہیں مگر پاکستان ایسے ملک میں کچھ بھی نا ممکن نہیں ہوتا۔ سب ہو جاتا ہے لاریب نواز شریف اور ان کے خاندان پر الزامات محض الزامات نہیں صداقت تو ان میں ہے۔ یہ بھی درست ہے کہ فقط سیاستدان ہی کرپٹ نہیں دوسرے شعبے بھی کرپشن زدہ لوگوں سے بھر ے پڑے ہیں۔ ہمیں ماننا ہوگا کہ بلا امتیاز احتساب کے لئے سیاستدان قانون سازی کرسکے نا سیاسی دبائو سے محفوظ ادارہ قائم کرسکے۔ ایک ایسے نظام احتساب اور ادارے کی ضرورت تھی جو سب کااحتساب کرنے کا اختیار رکھتا ہوتا۔ سب میں چونکہ سب آتے ہیں اس لئے سیاستدانوں نے گرم زمین پر چہل قدمی سے گریز کیا۔ نواز شریف کے پاس دو راستے ہیں اولاً وہ پانی پت کے معرکہ کے لئے تیار ہو جائیں ثانیاً وہ جولائی کے آخری یا اگست کے پہلے ہفتے میں اسمبلیاں توڑ کر نئے انتخابات کا اعلان کردیں۔ ان دو راستوں پر نواز شریف کو چلنے دیا جائے گا۔ یہی سوال ہے بلکہ یوں کہیں اصل سوال۔

وہ دوست جو یہ کہتے ہیں کہ نواز شریف کے احتساب کی بات جمہوریت کے خلاف سازش ہے یہ بتانے کی زحمت نہیں کرتے کہ اس طبقاتی استحصالی نظام کو جمہوریت کیسے مان لیا جائے۔ کچھ دوست بضد ہیں کہ کرہ ارض کی سب سے بڑی برائی پاکستان کی حد تک سیاستدان ہیں۔ اچھے لوگ کہاں ہیں کے سوال پر وہ آنکھیں چرانے لگتے ہیں۔ ایک قدم آگے بڑھائیے کیا رائے دہندگان حقیقی جمہوری شعور سے کاملاً آگاہ ہیں۔ میرا جواب نفی میں ہے۔ جو لوگ آج بھی ذات برادری' مسلک' علاقے اور فوری مفادات پر ووٹ دیتے ہوں ان کا سیاسی شعور سے کیا لینا دینا۔ آسان لفظوں میں یوں کہہ سمجھ لیجئے۔ ہم سب اپنی پسند کی جماعت اور قیادت کو کم ترین برائی کے د رجہ پر رکھتے ہیں۔ یہ فہم انتخابی عمل کے دوران پر لگا کر پرواز کرتا ہے۔ نتیجہ ہمارے سامنے ہے مگر سامنے کی ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ خود عالی جناب نواز شریف کو پاکستان سے زیادہ کاروبار عزیز ہے۔ ان کے میڈیا منیجر جو طوفان برپا کئے ہوئے ہیں اس سے کیا ملے گا؟ یہاں جمہور اور جمہوریت سے زیادہ پارٹی مالکان کی وفاداری کو تقدم حاصل ہے۔ جناب میاںنواز شریف 2000 میں جب معافی نامے کے عوض جلا وطنی خرید کر گئے تھے تو بعد کے سالوں میں فرماتے رہے کہ عید پر وطن کی مٹی بہت یاد آتی ہے۔ ان سے پوچھ لیجئے کہ 2007ء کے بعد سے اب تک کے دس برسوں میں انہوں نے کس عید پر وطن کی مٹی کو قدم بوسی کی سعادت بخشی؟ اس جملہ معترضہ کو ایک طرف رکھئے ہم اصل موضوع پر بات کرتے ہیں۔ بظاہر آپ کو عجیب لگے گا مگر سچ یہی ہے کہ انتظامات جاری ہیں۔ امکانات کے حوالے سے بالائی سطور میں عرض کرچکا مکرر عرض کیئے دیتا ہوں میاں نواز شریف جان چکے کہ کھیل ختم ہونے کے قریب ہے۔پانامہ سکینڈل کا باوا آدم حدیبیہ پیپر مل اور التوفیق کے درمیان مالیاتی تنازعہ ہے۔ کہانی ہی وہیں سے شروع ہوئی۔ اب پرت در پرت کہانی کھل رہی ہے۔ کون ہے یہاں جو سینے پر ہاتھ مار کر کہے اس کا اور اس کے خاندان کا دامن اس بات سے محفوظ ہے کہ اقتدار کے دنوں میں طاقت کی سر پرستی سے آمدنی کے ذرائع بڑھائے نہیں؟ ہم 2017ء میں رہ رہے ہیں جدید میڈیا پر مکمل قبضہ مشکل ہے اوپر سے وہ سوشل میڈیا۔ یہ تو بھوت بن کر ڈرانے لگا ہے بالا دست طبقات ٹیکس چوروں' انتہا پسندی کا چورن فروخت کرنے والوں کو۔ آپ کو یاد ہوگا کہ ان سطور میں عرض کیا تھا کہ سوشل میڈیا کے لئے قانون سازی پر ساری جماعتوں نے ایکا کرلیا تھا ایک بھی جماعت عوام کے ساتھ کھڑی نہیں ہوئی۔ مفادات کا چکر عجیب ہے۔ بہر طور عرض کرنے کا مطلب یہی ہے کہ جی کا جانا ٹھہر گیا ہے۔ فیصلہ جو بھی ہو طے شدہ بات نون لیگ کے اقتدار کا خاتمہ ہے۔ ثانیاً یہ کہ احتساب ہونا چاہئے مگر احتساب کے نام پر نظریہ ضرورت کے تن نحیف میں تازہ خون داخل کرنے کی ضرورت نہیں۔ رائے دہندگان کے بھی کچھ فرائض ہیں مثلاً ووٹ ہی اس جماعت کو دیا جائے جو اپنے منشور میں وعدہ کرے کہ اقتدار ملنے کی صورت میں 60دن کے اندر قانون سازی کے ذریعے احتساب کے ادارے کو کاملاً خود مختار بنا دیا جائے گا اور اس کے سربراہ کی تقرری کے لئے پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں تین نام پیش کئے جائیں گے۔ ان تین میں سے ایک نام کی منظوری پارلیمان عددی اکثریت سے دے اور عدم اعتماد دو تہائی اکثریت سے ہو۔ میرا نہیں خیال کہ دستیاب سیاسی جماعتیں اس طرح کی کسی قانون سازی کا وعدہ کریں گی۔ عوام' اہل دانش اور صحافیوں کو اخلاقی دبائو بڑھانا ہوگا۔ بار دیگر عرض کئے دیتا ہوں کہ طبقاتی نظام کی دیوار توڑ کر عوامی جمہوریت کے لئے راستہ بنایا جاسکتا ہے۔ کسی عبوری متبادل انتظام سے جمہوریت کی راہ ہموار نہیں کی جاسکتی۔

متعلقہ خبریں