Daily Mashriq

کھیل کی سیاست

کھیل کی سیاست

دنیا میں سیاست کا کھیل چلتا ہے اور جب معاملہ پاکستان اور بھارت کا ہوتو کھیل پر سیاست کا گمان ہونے لگتا ہے ۔اس سے بھی بڑھ کر ایک جنگ کا سماں بندھ جاتا ہے ۔کھیل کے میدان میں بائیس کھلاڑی جان کھپا ڈالنے میں مگن ہوتے ہیں مگر ان کے ساتھ کروڑوں دلوں کی دھڑکنیں بھی چلتی اور رکتی ہیں ۔ان کے ہر قدم اور ہر عمل کے ساتھ عوام کے جذبات کے شعلے بھی بھڑکتے اور بجھتے ہیں ۔کرکٹ کے کھیل کو ایسے مناظر اور ایسے مداح اور شوقین صرف پاکستان اور بھارت کے درمیان میچ کے دوران ہی میسر آتے ہیں۔اس کی وجہ یہی ہے کہ اس کھیل کو سیاست اور جنگ کی طرح لیا جاتا ہے ۔یہ سوچ دونوں ملکوں کے درمیان برسوں سے جاری کشیدگی اور ایک مخصوص کشیدہ ماحول کی پیداوار ہے اور جانے کب تک پوری قوت کے ساتھ یونہی جاری رہے گی۔لندن میں اوول کے میدان میںچیمپنئز ٹرافی کے لئے سیاست ،جنگ اور کھیل کے انہی دو روایتی حریفوں کے درمیان فائنل کا جوڑ پڑا ۔زندگی کے دوسرے شعبوں کی طرح یہاں بھی بھارت کا اعتماد حد سے زیادہ بڑھا ہوا تھا اور اکثر بھارتی تجزیہ نگاروں کا خیال تھا کہ پاکستان اوول کے میدان میں بھارت کا مقابلہ نہیں کر سکے گا ۔ان کی خود اعتمادی اور تکبر میں تفریق کرنا ممکن نہیں تھا مگر جو کچھ ہوا اس تکبر نما خود اعتمادی کا شیشہ کرچی کرچی کر گیا۔بھارت کے لئے اس جیت کی اہمیت شاید اس قدر ہوتی کہ وہ ایک کھیل اور سیاست وسفارت سمیت دنیا کے ہر میدان کے حریف ملک کو شکست دینے میں کامیاب ہوا مگر پاکستان کے لئے یہ فتح اس سے کہیں بڑھ کر ہے ۔پاکستان ڈیڑھ دو عشرے سے حالات کے جس بھنور میں گھر اہو ا ہے ۔اس نے قوم کومایوس اور مستقبل سے نااُمید کیا ہے ۔

اس مایوسی کے اثرات قوم کے رگ وریشے میں سرایت کرتے چلے گئے ۔ایک ایک کرکے اس ملک کے ادارے دیوالیہ ہونے لگے ۔اچھی ساکھ کو بدنامی کا گھن چاٹتا چلا گیا ۔ملک محض ایک ہجوم اور قطعہ زمین کا نام نہیں ہوتے بلکہ مستقبل کے حوالے سے پرامید اور پرعزم منظم انسانوں کے مسکن ہوتے ہیں ۔یہ افراد کے ساتھ ساتھ اداروں کا مجموعہ ہوتے ہیں اور جب ادارے ایک ایک کرکے دیوالیہ ہونے لگیں تو ملک کے مستقبل سوالیہ نشان بن جاتے ہیں ۔پاکستان چند برس پہلے تک اس مقام پر کھڑا تھا اور اس کے زوال پذ یر اداروں اور شعبوں میں ایک کرکٹ کا کھیل بھی تھا ۔اس ماحول میں بھارت کے خلاف شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کر کے جیت کا سہرا قوم کے سر سجانے والی ٹیم نے دنیا بھر میں پاکستانی عوام کو نیا اعتماد اور حوصلہ دیا ۔پہلے تو اس جیت کی دعائیں مانگ کر اور پھر اس کا جشن منا کر پاکستانی قوم ایک ہوئی ۔دنیا کے جس کونے میں پاکستانی آباد تھے رنگ ونسل کی تفریق مٹا کر پاکستانی ٹیم کے لئے دعا گو رہے اورپھر جشن منا کر اپنے جذبات کا دلی اظہار کرتے رہے ۔صرف پاکستانیوں کی ہی کیا بات اس ملک سے وابستگی رکھنے والوں کی خوشی بھی دیدنی رہی ۔ترک صدر رجب طیب اردگان کے دفتر کا جو منظرکیمرے کی آنکھ نے محفوظ کیا بہت دلچسپ تھا ۔ ٹی وی سکرین پر نظریں جمائے طیب اردگان اور ان کے سٹاف کے چہروں سے پاکستان کی جیت کی خوشی عیاں تھی ۔یوں لگ رہا تھا کہ ان کی دھڑکنیں ٹی وی کے اندر سما گئی ہیں ۔مقبوضہ کشمیر کی تو بات ہی کچھ اور ہے ۔وہاں تو دہائیوں سے یہ روایت چلی آرہی ہے کہ پاکستان کی جیت کو عید کے انداز میں منایا جاتا ہے اور جب یہ جیت بھارت سے چھین کر حاصل کی گئی ہو تو پھر اس کا نشہ اور مزہ دوآتشہ ہو جاتا ہے۔ پاکستانی ٹیم کی جیت پرمقبوضہ کشمیر کی گلیوں میں جابجا جشن کے مناظر دیکھے گئے ۔شہر وقصبات میں نوجوانوں کی ٹولیاں ڈھول کی تھاپ پر پاکستان کی حمایت میں نعرے لگاتے ہوئے نکل آئے اور کریکر چلا کر اپنے جذبات کا اظہا رکرتے رہے ۔
واٹس ایپ پر جدید کشمیر کے چی گویرا کہلانے والے برہان وانی کے گائوں میں ایک جشن کی آڈیو کلپ گردش کرتی رہی جس میں خواتین پاکستانی ٹیم کے لئے گیت گارہی ہیں۔ میرو ا عظ عمر فاروق کے اس ٹویٹ کو خصوصی شہرت ملی جس میں کہا گیا تھا کہ ''ہر طرف آتش بازی ہے۔ایسا محسوس ہورہا ہے کہ عید قبل از وقت آگئی ہے۔اچھا کھیلنے والی ٹیم کا دن رہا ۔ پاکستانی ٹیم کو مبارکباد''۔میرواعظ کے اس ٹویٹ کے جواب میں بھارتی ٹیم کے سابق کپتان گوتم گمبھیر نے ٹویٹ یوں کیا کہ ''میرواعظ آپ کے لئے تجویز ہے کہ آپ سرحد پار کرکے اُس پار کیوں نہیں چلے جاتے۔وہاں آپ کو بہتر پٹاخوں اورعید کا جشن ملے گا۔میں پیکنگ میں آپ کی مدد کرسکتا ہوں''۔ گوتم کے اس ٹویٹ سے ذاتیات اور حسد کی روایتی سرانڈ محسوس کی جا سکتی ہے ۔اس طرح کے مناظر دنیا بھر میں دیکھے گئے ۔برطانیہ کی گلیوں کوچوں ،ٹیوب سٹیشنز پر جابجا پاکستانی جھومتے اور دھمالیں ڈالتے نظر آئے ۔اس طرح کھیل کے میدان میں ہونے والی ایک فتح نے پاکستانیوں کا اعتماد بڑھا دیا ۔ان کے دلوں میں پاکستان کے مستقبل کے حوالے سے امید کی شمع روشن ہوئی ۔بیرونی دنیا میں بسنے والے پاکستانی جو اپنی شناخت چھپانے پر مجبور ہواکرتے تھے فخرکے ساتھ سڑکوں پر نکل کر اپنی پاکستانی شناخت کو نمایاں کرتے دیکھے گئے ۔ جس طرح مسلسل چھوٹی چھوٹی ناکامیاں قوموں کو افسردگی اور پژمردگی کی گہرائیوں میں اتار دیتی ہیں اسی طرح معمولی سی کامیابیاں مل کر قوموں کو خود اعتمادی کا پہاڑ بنا دیتی ہیں۔

اداریہ