جامعات کا معیار اور کوالٹی اشورنس سیل

جامعات کا معیار اور کوالٹی اشورنس سیل

پاکستان کے نظام تعلیم میں خرابی اور کمزوری کب کیسے اور کہاں سے آئی اس پر حکومتی اداروں اور تعلیم کا درد رکھنے والے لوگوں نے بلا مبالغہ ہزاروں سیمینارز' کانفرنسیں کی ہوں گی۔ لیکن اس کے باوجود ہر گزرتے سال کے ساتھ پاکستان میں دیگر بہت ساری خرابیوں کے ساتھ معیار تعلیم مسلسل گرتا چلا گیا۔ اس گرتے معیار تعلیم میں کس کس نے کیا کردار ادا کیا یہ بذات خود بہت لمبی بات اور پی ایچ ڈی سطح کی تحقیق کا موضوع ہے لیکن ایک بنیادی توجہ اس سلسلے میں کہی جاسکتی ہے۔ میری ناقص رائے یہ ہے کہ قیام پاکستان کے بعد تعلیم و تعلم کو وہ اہمیت نہیں دی گئی جو پاکستان جیسے ایک نظریاتی اور نو زائیدہ ملک کی سمت اور نصب العین کے تعین اور منزل تک پہنچنے کے لئے ضروری تھی۔ پاکستان کے ابتدائی تین عشروں میں سیاسی عدم استحکام اور اقتدار کی غلام گردشوں میں جو محلاتی سازشیں برپا رہیں اس میں مقتدر اعلیٰ طبقات کو تعلیم و تربیت کی وزارت کو مستحکم کرنے اور اس کے مینڈیٹ کے طور پر واضح اور دو ٹوک خدو خال اور لائحہ عمل پیش کرنے کی نہ صلاحیت تھی اور نہ ہی فرصت۔ یہی وجہ تھی کہ وزارت تعلیم کو ہمیشہ غیر منافع بخش سمجھ کر دلچسپ وزارتوں کی فہرست سے باہر ہی سمجھا گیا۔ تاریخ اٹھا کر دیکھئے آپ کو پاکستان میں الا ماشاء اللہ وزیر تعلیم کی کرسی پر سند نشین کوئی صحیح معنوں عالم فاضل دانشور شخصیت بہت کم نظرآ ئے گی۔ 

اسی طرح بیورو کریسی میں سیکرٹری تعلیم کے فرائض اس بیورو کریٹ کو سونپے گئے جو یا تو غیر اہم تھا یا حکومت وقت کی عتاب کا شکار تھا۔ پھر اگر کہیں اتفاق اور قوم کی خوش قسمتی سے کوئی قابل اور موزوں وزیر تعلیم اور سیکرٹری تعلیم میسر بھی آئے تو سرخ فیتہ اور تعلیم میں حکومتی عدم دلچسپی کے سبب وہ بھی وہ نتائج نہ دے سکے جو ان کی صلاحیتوں کے مطابق متوقع تھے۔ 1970ء تک ساری کمزوریوں کے باوجود پاکستان کے سکولز' کالجز اور جامعات بہر حال ملک کی ضروریات کی تکمیل کے لئے ضروری افراد کی تعلیم و تربیت کا اعلیٰ معیار و پیمانے کا نہ سہی ایشیا اور افریقہ کے بہت سارے ملکوں سے بہت بہتر تھا۔ لیکن عوامی حکومت میں جب ٹریڈ یونینز اور طلبہ یونینز کو بہت زیادہ اختیارات ملنے لگے تو تعلیمی اداروں کی حالت دگر گوں ہونے لگی۔ اس دور سے پہلے جیسے بھی تھا اساتذہ کو بہر حال معاشرے اور طلبہ کے درمیان ایک احترام کا مقام حاصل تھا۔ ہر استاد اپنے کم سے کم معیا سے نیچے گرنے کو کسی صورت تیار نہ ہوتا۔ لیکن جب کالجوں اور جامعات میں طلبہ لیڈرز اور یونینز کے ذریعے سیاست داخل ہوئی تو سب کچھ بدلنے لگا اور ایک وقت آیا کہ سنجیدہ و با وقار اساتذہ اپنی عزت و وقار کی حفاظت کے لئے کنی کترا کر چلنے لگے۔ تعلیمی اداروں میں جب سے طلبہ اور اساتذہ کی سیاست داخل ہوئی ہے وہ لمحہ اور دن پاکستان میں تعلیمی معیار کے زوال کا نقطہ آغاز ثابت ہوا ہے۔ لیکن گزشتہ دو عشروں سے کالجز اور جامعات میں پرنسپلز اور وائس چانسلرز کی تعیناتی کے حوالے سے جو معیار سامنے آیا وہ سیاسی وابستگیوں کے علاوہ اور کیا تھا۔ سیاسی بنیادوں پر تعینات وائس چانسلروں نے جامعات میں زیادہ اساتذہ کی تعیناتی بھی اسی بنیاد پر کی ۔ یہی حال دیگر ملازمین کی تعیناتی کا تھا۔
جامعات میں اساتذہ کے سیاسی جماعتوں سے کھلم کھلا رشتے روابط اور الحاق ہیں اور پھر طلبہ کی سیاسی تنظیمیں ہیں جو اپنی سر پرست سیاسی جماعتوں کے زیر نگرانی پھلتی پھولتی ہیں اور جو سیاسی جماعت حکومت میں ہوتی ہے اس کی طلبہ تنظیم سب سے تگڑی شمار ہوتی ہے کیونکہ وہ اساتذہ کے بھی کام کرتے ہیں۔جامعات میں وائس چانسلروں کے اپنے سیاسی حلیف و حریف گروپس ہوتے ہیں جو سنڈیکیٹ' سینیٹ' اے ایس آر بی اور دیگر فورمز پر وائس چانسلر کی حمایت اور مخالفت کے مواقع ڈھونڈتے ہیں۔ تعلیمی معیار' تحقیق و تعلیم اور ترقی اور شعبہ جات کے سر براہ اور ڈائریکٹرز اور چیئر مینز کے تقرر میں بھی ان ہی معاملات کا بڑا کردار ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے خیبر پختونخوا کی جامعات میں سب سے زیادہ متاثر ام الجامعات جامعہ پشاور ہے۔کہنے کی حد تک ہر حکومت کا دعویٰ ہوتا ہے کہ جامعات اور تعلیمی اداروں میں سیاست برداشت نہیں کی جائے گی۔ لیکن دوسرے دن ہر حکومت کے وزراء اپنے سیاسی نظریات کے حامل اساتذہ اور طلبہ کے نمائندوں سے ملاقاتیں کرکے آشیر باد دے رہے ہوتے ہیں اور اس تلخ حقیقت سے کون واقف نہیں کہ اس وقت کم و بیش پورے ملک میں یہی صورتحال ہے کہ سیاست کاذبہ نے ہمیں بحیثیت قوم تقسیم کرکے رکھ دیا ہے اور اس مذموم تقسیم کے اثرات ملک کے ہر شعبہ کو متاثر کئے ہوئے ہیں۔ ہر یونیورسٹی میں کیو ای سی (QEC) کوالٹی انہاسمنٹ سیل موجود ہے لیکن اس کے باوجود ایم اے سے لے کر پی ایچ ڈیز اور تحقیقی مقالہ جات (آرٹیکلز) کا جو معیار ہے وہ ایک آدھ استشنیٰ کے علاوہ کسی طور پر بھی عالمی معیار کا نہیں ہوتا۔ کیونکہ سفارش' کرپشن اور سیاست ان چیزوں پر بری طرح اثر انداز ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ اس میدان میں بہت ساری اور باتیں بھی ہیں جو خوف فساد خلق سے ناگفتہ ہوں تو بہتر ہے۔ لہٰذا اگر کسی کے دل میں واقعی ملک و قوم کی ترقی او ر تعلیم کے معیار کو بلند کرنے کا درد اور شوق ہے تو اس آوے کو ٹھیک کرنا ہوگا ورنہ ایک اور ادارے کے قیام سے چند لوگوں کو روز گار ملنے کے سوا کوئی زیادہ امید قائم کرنا خوش فہمی سے زیادہ نہیں ہوگا۔

متعلقہ خبریں