Daily Mashriq

ہمارے بچپن کی عید

ہمارے بچپن کی عید

چلیں جناب اب عید کی تیاریاں شروع ہوگئیں ہمیں ان تیاریوں کا احساس اس طرح دلایا گیا کہ ہمارا تیرہ سالہ بیٹا احتشام منہ پھلا کر اپنی ماں سے کہنے لگا کہ اب بابا سے کہو مجھے زیادہ عیدی دیا کریں اب میں بڑا ہوگیا ہوں !ہمیں اس کے اس بڑے ہونے والے جملے نے بڑا لطف دیا ہم دل میں سوچ رہے تھے کہ بڑے تو ابھی تک ہم بھی نہیں ہوئے یہ کیسے بڑا ہوگیا ہے ؟ویسے عید ہوتی ہی بچوں کی ہے اگر بندہ بڑا ہوجائے تو پھر عید کیسی ؟بڑے تو عید کی آمد کے ساتھ ہی اس کے اخراجات کے حوالے سے فکرمند ہوجاتے ہیں مہمانداریاں شروع ہوجاتی ہیں گھر کے سب افراد کے لیے نئے ملبوسات کا انتظام وغیرہ بچوں نے نئے جوتے ضرور خریدنے ہوتے ہیں یقینا عید کی خوشیاں تو بچپن تک ہی محدود ہوتی ہیںجب ہم چھوٹے تھے تو ہمیں عید پرملنے والی ننھی منی خوشیاں کتنا لطف دیتی تھیں یقینا سب سے بڑی خوشی تو عیدی کی ہوتی تھی پھر نئے شوز اور نئے کپڑے اس پر مستزاد!عید سے دو تین مہینے پہلے پیسے جمع کرنے کا سلسلہ شروع ہوجاتا تھا اب تو ہمارے بچے میلوں سے محروم ہوچکے ہیں ہمیں سب سے زیادہ خوشی میلے پر جانے کی ہوا کرتی تھی کوہاٹی چوک کے پہلو اور نمک منڈی میں مشتاق شیر فروش کے سامنے چھوٹی سی میدانی میں میلے لگا کرتے تھے۔ لکڑی سے بنے ہوئے گول جھولے ہوا کرتے تھے گھوڑے اور کرسیاں رسیوں سے لٹک رہی ہوتیں ۔ایک دوسرا جھولا بھی ہوا کرتا جسے آج کل ہوائی جھولا کہتے ہیں یہ پشاور کے شاہی باغ فن لینڈ میں اب تو سال کے بارہ مہینے لگا رہتا ہے ہمارے زمانے میں یہ لکڑی کی بنی ہوئی دو کرسیوں پر مشتمل ہوتا تھا جس میں آٹھ بچے بیٹھا کرتے تھے ۔پلاسٹک کے بنے ہوئے کھلونے زمین پر رکھ کر بیچے جاتے وہ آنے اور روپے کا زمانہ تھا ایک روپے میں 16 آنے ہوتے تھے جھولے کا کرایہ بھی دو آنے ہوتا تھا آپ ذرا سوچئیے !ایک روپے میں موجود 16 آنے ختم کرنا مشکل ہوجاتا ہم سب بچوں کو ایک ایک روپیہ عیدی کا گھر سے ملتا اور ساتھ ہی یہ کہا جاتا کہ یہ تین دنوں کی عیدی ہے اور جو عیدی تمہیں ماموں چچا وغیرہ دیں گے وہ ماں کے پاس جمع کروانی ہے کیا سادگی کا زمانہ تھا ہم اپنے والد صاحب کی ہدایت کے عین مطابق باہر سے ملنے والی عیدی ماں جی کے پاس جمع کرواتے رہتے اور پھر عید کے بعد ہمیں یاد بھی نہ رہتا کہ ہماری عید ی کتنی تھی اور کہاں خرچ ہوئی؟پروین شاکر نے کہا تھا کہ بچے ہمارے عہد کے چالاک ہوگئے آج بچے اپنی عیدی کو سنبھال کر رکھتے ہیں خود کھاتے پیتے ہیں خود خرچ کرتے رہتے ہیں وہ آپ کو اپنے پیسوں کی ہوا بھی لگنے نہیں دیتے اور آج کی عیدی بھی ہزارو ں میں چلی گئی ہے ہمارے زمانے میں لگنے والے میلے اب ناپید ہوچکے ہیں۔ اب نمک منڈی اور کوہاٹی چوک سے پیدل راہگیروں کا گزرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہوچکا ہے تو میلے کیسے لگیں ؟پہلے پشاور میں چھوٹے چھوٹے پارک ہوا کرتے تھے جنہیں پتی کہاجاتا تھا جیسے گنج کی پتی، آسیہ کی پتی یہاں پر بھی عید کے تین دن میلے لگا کرتے تھے اب یہ پتیاں تقریباً نابود ہوچکی ہیں اب وہاں شادی ہال تعمیرہو چکے ہیں۔شہر میں لگنے والے چھوٹے چھوٹے میلے سستی تفریح تھی لیکن اب پشاور شہر اتنا گنجان آباد ہوچکا ہے کہ شہری آبادی کے اندر ریڈی میڈ میلا لگانا ممکن ہی نہیں رہا!چا چا یونس پارک پشاور کے باسیوں کے لیے ایک اچھی تفریح گاہ ثابت ہوسکتاتھا اگر اس کا سائز بڑا ہوتا کنجوس کے دل کی طرح تنگ پشاور شہر کے اس واحد پارک میں جگہ کی تنگی کے باعث بہت کم لوگوں کی گنجائش ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ عوامی تفریح کے لیے بنائے گئے اس پارک میں ہرچیز کی قیمت دوگنی تگنی وصول کی جاتی ہے !اسی طرح شاہی باغ میں فن لینڈ قائم کرکے ایک اچھے بھلے باغ کو تباہ کردیا گیا ہے۔ آس پاس کے کالجز کے طلبہ یہاں سارا دن سنوکر کھیلتے رہتے ہیں۔ٹھیکیداری نظام کی وجہ سے یہاں بھی ہر چیز مہنگے داموں فروخت کی جاتی ہے ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ عوام کی سہولت کے حوالے سے سوچا جاتا عوام کو سستی تفریح مہیا کی جاتی ! اب اس کا کیا علاج کہ بیچارے عوام کے لیے ہر دور کے حکمرانوں کے پاس صرف سہانے سپنے اور وعدے ہوتے ہیں جو کبھی بھی ایفا نہیں ہوتے!اب عید پر ہوائی فائرنگ ایک بہت بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ اس بیہودگی کا علاج کسی کے پاس نہیں ہے اپنے گھر کی چھت پر کھڑے ہوکر ہوائی فائرنگ کی جاتی ہے بے حسی اتنی زیادہ ہے کہ ایک لمحے کے لیے بھی نہیں سوچا جاتا کہ ہماری گولی سے کوئی قیمتی جان ضائع ہوسکتی ہے لیکن اس کے باوجود اس طرف توجہ نہیں دی جاتی۔ اب تو پولیس نے پشاور شہر کے مختلف چوراہوں میں باقاعدہ پینا فلیکس آویزاں کر رکھے ہیں جن پر جلی حروف میں لکھا ہوا ہے ''ہوائی فائرنگ سے اجتناب کیجیے اپنی چند لمحے کی خوشی کے لیے کسی کا گھر مت اجاڑئیے ''کاش کہ ان باتوں پر عمل بھی کیا جاتا!ہر سال حکومت کی طرف سے کھلونا بندوق کی فروخت پر پابندی کے اعلان تو کیے جاتے ہیں لیکن اس کے باوجود پشاور شہر میں یہ کاروبار دھڑلے سے جاری ہے۔ جب ہم اپنے بچوں کو کھلونا بندوق مہیا کرنے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرتے توپھر ہوائی فائرنگ کی روک تھام کیسے کرسکتے ہیں ؟۔

اداریہ