Daily Mashriq


عوام کی توہین کے بہانے

عوام کی توہین کے بہانے

بعض خبریں انسان کو ماضی کے ساتھ جوڑنے کا باعث بن جاتی ہیں ، تاہم حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ ماضی کا تذکرہ کرتے ہوئے آج کے سوشل میڈیا کے نہ ہونے کے باوجود جس سرعت اور تیزرفتاری سے اس دور میں خبریں پھیلتی تھیں وہ کسی معجزے سے کم نہیں تھا ، اور یہ جو آج سوشل میڈیا پر ایک لفظ وائر ل کا استعمال کیا جاتا ہے یعنی آناً فاناً دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک کسی خبر تصویر یا پھر ویڈیو کے پہنچ جانے کی بات کی جاتی ہے ، اس دور میں اسے سینہ گزٹ کہا جاتا تھا ، اور یہ خبرکی نوعیت پر منحصر ہوتا تھا کہ اسے صرف سینہ بہ سینہ ہی جاری رکھا جائے یا پھر اگلے ایک دو دن کے دوران ایسی خبریں اخبارات کی زینت بھی بنا دی جائیں ۔ جس دور کی میں بات کر رہا ہوں وہ ملک میں ایوبی آمریت کے عروج کا زمانہ تھا ، اور فیلڈ مارشل (؟) ایوب خان کے اقتدار کا سورج نصف النہار پر ہونے کی وجہ سے ان کے گرد حاشیہ برادروں اور چا پلوسوں کا ایک حلقہ ہوتا تھا ۔ بعد میں اس قسم کے حلقوں کیلئے کچن کیبنٹ کی ترکیب استعمال ہونے لگی تھی ۔ 

تاہم اس دور میں حکمرانوں کو حقیقی حالات سے باخبر کرنے کی نہ تو کسی میں جرأت تھی نہ ہی حکمران ایسی دل آزاری والی باتیں سننے کے عادی تھے ۔ اس لئے ہر مصاحب (وزیر ) ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر صدر مملکت کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے تعریفوں کے پل باندھ کر چاپلوسی کی حد وں کو بھی عبور کرنے میں لگا ہوتا ۔ جبکہ حقیقت یہ تھی کہ ایوبی آمریت کے خلاف ملک کے اندرعمومی فضا تبدیل ہونے کے آثار ہوید ا تھے۔ اس دور کی ایک حقیقت یہ بھی تھی کہ پریس ٹرسٹ کے ذریعے ملک کے پریس کو کنٹرول میں رکھنے پر تمام بڑے اخبارات پر حکومت کا کنٹرول قائم کیا جا چکا ہوتھا اور ان کا اخبارات میں صرف (مثبت ) قسم کی خبریں چھاپ کر صدر ایوب کے گن گانے کا سلسلہ جاری تھا ۔خبر یہ ہے کہ خیبر پختونخوا کے وزیر ، ر یو نیو اور تحریک انصاف کے رہنما علی امین گنڈہ پور نے اپنے حلقہ انتخاب ڈیرہ اسماعیل خان میں اپنے ووٹر وں کو خوش کرنے اور انہیں عید گفٹ دینے کا انوکھا اعلان کیا ہے کہ 23جون ( جب یہ کالم تحریر کیا جارہا تھا ) کو موصوف اپنے حلقے میں عیدی گلائیڈر جہاز کے ذریعے تقسیم کریں گے۔ عیدی نقد رقم اور پھولوں پر مشتمل ہوگی ، آسمان سے گرائی جانے والی یہ عیدی صرف عوام کیلئے ہوگی۔ اس کے علاوہ بچوں کیلئے ہزاروں روپے کے کوپن بھی گرائے جائیں گے ۔ جب تک یہ کالم آ پ کی نظروں سے گزرے گا تب تک یہ کام کیا جا چکا ہوگا ۔ موصوف نے یہ فیصلہ کیوں اور کس ذہنی کیفیت کے دوران کیا ، تاہم اس خبر نے ہی تو مجھے ماضی کے جھرو کوں میں جھانکنے پر مجبور کردیا تھا ، اور مجھے ایوبی آمریت کا وہ دور یاد آگیا جب لگ بھگ ایسا ہی مشورہ ایوب خان کو بھی دیا گیا تھا ۔ یعنی ایک بار ایو ب خان (سابق ) مشرقی پاکستانی کے دورے سے واپس اسلام آباد آرہے تھے صدارتی طیارے میں ان کے ساتھ ان کی کابینہ کے اہم وزراء بھی سوار تھے ، نہ جانے ایک کابینہ کے ان چاپلوس افراد میں سے ایک کے ذہن رسا میں کیا خبط سمایا کہ اس نے کہا ، جناب صدر اگر آ پ سو روپے کے ایک نوٹ پر دستخط کر کے طیارے سے نیچے گرادیں توجسے یہ نوٹ ملے گا وہ اپنے آپ کو دنیا کا خوش نصیب انسان سمجھے گا۔

یادر ہے کہ اس وقت ایک امریکی ڈالر پاکستانی روپے کی قدر کے مطابق تقریباًڈھائی تین روپے کا تھا ، اب تو دوسرے وزراء میں بھی صدر ایوب کو خوش کرنے کی دوڑ چل پڑی ، دوسرے نے کہا ، سو کے نوٹ کی بجائے اگر پچا س پچاس کے دو نوٹ گرائے جائیں تو دد افراد کی خوشی کا ٹھکانہ نہیں رہے گا ،تیسرا کیوں پیچھے رہتا ، اس نے دس دس کے دس نوٹ پھینکنے کی بات کی۔ اس دور کے وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو چاپلوسوں کے ایک سے بڑھ ایک مشوروں پر دل ہی دل میں پیچ و تاب کھارہے تھے ، ان سے نہ رہا گیا اور دبے لفظوں میں مشورہ دیا کہ کیوں نہ صدرمملکت ہی کو نیچے پھینک دیا جائے ، پورا پاکستان اطمینان و سکون محسوس کرے گا ۔ بقول مسرور جالندھری

جو بھی چاہو نکال لو مطلب

خامشی گفتگو پہ بھاری ہے

تاہم اس پرانے لطیفے کو دہرانے کا مقصد وہ نہیں جو آ پ سمجھ رہے ہیں ۔ البتہ اس فیصلے میں ( جس پر اب تک شاید عمل در آمد ہو بھی چکا ہوگا ) کچھ مسائل بھی دکھائی دیتے ہیں اور وہ یہ کہ یہ جو موصوف نے پابندی لگائی ہے کہ یہ عیدی صرف عوام کیلئے ہے ، تو اس فیصلے پر عمل در آمد کیوں کر ممکن ہے اور عوام کے علاوہ راہ چلتے ڈیوٹی دیتے سرکاری اہلکاران تحفوں کو ہاتھ لگانے سے احتراز کیوں کریں گے ، دوسرے یہ کہ بچوں کیلئے ہزاروں کے کوپن کیسے صرف بچوں تک ہی پہنچ سکیں گے ، ویسے ساری صورتحال کا ایک اور پہلو بھی ہے کہ خدا جانے ہمارے حکمران اور وہ طبقات جنہیں اللہ تعالیٰ نے نواز رکھا ہے وہ عوام کا مذاق اڑانے او ر توہین کرنے کے مواقع کیوں ڈھونڈ تے رہتے ہیں ۔ ملک میں زکوٰاة کی تقسیم کا سرکاری نظام ہو ، بے نظیر انکم سپورٹ کے نام کا مذاق یا اور کوئی سلسلہ ، یہ حکمران طبقات عوام کی مجبوریوں کو بھی فوٹو سیشن اور اس طرح کی سرگرمیوں کیلئے تقریبات منعقد کر کے عوام کی توہین کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھتے

تنگدستی اگر نہ ہو سالک

تندرستی ہزار نعمت ہے

متعلقہ خبریں